پاک بحریہ کا عظیم کارنامہ

دانیال جیلانی

بحیرۂ عرب کی بے رحم لہریں جب طوفانی موسم میں اپنے جلال پر ہوں تو بڑے سے بڑا بحری جہاز بھی بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی کارگو کشتی کا انجن ناکارہ ہوجائے، انجن روم میں پانی بھرنے لگے اور عملے کی زندگیاں چند لمحوں کی مہمان محسوس ہونے لگیں تو ہر گزرتا لمحہ زندگی اور موت کے درمیان ایک فیصلہ کن حد بن جاتا ہے۔ ایسے ہی نازک موقع پر پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے جس پیشہ ورانہ مہارت، برق رفتاری اور جذبۂ خدمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارگو کشتی "الحمدان یعقوب” کے تمام 20 پاکستانی عملے کو بحفاظت ریسکیو کیا، وہ صرف ایک کامیاب آپریشن نہیں بلکہ قومی عزم، تربیت اور انسانی خدمت کی روشن مثال ہے۔
کراچی سے خلیجِ عمان کی جانب سفر کرنے والی کارگو کشتی اورماڑہ کے جنوب میں اچانک شدید خطرے سے دوچار ہوگئی، جب اس کے انجن روم میں پانی بھرنا شروع ہوگیا۔ خراب موسم، بلند و بالا سمندری لہریں اور وقت کی تنگی کسی بھی ریسکیو آپریشن کو انتہائی دشوار بناسکتی تھیں۔ ایسے حالات میں معمولی تاخیر بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی تھی، مگر امدادی کال موصول ہوتے ہی پاک بحریہ نے فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ جدید جنگی جہاز پی این ایس حنین، سی کنگ ہیلی کاپٹر اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ڈیفنڈر جہاز نے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
یہ کامیابی محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ انسان دوستی، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی بہترین مثال ہے۔ سمندر میں ریسکیو آپریشن زمینی امدادی سرگرمیوں کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ تیز ہوائیں، اونچی لہریں، محدود بصارت اور مسلسل بدلتے موسمی حالات کسی بھی منصوبے کو ناکام بناسکتے ہیں، مگر پاک بحریہ کے اہلکاروں نے ثابت کیا کہ اعلیٰ تربیت، جدید وسائل اور بروقت فیصلے ناممکن کو بھی ممکن بناسکتے ہیں۔
اس کامیاب آپریشن کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا دوسرا کامیاب ریسکیو مشن تھا۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ ہمارے بحری ادارے صرف دفاعی مشقوں تک محدود نہیں بلکہ ہر لمحہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہتے ہیں۔ ایسی مستقل تیاری کسی بھی جدید اور ذمے دار بحری قوت کی پہچان ہوتی ہے۔
عوام کی نظر میں پاک بحریہ کا سب سے بڑا کردار ملکی سمندری سرحدوں کا دفاع ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ پاک بحریہ نہ صرف دشمن کی جارحیت کے خلاف قومی دفاع کو یقینی بناتی ہے بلکہ سمندری تجارت کے تحفظ، بحری قزاقی کی روک تھام، قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں، سرچ اینڈ ریسکیو مشنز اور انسانی جانوں کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی جدید بحری افواج اب صرف جنگی طاقت نہیں بلکہ انسانی امداد اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے اعتبار سے بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں اور پاک بحریہ اس معیار پر پورا اترتی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے لیے سمندر کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ملکی درآمدات اور برآمدات کا بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ بندرگاہوں، بحری تجارت، ماہی گیری اور بلیو اکانومی کا براہِ راست تعلق قومی معیشت سے ہے۔ اگر سمندری راستے محفوظ نہ ہوں تو نہ صرف تجارت متاثر ہوتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ اسی لیے پاک بحریہ کا مؤثر کردار صرف دفاعی نقطۂ نظر سے اہم نہیں بلکہ معاشی استحکام اور قومی ترقی کے لیے بھی ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ ہمارے دفاعی ادارے صرف ہتھیار اٹھانے والے سپاہی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے محافظ بھی ہیں۔ جب بھی کسی شہری کی زندگی خطرے میں پڑتی ہے تو یہی ادارے اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ یہی جذبۂ خدمت قوم اور اداروں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو کسی مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑتی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کامیاب آپریشنز کو صرف خبروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں قومی سطح پر سراہا جائے۔ ایسے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنانے کے لیے جدید بحری جہاز، جدید ہیلی کاپٹر، ریسکیو آلات، نگرانی کے جدید نظام اور عالمی معیار کی تربیت میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات، موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی سمندری سرگرمیوں کے پیشِ نظر سرچ اینڈ ریسکیو صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بحیرۂ عرب میں 20 پاکستانیوں کو محفوظ زندگی واپس دلانے والا یہ آپریشن ایک یادگار قومی کامیابی ہے۔ یہ صرف ایک ریسکیو مشن نہیں بلکہ اس اعتماد کا اظہار ہے کہ جب بھی قوم پر مشکل وقت آئے گا، پاک بحریہ ہر ممکن وسائل اور بھرپور عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہوگی۔ ایسے کارنامے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہمارے محافظ صرف سرحدوں کے نگہبان نہیں بلکہ امید، اعتماد اور انسانیت کے امین بھی ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی مضبوط اور ذمے دار ریاست کی حقیقی پہچان بنتا ہے۔