آکٹوپس، سمندر کا ذہین عجوبہ

اسد احمد

قدرت کی تخلیق میں ایسے بے شمار راز پوشیدہ ہیں جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ زمین پر موجود لاکھوں جانداروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے سائنس دانوں اور عام لوگوں دونوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ انہی میں سے ایک حیرت انگیز جانور آکٹوپس ہے، جسے سمندر کی ذہین ترین مخلوق بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی غیر معمولی صلاحیتیں، حیران کن ذہانت اور پُراسرار طرزِ زندگی اسے دنیا کے منفرد ترین جانوروں میں شامل کرتی ہیں۔
آکٹوپس ایک سمندری جانور ہے جس کے آٹھ بازو ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے انگریزی میں "Octopus” کہا جاتا ہے، جس کا مطلب آٹھ پاؤں والا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سمندری مخلوق دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں اس کے اندر ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے دوسرے جانوروں سے بالکل مختلف بناتی ہیں۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ آکٹوپس کے تین دل ہوتے ہیں۔ جی ہاں، جہاں انسان اور اکثر جانور ایک دل رکھتے ہیں، وہاں آکٹوپس کے جسم میں تین دل دھڑکتے ہیں۔ ان میں سے دو دل خون کو گلپھڑوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ تیسرا دل پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کا خون سرخ نہیں بلکہ نیلا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ خون میں موجود ایک خاص مادہ ہے جو سمندر کی گہرائیوں میں آکسیجن پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔
آکٹوپس کی ذہانت سائنس دانوں کو بھی حیران کر چکی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کئی تجربات میں دیکھا گیا کہ آکٹوپس بند ڈبے کھول سکتا ہے، راستے یاد رکھ سکتا ہے اور بعض اوقات انسانوں کے چہروں میں فرق بھی پہچان لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی ذہانت بعض پالتو جانوروں جیسے بلی اور کتے کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
اس جانور کی ایک اور حیران کن خصوصیت اس کا روپ بدلنا ہے۔ آکٹوپس چند سیکنڈ کے اندر اپنے جسم کا رنگ اور بناوٹ تبدیل کرسکتا ہے۔ اگر یہ کسی چٹان کے قریب ہو تو چٹان جیسا نظر آنے لگتا ہے اور اگر ریت پر ہو تو ریت کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ اس صلاحیت کی بدولت یہ دشمنوں سے بچ نکلتا ہے اور شکار کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سمندر کا "ماسٹر آف ڈسگائز” بھی کہا جاتا ہے۔
اگر کسی آکٹوپس کا بازو کٹ جائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے اسے ایک اور حیرت انگیز صلاحیت دی ہے۔ یہ اپنے کٹے ہوئے بازو کو دوبارہ اگا سکتا ہے۔ چند ماہ کے اندر نیا بازو مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے۔ دنیا میں بہت کم جانور ایسے ہیں جن کے جسم کا حصہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔
آکٹوپس کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کے جسم میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے یہ انتہائی چھوٹے سوراخوں اور تنگ جگہوں سے بھی گزر سکتا ہے۔ اگر اس کا سر کسی سوراخ میں داخل ہوجائے تو پورا جسم آسانی سے اس کے پیچھے نکل آتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے یہ اپنے دشمنوں سے بچنے میں کامیاب رہتا ہے۔
سمندروں کی گہرائیوں میں رہنے والا یہ جانور نہ صرف ذہین بلکہ بعض اوقات حیران کن طور پر شرارتی بھی ثابت ہوتا ہے۔ مختلف ایکویریمز میں موجود آکٹوپس کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے رات کے وقت اپنے ٹینک سے نکل کر دوسرے ٹینکوں میں موجود مچھلیوں کا شکار کیا اور پھر واپس اپنی جگہ لوٹ گئے۔ بعض نے تو بلب بند کرنا اور پانی کے فوارے چلانا بھی سیکھ لیا۔
آکٹوپس کی زندگی اگرچہ حیرت انگیز ہے لیکن افسوسناک حد تک مختصر بھی ہوتی ہے۔ زیادہ تر اقسام صرف ایک سے پانچ سال تک زندہ رہتی ہیں۔ مادہ آکٹوپس انڈے دینے کے بعد کئی ماہ تک ان کی حفاظت کرتی ہے اور اس دوران قریباً کھانا بھی نہیں کھاتی۔ جب بچے نکل آتے ہیں تو اکثر مادہ کی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ ماں کی یہ قربانی قدرت کے ان انوکھے مظاہر میں سے ایک ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
سائنس دان آج بھی آکٹوپس کے دماغ اور اس کی صلاحیتوں پر تحقیق کررہے ہیں۔ بعض ماہرین تو اسے زمین کے عجیب ترین جانداروں میں شمار کرتے ہیں۔ اس کی ذہانت، جسمانی ساخت اور رویے اتنے منفرد ہیں کہ بعض لوگ مزاحاً اسے "سمندر کی خلائی مخلوق” بھی کہتے ہیں۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور سمندری آلودگی بڑھ رہی ہے تو آکٹوپس سمیت بے شمار سمندری مخلوقات خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا فضلہ، آلودہ پانی اور ماحولیاتی تبدیلیاں ان کی بقا کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ اگر ہم سمندروں کو محفوظ نہیں بنائیں گے تو آنے والی نسلیں شاید ان حیرت انگیز مخلوقات کو صرف کتابوں اور تصویروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔
آکٹوپس قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہماری دنیا اب بھی بے شمار رازوں سے بھری ہوئی ہے۔ تین دل، نیلا خون، آٹھ بازو، رنگ بدلنے کی صلاحیت اور غیر معمولی ذہانت رکھنے والا یہ جانور واقعی سمندر کا ایک زندہ عجوبہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار آکٹوپس کے بارے میں جان لیتا ہے، وہ اس حیرت انگیز مخلوق کو کبھی نہیں بھول پاتا۔