نئی دوا سے الزائمر کے مؤثر علاج کی امید روشن ہوگئی

کراچی: سائنس دانوں نے ایک نئی تجرباتی دوا کے سی ایل-286 تیار کی ہے، جس نے ابتدائی تحقیق میں الزائمر کی بیماری سے متعلق دماغی نقصان کو کم کرنے کے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔
جرنل ایف ای بی ایس اوپن بائیو میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق یہ دوا دماغی خلیوں میں ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کرنے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ دونوں عوامل الزائمر کے ابتدائی مراحل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ کے سی ایل-286 نے دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے اور سوزش میں کمی لانے میں مثبت اثرات دکھائے، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں یہ دوا صرف علامات کو کم کرنے کے بجائے بیماری کی رفتار بھی سست کرسکتی ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور کنگز کالج لندن کے پروفیسر جوناتھن کورکورن کے مطابق یہ دوا صحت مند رضاکاروں پر فیز وَن انسانی حفاظتی آزمائش کامیابی سے مکمل کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب الزائمر کے مریضوں پر اس کی آزمائش میں سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی نہیں بلکہ فنڈنگ ہے، کیونکہ دوا کلینیکل ٹرائلز کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کی افادیت اور حفاظت کی مکمل تصدیق کے لیے الزائمر کے مریضوں پر مزید بڑے پیمانے پر کلینیکل آزمائشیں ضروری ہیں۔