نئے انتظامی یونٹس: فاصلے بدلنے ہوں گے

وقاص بیگ

ریاست صرف سرحدوں، دارالحکومتوں اور سرکاری عمارتوں کا نام نہیں۔ ریاست دراصل اُس فاصلے کا نام بھی ہے جو ایک عام شہری اور اُس کے حق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کو اپنے جائز کام کے لیے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں کا سفر کرنا پڑے، ایک فائل کی پیش رفت کے لیے بار بار ضلعی یا صوبائی مرکز کے چکر لگانے پڑیں، علاج، تعلیم، انصاف اور روزگار کی بنیادی سہولتیں اُس کی دسترس سے دُور ہوں تو پھر مسئلہ محض انتظامی نہیں رہتا، یہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کا سوال بن جاتا ہے۔ پاکستان آج اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں پرانے انتظامی سانچے کو نئے تقاضوں کے سامنے رکھ کر دیکھنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ آبادی بڑھ چکی، شہر پھیل چکے، معاشی سرگرمیوں کے مراکز تبدیل ہوچکے، نئی آبادیاں وجود میں آچکی ہیں، مگر انتظامی اختیار کی بہت سی لکیریں اب بھی اُس دور کی یاد دلاتی ہیں جب فاصلے ناپنے کے لیے گاڑیاں نہیں، گھوڑے اور بیل گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی بحث محض سیاسی نعرہ نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ قومی ضرورت کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ہمیں ایک بنیادی سوال خود سے پوچھنا ہوگا، کیا انتظامی ڈھانچہ عوام کی سہولت کے لیے ہے یا عوام انتظامی ڈھانچے کے لیے؟
اگر ایک شہری کو ریاستی خدمت حاصل کرنے کے لیے ریاست کے پیچھے بھاگنا پڑے تو نظام میں کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی ضرور موجود ہے۔ دنیا کے کامیاب انتظامی ماڈلز کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اختیار اور فیصلہ سازی کو ممکن حد تک شہری کے قریب رکھا جائے۔ مقامی سطح پر مضبوط ادارے صرف فائلوں کی رفتار نہیں بڑھاتے بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔ جب شہری اپنے علاقے میں فیصلہ ہوتا دیکھتا ہے تو ریاست اُس کے لیے کوئی دور کھڑی ہوئی عمارت نہیں رہتی، بلکہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت بن جاتی ہے۔ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر انتظامی مسئلے کا حل لازماً نیا صوبہ ہو۔ کہیں نیا صوبہ موزوں ہوسکتا ہے، کہیں نیا ڈویژن، کہیں نیا ضلع اور کہیں اختیارات کی حقیقی منتقلی ہی کافی ہوسکتی ہے۔ اصل ضرورت کسی مخصوص نقشے کو مقدس سمجھنے کے بجائے عوامی ضرورت کو فیصلہ سازی کا مرکز بنانا ہے۔ ہماری سب سے بڑی خامی شاید یہ ہے کہ ہم انتظامی اصلاحات کو سیاسی تقسیم کے چشمے سے دیکھتے ہیں۔ کوئی نیا یونٹ تجویز ہو تو فوراً یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کا فائدہ کس جماعت کو ہوگا، کس علاقے کی سیاسی طاقت بڑھے گی اور کس کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ لیکن اس بحث میں وہ شخص کہیں پیچھے رہ جاتا ہے جو سرکاری اسپتال کی قطار میں کھڑا ہے، وہ طالب علم جو اعلیٰ تعلیم کے لیے سیکڑوں کلومیٹر دور جانے پر مجبور ہے، وہ کسان جو اپنی زمین کے معاملے کے لیے بار بار دفتر کے چکر کاٹتا ہے اور وہ نوجوان جسے روزگار کے مواقع اپنے علاقے میں میسر نہیں۔
ریاست کا اصل امتحان یہی شہری ہے۔ اگر انتظامی یونٹ چھوٹا ہونے سے اسکول بہتر ہوجائیں، اسپتال تک رسائی آسان ہوجائے، پولیس اور عدالت شہری کے قریب آجائیں، سرکاری دفتر تک پہنچنے کا وقت کم ہوجائے، سرمایہ کاری کے نئے مراکز پیدا ہوں اور مقامی معیشت کو اپنے فیصلے کرنے کی گنجائش ملے تو پھر انتظامی اصلاحات کو محض سیاسی تقسیم کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بڑے انتظامی یونٹس میں مرکزیت بعض اوقات اتنی مضبوط ہوجاتی ہے کہ دور دراز علاقوں کے مسائل فیصلہ سازوں تک پہنچتے پہنچتے اپنی شدت کھو دیتے ہیں۔ فائل اوپر جاتی ہے، جواب نیچے آتا ہے، مگر مسئلہ وہیں رہتا ہے۔ مقامی ضرورت اور صوبائی ترجیح کے درمیان یہی فاصلہ کئی منصوبوں کو کاغذوں تک محدود کردیتا ہے۔
نئے انتظامی یونٹس اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے صرف نئے نام اور نئی تختیاں کافی نہیں ہوں گی۔ اگر نیا ضلع بنے اور دفتر وہی پرانا ہو، نیا ڈویژن بنے مگر اختیارات وہیں رہیں، نیا صوبہ بنے مگر وسائل کی تقسیم کا طریقہ نہ بدلے تو پھر نقشہ تو تبدیل ہوگا، نظام نہیں۔ اس لیے بحث کا اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے کہ اختیار کہاں ہوگا؟ وسائل کس کے پاس ہوں گے؟ فیصلے کتنی جلد ہوں گے؟ اور عوام کو جواب دہ کون ہوگا؟
ہمیں نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ایک ایسا نظام بھی درکار ہے جس میں مقامی حکومتیں مضبوط ہوں، مالی وسائل نچلی سطح تک پہنچیں، سرکاری ادارے جدید ٹیکنالوجی سے منسلک ہوں اور شہری کو اپنے کام کے لیے غیر ضروری دفاتر کے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ نئے یونٹس کا فیصلہ جذباتی بنیادوں پر نہ ہو۔ آبادی، رقبہ، وسائل، معاشی صلاحیت، جغرافیائی فاصلے، مواصلاتی رابطے اور انتظامی ضرورت کو سامنے رکھ کر ماہرین کی مدد سے واضح معیار وضع کیا جائے۔ پھر جو علاقہ ان معیار پر پورا اترے، وہاں اصلاحات کی راہ کھولی جائے۔ پاکستان کو چھوٹے نقشوں کی نہیں، قریب تر حکومت کی ضرورت ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کہ انتظامی تقسیم لازماً قومی تقسیم نہیں ہوتی۔ ایک ملک کئی صوبوں، ڈویژنوں، اضلاع اور مقامی حکومتوں میں منظم ہوکر بھی ایک مضبوط وفاق رہ سکتا ہے۔ اتحاد کا انحصار نقشے کے حجم پر نہیں بلکہ آئین، انصاف، مساوی مواقع اور شہری اعتماد پر ہوتا ہے۔ آج اگر ہم اس سوال کو محض سیاسی مصلحت کے ترازو میں تولتے رہے تو آنے والے برسوں میں آبادی اور مسائل دونوں ہم سے آگے نکل جائیں گے۔
وقت کی آواز صاف ہے: اختیار کو عوام کے قریب لاؤ، فیصلے کا سفر مختصر کرو اور ریاست کو شہری کے دروازے تک پہنچاؤ۔ نئے صوبے بنیں یا نئے انتظامی یونٹس، فیصلہ دلیل، اعداد و شمار اور عوامی ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے ترقی نہیں کرتیں، وہ اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب ایک عام آدمی کو یقین ہوجائے کہ ریاست اُس سے بہت دور نہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ نقشے پر کتنی لکیریں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُن لکیروں کے درمیان بسنے والا انسان ریاست کے کتنا قریب ہے۔