روشنی

بلال ظفر سولنگی

سردیوں کی یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی سڑکیں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔ لوگ اپنے گرم گھروں میں سکون سے سورہے تھے، مگر فٹ پاتھ پر درجنوں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے سردی سے کانپ رہے تھے۔ انہی سڑکوں سے گزر رہا تھا ایک عام سا نوجوان، سلمان۔ وہ نہ کوئی امیر آدمی تھا، نہ کسی بڑے ادارے کا مالک۔ ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور تنخواہ بھی بس اتنی تھی کہ گھر کا خرچ مشکل سے چلتا تھا۔
اس رات جب اس نے ایک بوڑھے شخص کو اخبار اوڑھ کر سوتے دیکھا تو اس کے قدم رک گئے۔ اس نے اپنی گاڑی میں رکھا ہوا نیا کمبل نکالا اور خاموشی سے بوڑھے کے اوپر ڈال دیا۔ بوڑھے نے حیرت سے آنکھیں کھولیں، اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بیٹا، تم نے آج صرف مجھے کمبل نہیں دیا، تم نے مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ دنیا میں ابھی انسانیت زندہ ہے۔” یہ جملہ سلمان کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔
اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ ہر ماہ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بے گھر لوگوں کے لیے مختص کرے گا۔ پہلے اس نے صرف پانچ کمبل خریدے، پھر کچھ کھانے کے پیکٹ تیار کیے اور رات کے وقت شہر کی سڑکوں پر نکل گیا۔ لوگ حیران ہوتے کہ ایک عام نوجوان خاموشی سے ضرورت مندوں میں کھانا اور کمبل تقسیم کررہا ہے، مگر سلمان کبھی تصویر نہ بنواتا، نہ سوشل میڈیا پر اپنی تعریف کرتا۔ چند ہفتوں بعد اس کے دو دوست بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ پھر چند اور لوگ آگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دس افراد کی ایک چھوٹی سی ٹیم بن گئی۔ انہوں نے اپنے گروپ کا نام رکھا "روشنی”۔
روشنی گروپ ہر ہفتے بے گھر افراد تک کھانا، کپڑے، دوائیں اور کمبل پہنچاتا۔ لیکن سلمان جانتا تھا کہ صرف کھانا کھلانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ ان لوگوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے۔ ایک دن اسے ایک نوجوان ملا جس کا نام فرحان تھا۔ وہ کئی ماہ سے فٹ پاتھ پر رہ رہا تھا۔ سلمان نے پوچھا، "تم کام کیوں نہیں کرتے؟” فرحان نے آہ بھرتے ہوئے کہا، "کوئی مجھ پر اعتبار ہی نہیں کرتا۔”
یہ سن کر سلمان نے فیصلہ کیا کہ صرف امداد نہیں، بلکہ بحالی کا کام بھی کرے گا۔ اس نے اپنے دوستوں کی مدد سے فرحان کے شناختی دستاویزات بنوائے، اسے صاف کپڑے دلوائے اور ایک ورکشاپ میں ملازمت دلوادی۔ صرف 6 ماہ بعد فرحان کی زندگی بدل چکی تھی۔ اب وہ کرائے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا اور ہر ماہ اپنی آمدن میں سے کچھ رقم "روشنی” کو عطیہ کرتا تھا۔ اس کامیابی نے سلمان کو مزید حوصلہ دیا۔
رفتہ رفتہ اس نے مقامی تاجروں سے رابطہ کیا۔ کچھ نے راشن دیا، کچھ نے گرم کپڑے، کچھ نے دوائیں اور کچھ نے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ شہر کے ڈاکٹروں نے بھی ہفتے میں ایک دن بے گھر افراد کا مفت معائنہ شروع کردیا۔ ایک دن شدید بارش کے دوران سلمان نے دیکھا کہ کئی خاندان پل کے نیچے بھیگ رہے ہیں۔ چھوٹے بچے سردی سے کانپ رہے تھے۔ اس منظر نے اس کا دل ہلا دیا۔ اسی رات اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ فیصلہ کیا کہ شہر میں ایک عارضی پناہ گاہ قائم کی جائے۔
ابتدا میں صرف ایک چھوٹا سا ہال کرائے پر لیا گیا جہاں 25 افراد رہ سکتے تھے۔ وہاں گرم بستر، صاف پانی، کھانا اور بنیادی طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ لوگوں نے اس کام کو سراہا اور مخیر افراد نے مالی تعاون شروع کردیا۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک ہال ایک بڑے شیلٹر ہوم میں تبدیل ہوگیا، جہاں سیکڑوں بے گھر افراد کو رہائش، تعلیم، ہنر کی تربیت اور روزگار کی سہولت ملنے لگی۔ ایک شام ایک دس سالہ بچی، مریم، سلمان کے پاس آئی اور بولی، "انکل، پہلے ہم سڑک پر سوتے تھے، اب میں اسکول جاتی ہوں۔ میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں تاکہ غریبوں کا مفت علاج کر سکوں۔” سلمان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسے احساس ہوا کہ اصل کامیابی عمارتیں بنانا نہیں، بلکہ خواب جگانا ہے۔
چند سال بعد "روشنی” ایک باقاعدہ فلاحی ادارہ بن چکا تھا۔ مختلف شہروں میں اس کے مراکز قائم ہوگئے تھے۔ ہزاروں بے گھر افراد کو رہائش ملی، سیکڑوں نوجوانوں کو ہنر سکھایا گیا، ہزاروں بچوں کو تعلیم دلائی گئی اور بے شمار خاندان دوبارہ باعزت زندگی گزارنے لگے۔
ایک دن ایک صحافی نے سلمان سے پوچھا، "آپ نے اتنا بڑا کام کیسے کر دکھایا؟ کیا آپ کے پاس شروع سے بہت سرمایہ تھا؟” سلمان مسکرایا اور بولا، "میرے پاس صرف ایک کمبل تھا اور دوسروں کے درد کو محسوس کرنے والا دل۔ باقی سب اللہ نے راستے خود بنا دیے۔”
سلمان ہمیشہ اپنی ٹیم کو ایک بات یاد دلاتا تھا، "اگر تم کسی انسان کو صرف ایک وقت کا کھانا دیتے ہو تو اس کی ایک دن کی بھوک مٹتی ہے، لیکن اگر اسے ہنر، روزگار اور امید دیتے ہو تو اس کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔” وقت گزرتا گیا۔ سلمان کے بال سفید ہوگئے، مگر اس کا جذبہ جوان رہا۔ ایک دن وہ اسی سڑک سے گزر رہا تھا جہاں برسوں پہلے اس نے ایک بوڑھے شخص کو کمبل دیا تھا۔ وہاں اب کوئی بے گھر شخص موجود نہیں تھا، کیونکہ شہر میں کئی شیلٹر ہوم قائم ہو چکے تھے۔
اسی دوران ایک خوبصورت گاڑی وہاں آکر رکی۔ ایک باوقار شخص باہر نکلا، سلمان کے قدم چومے اور کہا، "آپ نے مجھے پہچانا؟” سلمان نے غور سے دیکھا مگر پہچان نہ سکا۔
وہ شخص مسکرایا، "میں وہی فرحان ہوں جسے آپ نے فٹ پاتھ سے اٹھا کر زندگی دی تھی۔ آج میری اپنی کمپنی ہے اور میں نے عہد کیا ہے کہ ہر سال سو بے گھر افراد کو روزگار دوں گا۔” سلمان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔
اسے یقین ہوگیا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک اچھا عمل صرف ایک انسان کی زندگی نہیں بدلتا بلکہ وہ نسلوں تک روشنی بانٹتا رہتا ہے۔
اس رات سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ اسے محسوس ہوا کہ دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ایک مخلص دل، ایک سچا ارادہ اور کسی مجبور انسان کا ہاتھ تھامنے کی ہمت ہی کافی ہوتی ہے۔
سبق: زندگی کی سب سے بڑی دولت دولتِ زر نہیں بلکہ وہ دل ہے جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔ ایک چھوٹی سی نیکی، ایک وقت کا کھانا، ایک کمبل، ایک حوصلہ افزا لفظ یا کسی بے سہارا انسان کو روزگار دلانے کی کوشش، معاشرے میں ایسی تبدیلی لا سکتی ہے جس کے اثرات برسوں تک باقی رہتے ہیں۔ انسان کی اصل کامیابی اپنے لیے جینا نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی میں امید کی روشنی بن جانا ہے۔