بلال ظفر سولنگی
بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز زبان اور دھمکی آمیز بیانات نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ نئی دہلی کی قیادت اب بھی ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے کے زیرِ اثر حقیقت پسندی سے دور کھڑی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کا یہ کہنا کہ ’’پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ اور جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں‘‘ محض ایک غیر ذمے دارانہ بیان نہیں بلکہ ایک ایٹمی خطے میں خطرناک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس بیان پر جو سخت ردعمل دیا، وہ دراصل پوری پاکستانی قوم کے جذبات اور قومی مؤقف کی ترجمانی ہے۔ پاکستان کوئی عارضی حقیقت نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر ریاست ہے جو لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آئی۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک دشمن قوتیں مختلف سازشوں، جنگوں اور پراکسی کارروائیوں کے ذریعے اس ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1965 کی جنگ ہو، 1971 کے بعد کی صورت حال، کارگل تنازع ہو یا حالیہ سرحدی کشیدگیاں، پاکستان نے ہر مرحلے پر ثابت کیا کہ وہ اپنے دفاع سے غافل نہیں اور اپنی آزادی و خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بھارت کی موجودہ قیادت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بالادستی کے زاویے سے دیکھتی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پورے خطے میں جارحانہ پالیسی اپنائی۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے لے کر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات تک، بھارت نے مسلسل ایسے فیصلے کیے جنہوں نے نہ صرف خطے کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں اس کی جمہوری ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ آج بھارت کے اندر خود اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں، صحافت پر قدغنیں لگ رہی ہیں اور اختلافِ رائے کو غداری قرار دیا جارہا ہے۔
بھارتی آرمی چیف کا حالیہ بیان اسی انتہا پسندانہ سوچ کا تسلسل ہے۔ ایک ذمے دار فوجی قیادت کبھی بھی کسی خودمختار ایٹمی ریاست کو مٹانے کی بات نہیں کرتی۔ یہ الفاظ نہ صرف عالمی سفارتی آداب کے خلاف ہیں، بلکہ اس خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف بھی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ہر مشکل وقت میں مذاکرات، امن اور خطے کے استحکام کی بات کی، مگر بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اس امر کا ثبوت ہے کہ نئی دہلی امن کے بجائے کشیدگی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ آئی ایس پی آر کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکیاں ’’ذہنی دیوالیہ پن‘‘ کی علامت ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت ناقابلِ تردید ہے۔ پاکستان کی افواج نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت رکھتی ہیں بلکہ پوری قوم کا اعتماد بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دشمن اگر کسی غلط فہمی کا شکار ہے تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات عائد کرنا بھی ایک بڑا تضاد ہے، کیونکہ عالمی سطح پر متعدد رپورٹس اور شواہد یہ ظاہر کرچکے ہیں کہ بھارت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے جوڑے جاتے رہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ بھارت پاکستان کے اندر تخریب کاری کے نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ عالمی برادری کے سامنے ذمے دار ریاست کا کردار ادا کیا۔
معرکۂ حق کے بعد بھارتی قیادت کی پریشانی اور مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے۔ بھارت یہ حقیقت ہضم نہیں کرپارہا کہ پاکستان نہ صرف دفاعی میدان میں مضبوط ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی بات مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی قیادت اب اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے داخلی سیاست کو سہارا دینے کی کوشش کررہی ہے۔ مگر ایسے بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مستقل استحکام نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھارت کے جنگی جنون کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور ماحولیاتی چیلنجز جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایسے میں جنگی ماحول پیدا کرنا خطے کے کروڑوں عوام کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور اب بھی یہی مؤقف رکھتا ہے کہ تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنا بھارت کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ پاکستان ایک ذمے دار، خودمختار اور باوقار ریاست ہے۔ ہماری افواج، ہماری قوم اور ہمارے ادارے ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔ بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دھمکیوں، اشتعال انگیزی اور جنگی بیانیے سے نہ تو پاکستان کو دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ امن صرف برابری، احترام اور سنجیدہ سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر بھارت واقعی خطے میں استحکام چاہتا ہے تو اسے ہندوتوا کی شدت پسند سوچ ترک کرکے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانا ہوگی، ورنہ اس کے اپنے اقدامات پورے خطے کو ایک خطرناک بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔