ہائبرڈ گاڑیاں اور مستقبل کا تقاضا

عبدالعزیز بلوچ

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں توانائی کا بحران، مہنگی درآمدی پٹرولیم مصنوعات، بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور کمزور معاشی صورت حال بیک وقت قومی پالیسی سازوں کے لیے بڑے امتحان بن چکے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد اور مقامی سپلائی پر عائد 25 فیصد سیلز ٹیکس کم کرکے 18 فیصد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تو یہ نہ صرف ایک مثبت قدم ہے بلکہ ایک ایسی دور اندیش حکمت عملی بھی ہے جس کے ثمرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے اثرات قومی معیشت، ماحولیات، توانائی کے تحفظ، عوامی صحت اور صنعتی ترقی تک پھیلیں گے۔
دنیا تیزی سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ کئی ترقی پذیر ریاستیں بھی ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس میں رعایت، سبسڈی، آسان قرضوں اور دیگر مراعات کا سہارا لے رہی ہیں۔ ان ممالک نے یہ حقیقت بہت پہلے تسلیم کرلی تھی کہ مستقبل انہی ٹیکنالوجیز کا ہے جو ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔ اگر پاکستان اس عالمی رجحان سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرتا تو نہ صرف ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا، بلکہ توانائی اور ماحولیات کے مسائل بھی مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔
پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ یہ درآمدات زرمبادلہ کے ذخائر پر بھاری بوجھ ڈالتی ہیں اور معمولی عالمی اتار چڑھاؤ بھی ملکی معیشت کو ہلاکر رکھ دیتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عوام کی زندگی، صنعت، زراعت اور نقل و حمل کے شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ہائبرڈ گاڑیاں ایک مؤثر متبادل کے طور پر سامنے آتی ہیں، کیونکہ یہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ایندھن استعمال کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف صارفین کے ماہانہ اخراجات کم ہوتے ہیں، بلکہ قومی سطح پر بھی تیل کی درآمد میں خاطرخواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہی بچت ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہر ڈالر کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہو۔
فضائی آلودگی پاکستان کے بڑے شہروں کا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہری مراکز میں فضائی معیار کئی مواقع پر خطرناک حد تک گرچکا ہے۔ اس آلودگی کے باعث سانس، دل، الرجی اور دیگر مہلک بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ طبی ماہرین بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ اگر آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ نسلیں اس کے بھیانک نتائج بھگتیں گی۔ ہائبرڈ گاڑیاں نسبتاً کم کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج کرتی ہیں، اس لیے ان کا فروغ صرف ایک ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں بلکہ صحتِ عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کی پالیسی بھی ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں غیر معمولی سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی اور موسم کے غیر متوقع تغیرات نے یہ واضح کردیا ہے کہ ماحولیات سے متعلق فیصلوں میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔ عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے ماحولیاتی وعدوں اور کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں کم ایندھن استعمال کرنے والی اور ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی اسی سمت ایک عملی اور مؤثر قدم ثابت ہوسکتی ہے۔
اس پالیسی کا ایک اور اہم پہلو مقامی صنعت کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت صرف ٹیکس میں کمی تک محدود رہنے کے بجائے مقامی سطح پر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرے، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرے، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنائے اور متعلقہ صنعتوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے تو پاکستان اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کرسکتا ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، آٹو پارٹس کی مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور درآمدی انحصار میں بھی کمی آئے گی۔
اسی طرح الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے چارجنگ اور سروسنگ کا مضبوط انفرا اسٹرکچر بھی ناگزیر ہے۔ اگر ملک بھر میں مناسب تعداد میں چارجنگ اسٹیشن، تربیت یافتہ تکنیکی عملہ اور معیاری بعد از فروخت خدمات دستیاب ہوں تو عوام کا اعتماد بڑھے گا اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار بھی تیز ہوگی۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی ٹیکس پالیسی میں تسلسل ہو۔ اگر ہر سال بجٹ میں بار بار ٹیکس کی شرح تبدیل ہوتی رہی تو نہ سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرسکیں گے اور نہ ہی صارفین اعتماد کے ساتھ فیصلے کر پائیں گے۔ ایک واضح، مستحکم اور مستقبل بین پالیسی ہی اس شعبے کو حقیقی معنوں میں ترقی دے سکتی ہے۔
حکومت اگر واقعی پائیدار معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کی خواہاں ہے تو ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی کی تجویز کو محض ایک مالیاتی فیصلہ نہ سمجھے بلکہ اسے قومی مفاد کی حکمت عملی کا حصہ بنائے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی کابینہ اس تجویز کی جلد منظوری دے گی اور اس کے ساتھ ایسے جامع اقدامات بھی کرے گی جو پاکستان کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے نئے دور میں داخل ہونے میں مدد دیں۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی درحقیقت ایک ایسی سرمایہ کاری ہوگی جس کا فائدہ صرف آج کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر ماحول، مضبوط معیشت، کم ایندھن کے اخراجات اور زیادہ پائیدار مستقبل کی صورت میں ملے گا۔ یہی وہ فیصلے ہوتے ہیں جو قوموں کے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں اور پاکستان کو بھی اب ایسے ہی دور اندیش فیصلوں کی ضرورت ہے۔