غلام مصطفیٰ
پاکستان کی فشریز مصنوعات کی برآمدات کا ملکی تاریخ میں پہلی بار پچاس کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنا ایک بڑی معاشی کامیابی ہے، جس نے نہ صرف ملکی معیشت کو مثبت اشارہ دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ابھرتے ہوئے تشخص کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر درست حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، عالمی معیار اور سنجیدہ حکومتی پالیسی اپنائی جائے تو پاکستان کے روایتی شعبے بھی دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی جانب سے اس پیش رفت کو بلیو اکانومی کے لیے تاریخی سنگ میل قرار دینا حقیقت پر مبنی ہے، کیونکہ سمندری وسائل کسی بھی ساحلی ملک کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے قریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، قیمتی سمندری وسائل اور جغرافیائی لحاظ سے ایک منفرد مقام عطا کیا ہے، مگر بدقسمتی سے ماضی میں اس شعبے کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ حق دار تھا۔ اب پہلی بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان اپنی سمندری معیشت کی اصل صلاحیت کو سمجھتے ہوئے اسے قومی ترقی کا اہم ستون بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کی فشریز مصنوعات کو روسی منڈی تک رسائی ملنا ایک بڑی سفارتی اور تجارتی کامیابی ہے۔ یہ صرف ایک نئی مارکیٹ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے عالمی اعتماد کی علامت بھی ہے۔ روس سمیت یوریشین اکنامک یونین کی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی بڑھتی ہوئی طلب اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستانی مصنوعات کے معیار کو تسلیم کررہی ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں پاکستان کو یورپ، وسط ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں تک بھی مزید رسائی حاصل ہوسکے گی۔
یہ کامیابی پاکستان کے مثبت عالمی امیج کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ دنیا اکثر پاکستان کو صرف سیاسی یا سیکیورٹی تناظر میں دیکھتی رہی ہے، مگر اب معاشی کامیابیاں، برآمدات میں اضافہ اور عالمی معیار کی مصنوعات پاکستان کی ایک نئی پہچان بن رہی ہیں۔ پاکستانی فشریز صنعت کی ترقی دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان صرف ایک دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ معاشی مواقع، سرمایہ کاری اور تجارتی صلاحیتوں سے بھرپور ملک بھی ہے۔
اس کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مقررہ ہدف مالی سال ختم ہونے سے پہلے ہی حاصل کرلیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ اداروں نے معیار، سہولت کاری اور عالمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ عالمی منڈی میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں معیار، حفظانِ صحت، پیکیجنگ اور سپلائی چَین کے سخت اصولوں پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی اداروں نے ان چیلنجز کا مقابلہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ملکی مصنوعات عالمی معیار پر پورا اتر سکتی ہیں۔
تاہم اس کامیابی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ فشریز سیکٹر میں جدید کولڈ اسٹوریج، پروسیسنگ پلانٹس، صاف ستھرے فش ہاربرز اور ماہی گیروں کی تربیت پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ دنیا اب ماحول دوست پالیسیوں اور پائیدار سمندری معیشت کو ترجیح دے رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، تاکہ سمندری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
پاکستان کے ساحلی علاقوں میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر فشریز صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی حالات بھی بہتر ہوسکیں گے۔ بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے اور مقامی معیشت مضبوط ہوسکتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائے اور عالمی سطح پر پاکستانی سی فوڈ کی مؤثر برانڈنگ کرے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دُور نہیں جب پاکستان کی فشریز برآمدات ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر جائیں گی۔
موجودہ کامیابی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ ضرورت صرف درست سمت، مستقل مزاجی، شفاف پالیسی اور مؤثر حکمت عملی کی ہے۔ آج پاکستانی سی فوڈ کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مانگ یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان ترقی، معیار اور معاشی استحکام کی نئی راہوں پر گامزن ہے۔