کراچی: ہائی کولیسٹرول کو طبی ماہرین ایک ایسا خاموش خطرہ قرار دیتے ہیں جو بظاہر کسی علامت کے بغیر برسوں تک جسم میں بڑھتا رہتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ دل، دماغ اور دیگر اہم اعضاء کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
اکثر افراد کو اس کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب یہ بیماری کسی بڑی پیچیدگی کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کولیسٹرول دراصل ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک طرف جگر خود بناتا ہے جب کہ دوسری جانب یہ ہمیں خوراک سے بھی حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر گوشت، مچھلی، انڈوں اور دودھ سے بنی اشیاء کے ذریعے۔ اگرچہ یہ جسم کے لیے ضروری ہے اور ہارمونز کی تیاری، خلیاتی ساخت اور وٹامن ڈی بنانے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کی زیادتی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں، جن میں ایک ’’اچھا‘‘ یعنی ایچ ڈی ایل اور دوسرا ’’برا‘‘ یعنی ایل ڈی ایل کہلاتا ہے۔ اچھا کولیسٹرول جسم سے اضافی چکنائی کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جب کہ بُرا کولیسٹرول خون کی شریانوں میں جمع ہوکر انہیں تنگ اور سخت بنادیتا ہے، جسے طبی زبان میں ایتھرو اسکلروسیس کہا جاتا ہے۔
اسی خاموشی کی وجہ سے اسے ’’خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ فوری درد یا کمزوری جیسی علامات ظاہر نہیں کرتا۔ تاہم جب شریانیں تنگ ہوجاتی ہیں تو سینے میں درد، سانس کی کمی، ٹانگوں میں تکلیف، دل کا دورہ یا فالج جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ علامات کا انتظار کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس لیے بروقت جانچ ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر، موٹاپے یا سگریٹ نوشی کے شکار افراد کو باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے، بعض افراد کے لیے ہر 6 ماہ جب کہ دیگر کے لیے سال میں کم از کم ایک بار یہ ٹیسٹ ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی کولیسٹرول سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں چند سادہ تبدیلیاں مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ متوازن غذا اپناتے ہوئے چکنائی والی اشیاء اور سرخ گوشت کا استعمال کم کیا جائے اور فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے جئی، دالیں اور پھل زیادہ کھائے جائیں۔ اسی طرح انڈے کی زردی کا استعمال محدود رکھنا بہتر ہے۔
جسمانی سرگرمی بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ تیز چہل قدمی اور ہفتے میں قریباً 150 منٹ ورزش کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ بیماری خاموشی سے بڑھتی ہے، اس لیے باقاعدہ ٹیسٹ اور صحت مند عادات ہی اس سے محفوظ رہنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔