اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کردی گئی۔
نظرثانی کی درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے درخواست دائر کی۔
گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے بہنوں سمیت دیگر کی ملاقات اور ذاتی معالجین تک رسائی کے کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد کے الشفاء اسپتال منتقل کرنے جب کہ عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کروانے کا حکم دیا تھا۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے عداتی فیصلے پر نظرثانی کی دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ جیل رول 1978 میں کسی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار واضع کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلے میں جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کا پاکستان پرزن رولز، 1978 کے رول 197 قاانون کی رُو سے ہٹ کر حکم دینا ریکارڈ پر موجود ایک نمایاں قانونی خامی ہے، آرٹیکل 10 اے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے، مقدمے میں بغیر فریقین کو نوٹس جاری کیے آرذر جاری کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے سنجیدہ قانونی نکتہ کو موخر کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر عبوری حکم جاری کردیا گیا، عبوری مرحلے پر حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔