اسد احمد
ایک بڑے شہر کے مصروف علاقے میں ایک درمیانی عمر کا شخص، سلیم، اپنی روزمرہ زندگی میں اتنا الجھا ہوا تھا کہ اسے کسی کے جذبات یا حالات پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ نوکری، گھر کی ذمے داریاں اور مسلسل دوڑ دھوپ نے اسے ایک ایسا انسان بنا دیا تھا جو صرف اپنی دنیا میں مگن رہتا تھا۔ اس کے لیے سب سے “کم اہم” افراد بزرگ لوگ تھے۔ اسے لگتا تھا کہ بوڑھے لوگ آہستہ چلتے ہیں، زیادہ باتیں کرتے ہیں اور جدید دنیا کی رفتار کو نہیں سمجھتے۔ وہ اکثر بس اسٹاپ، دفاتر اور بازار میں بزرگوں کو نظرانداز کر دیتا تھا، کبھی دانستہ، کبھی لاشعوری طور پر۔
لیکن زندگی ہمیشہ انسان کو آئینہ ضرور دکھاتی ہے، بس وقت مختلف ہوتا ہے۔
ایک دن سلیم دفتر سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں ایک بزرگ سڑک کنارے بیٹھے نظر آئے۔ ان کے ہاتھ میں دوائیوں کا پیکٹ تھا اور چہرے پر تھکن اور بے بسی واضح تھی۔ لوگ آ جا رہے تھے مگر کوئی ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔ سلیم نے بھی پہلے نظرانداز کیا، مگر کچھ قدم چلنے کے بعد اس کے اندر ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اسے یاد نہیں تھا کہ یہ احساس ہمدردی تھا یا ضمیر کی ہلکی سی آواز، لیکن اس نے قدم روک لیے۔ وہ واپس آیا اور بزرگ سے پوچھا:
“کیا آپ ٹھیک ہیں؟”
بزرگ نے آہستہ سے کہا: “بیٹا… بس تھوڑی طبیعت خراب ہے، گھر تک پہنچنے کی طاقت نہیں رہی۔”
سلیم نے بغیر کچھ سوچے انہیں سہارا دیا، قریبی بینچ پر بٹھایا، پانی دیا اور دوائی کے بارے میں پوچھا۔ پھر انہیں گھر تک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
راستے میں بزرگ نے بہت آہستہ آواز میں بات کی، زندگی کے تجربات، اپنی جوانی اور اپنے بچوں کے بارے میں بتایا۔ ایک جملہ سلیم کے ذہن میں نقش ہوگیا: “بیٹا، ہم سب ایک دن اسی عمر تک پہنچتے ہیں جہاں دوسرے لوگ ہمیں بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اصل انسان وہ ہے جو آج کسی بوڑھے کو عزت دیتا ہے، کیونکہ کل وہ خود اسی جگہ ہوگا۔”
یہ جملہ سلیم کے اندر کسی گہری جگہ جاکر لگا، جیسے کسی نے برسوں پرانی سوچ کو ہلادیا ہو۔ اس دن کے بعد سلیم مکمل طور پر بدل تو نہیں گیا، مگر اس کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ وہ اب بزرگوں کو دیکھ کر نظریں نہیں چراتا تھا۔ وہ بس میں جگہ دیتا، بازار میں مدد کرتا اور دفتر میں اپنے ساتھ کام کرنے والے بڑے عمر کے افراد سے عزت کے ساتھ بات کرتا۔
شروع میں اسے یہ سب “چھوٹا کام” لگتا تھا، مگر وقت کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ یہ چھوٹے کام ہی انسان کو بڑا بناتے ہیں۔
ایک دن اس کے دفتر میں ایک ریٹائر ہونے والا ملازم آیا، جس کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ سب لوگ رسمی باتوں کے بعد اسے نظر انداز کررہے تھے، لیکن سلیم نے اس کی بات سنی، اس کی مدد کی اور متعلقہ محکمے سے اس کے کچھ مسائل حل کروائے۔ وہ شخص آنکھوں میں نمی لیے صرف اتنا کہہ سکا: “بیٹا، آج تم نے مجھے وہ عزت دی ہے جو اکثر اپنے بھی نہیں دیتے۔”
اس رات سلیم کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ اسے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کا اخلاق ہے، نہ کہ اس کی پوزیشن یا بینک بیلنس۔
اسی سوچ میں اسے اپنا بچپن یاد آیا، جب اس کے والد بزرگوں کو گھر میں احترام سے بٹھاتے تھے، ان کی بات غور سے سنتے تھے اور کہتے تھے: “بیٹا، آج جو تم بزرگوں کے ساتھ کروگے، کل تمہارے ساتھ وہی ہوگا۔”
اس نے سوچا کہ ہم اکثر زندگی میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک دائرہ ہے، جو آج دوسروں کے لیے رویہ ہے، کل وہی ہمارے لیے لوٹ کر آتا ہے۔
چند سال بعد سلیم خود بھی عمر کے اس حصے میں داخل ہونے لگا جہاں جسم پہلے جیسا ساتھ نہیں دیتا۔ رفتار سست ہوجاتی ہے، فیصلے لینے میں وقت لگتا ہے اور سب سے اہم چیز توجہ اور عزت کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
اب اسے ہر وہ لمحہ یاد آتا تھا جب وہ کسی بزرگ کو نظرانداز کرسکتا تھا مگر اس نے نہیں کیا اور وہ لمحے بھی یاد آتے تھے جب شاید وہ غیر ارادی طور پر کسی کے دل کو دُکھا گیا تھا۔
اسے سمجھ آگئی کہ معاشرے کا اصل حُسن جدید عمارتوں یا تیز رفتار زندگی میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنے کمزور اور بزرگ افراد کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے۔
ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا: “زندگی میں کامیاب ہونا ضروری ہے، مگر انسان رہنا اس سے زیادہ ضروری ہے اور انسان ہونے کا پہلا اصول یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی عزت کرو جو تم سے پہلے اسی راستے سے گزر چکے ہیں۔”
بیٹے نے سوال کیا: “پاپا، یہ اتنا ضروری کیوں ہے؟”
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا: “کیونکہ ایک دن تم بھی وہی بنو گے جو آج تم دوسروں کو سمجھ رہے ہو اور اُس وقت تمہیں وہی رویہ یاد آئے گا جو تم نے آج اپنایا تھا۔”
یہی زندگی کا اصل سبق ہے۔ بزرگ صرف ایک عمر نہیں ہوتے، وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں۔ اور جو اس آئینے میں عزت دیکھنا چاہتا ہے، اسے پہلے عزت دینی سیکھنی پڑتی ہے۔