عالمی امن۔۔۔ پاکستان توقعات پر ضرور پورا اُترے گا

دانیال جیلانی

امریکا اور ایران کی جانب سے دو روز کے دوران مثبت بیانات اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی کوششیں رائیگاں نہیں بلکہ کامیاب ہوئی ہیں اور دونوں جانب سے مذاکرات کو فوقیت دی جارہی ہے۔ امریکی صدر جہاں پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہ رہے ہیں، وہیں ایران بھی اگلے بدھ کو پاکستان میں مذاکرات کا متمنی نظر آتا ہے۔ بلاشبہ دنیا اس وقت جس سیاسی، عسکری اور سفارتی پیچیدگی سے گزر رہی ہے، اس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نہایت حساس اور تشویش ناک معاملہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی امن مسلسل دباؤ میں ہے اور مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کو ایک بے یقینی صورت حال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ایسے نازک وقت میں حالیہ مثبت پیش رفت، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز اور پاکستان کے ذریعے مسلسل سفارتی رابطوں کا تسلسل سامنے آیا ہے، نہ صرف ایک امید افزا قدم ہے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک نئی راہ بھی متعین کررہا ہے۔ یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع میزبانی پھر پاکستان کے حصے میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور غیر جانبدار کردار پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ پاکستان کا بطور ثالث کردار نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے، بلکہ یہ اس کے ذمے دار ریاستی رویے اور امن کے لیے مسلسل کوششوں کا عملی اظہار بھی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے مسلسل مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار کسی وقتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے، متوازن اور دوراندیش سفارتی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے کو تنازعات سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے جو حکمت عملی اپنائی ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ ان کی متوازن، حقیقت پسندانہ اور سفارتی بصیرت پر مبنی پالیسیوں نے پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رہنما اور تجزیہ کار پاکستان کے کردار کو ایک مثبت اور مؤثر قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور امن کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ تنازعات کا حصہ بننے کے بجائے ان کے حل کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور ترقی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔
یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اور مذاکرات کی پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھر چکا ہے۔ یہ کردار نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ آج پاکستان کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کے اس کردار کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی حد تک کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بنیادی کردار ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب دنیا کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، مکالمہ اور امن کی ضرورت ہے، اور پاکستان اسی ضرورت کو پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے یہ مؤقف کہ وہ جوہری ہتھیاروں میں دلچسپی نہیں رکھتا اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے بھی مذاکرات کی طرف پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریقین جنگ کے بجائے سفارت کاری کے راستے کو اپنانا چاہتے ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار ایک سہولت کار، ثالث اور اعتماد کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو کسی وقتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک طویل المدتی اور مربوط خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس پالیسی میں بنیادی زور امن، علاقائی استحکام اور عالمی تعاون پر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمے دار ریاست کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی اس کامیابی میں اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ایک اہم عنصر ہے۔ جب ریاست کے تمام ادارے ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں تو نتائج نہایت مثبت اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی آج پاکستان کو ایک مضبوط اور بااعتماد سفارتی طاقت کے طور پر پیش کررہی ہے۔ مزید برآں، پاکستان کی سفارتی کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک بھی اگر متوازن پالیسی اپنائیں تو عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ طاقت صرف عسکری نہیں ہوتی بلکہ سفارت کاری، اعتماد اور توازن بھی عالمی طاقت کے اہم ستون ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اس وقت عالمی امن کے لیے ایک امید کی کرن کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت میں پاکستان کا کردار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پائیدار امن قائم ہوسکے گا۔ پاکستان کا یہ کردار پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ آج پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کی آواز بن کر سامنے آیا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔