الیکٹرک وہیکلز: پاکستان کا نیا مستقبل

عبدالعزیز بلوچ

پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کے فروغ کے حوالے سے حالیہ پیش رفت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس درحقیقت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اب محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی طرف جانا چاہتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں، جہاں ایندھن کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے، الیکٹرک وہیکلز ایک مؤثر اور پائیدار متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کرتی رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف مالی دباؤ بڑھا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا۔ ایسے میں الیکٹرک وہیکلز کا فروغ نہ صرف زرمبادلہ کی بچت کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے EV پالیسی کو تیز کرنے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں کم آمدن والے طبقے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی دینے کا فیصلہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں بڑی آبادی موٹر سائیکل استعمال کرتی ہے، یہ اقدام نہ صرف عوامی سطح پر EV ٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ تاہم، اس اسکیم کی کامیابی کا دارومدار اس کی شفافیت اور مساوی رسائی پر ہوگا۔ اگر سبسڈی کی تقسیم میں بدعنوانی یا عدم مساوات پیدا ہوئی تو اس کے مثبت اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، حکومت کی جانب سے درجنوں مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جاری کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں صنعتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور EV سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف گاڑیوں کی تیاری کافی نہیں، بلکہ ان کے استعمال کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی ناگزیر ہے۔
چارجنگ انفرا اسٹرکچر اس پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ملک بھر میں مناسب تعداد میں چارجنگ اسٹیشنز دستیاب نہیں ہوں گے تو عوام کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر چارجنگ نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دے، تاکہ EV صارفین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکام کی جانب سے آئندہ پانچ برسوں میں 30 فیصد گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنے کا ہدف بلاشبہ ایک پرعزم قدم ہے۔ تاہم، اس ہدف کے حصول کے لیے پالیسی میں تسلسل اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔ ماضی میں کئی منصوبے صرف اس وجہ سے ناکام ہوئے کہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
اسی تناظر میں سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کی اسکیم بھی ایک مؤثر اقدام ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اس اسکیم کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف EV اپنانے کی رفتار کو بڑھا سکتی ہے بلکہ دیگر طبقات کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقلی صرف ایک ٹیکنالوجیکل تبدیلی نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی مسائل، جیسے فضائی آلودگی اور کاربن اخراج، میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک اسی سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں، اور پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اس دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔
تاہم، اس پورے عمل میں عوامی آگاہی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جب تک عوام کو EV ٹیکنالوجی کے فوائد، اس کی لاگت اور اس کے استعمال کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوں گی، اس کا فروغ محدود رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور نجی ادارے مل کر آگاہی مہمات چلائیں تاکہ عوام اعتماد کے ساتھ اس تبدیلی کو قبول کریں۔
آخر میں، نجی شعبے کی شمولیت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری اس شعبے کو مزید مستحکم بنا سکتی ہے۔ اگر حکومت ایک سازگار ماحول فراہم کرے تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی اس شعبے میں دلچسپی لے سکتے ہیں، جس سے ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقلی پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ اگر سنجیدگی، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ اس پالیسی پر عمل کیا جائے تو نہ صرف معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ ملک ایک صاف اور پائیدار مستقبل کی جانب بھی گامزن ہو سکے گا۔