اسد احمد
پاکستان ایسا ملک ہے جہاں آبادی میں مسلسل اضافہ، شہری پھیلاؤ، انتظامی ضروریات اور معاشی سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی صورت حال نے حکمرانی کے روایتی طریقۂ کار پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ملک میں نئے صوبے بنانے کی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ کہیں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ سامنے آتا ہے، کہیں سندھ کو تقسیم کرنے کی تجاویز دی جاتی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے بھی انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کی بحث سنائی دیتی ہے۔
یہ بحث محض سیاسی نعرہ نہیں ہونی چاہیے۔ نئے صوبوں کا قیام ایک انتہائی اہم قومی معاملہ ہے جس کے اثرات انتظامی، سیاسی، معاشی، لسانی اور سماجی سطح پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو جذبات کے بجائے اعداد و شمار، عوامی ضروریات اور قومی مفاد کی روشنی میں دیکھا جائے۔ پاکستان کے قیام کے وقت ملک کی آبادی آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ شہروں کا حجم محدود تھا، مواصلاتی ذرائع بھی اتنے وسیع نہیں تھے اور انتظامی ضروریات بھی مختلف نوعیت کی تھیں۔ آج پاکستان کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور حیدرآباد جیسے شہر بڑے شہری مراکز بن چکے ہیں جب کہ دور دراز دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایسے حالات میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے؟ نئے صوبوں کے حامیوں کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ بڑے صوبوں میں انتظامی مرکزیت بہت زیادہ ہے۔ دوردراز علاقوں کے مسائل صوبائی دارالحکومت تک پہنچتے پہنچتے کئی مراحل سے گزرتے ہیں اور بعض اوقات مقامی مسائل کو وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اگر صوبوں کا حجم نسبتاً کم ہو تو حکومتیں عوام کے قریب آسکتی ہیں، انتظامی فیصلے تیزی سے ہوسکتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے۔ یہ دلیل خاص طور پر ان علاقوں کے حوالے سے اہم ہے جو جغرافیائی طور پر صوبائی دارالحکومت سے بہت دُور ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام طویل عرصے سے انتظامی محرومی کی شکایات کرتے آئے ہیں۔ اسی طرح سندھ کے اندر بھی بالائی سندھ، وسطی سندھ، تھر، لاڑکانہ، سکھر، حیدرآباد اور دیگر علاقوں کے مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی جغرافیائی پھیلاؤ اور دشوار گزار علاقوں کی وجہ سے انتظامی رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم نئے صوبے بنانا ہر مسئلے کا خودکار حل نہیں۔ اگر موجودہ صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنا بھی دیا جائے لیکن وہاں وہی کمزور ادارے، غیر مؤثر انتظامیہ، ناقص منصوبہ بندی، کرپشن اور سیاسی مداخلت موجود رہے تو صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے عوام کی زندگی تبدیل نہیں ہوگی۔
اصل مسئلہ صرف صوبے کا حجم نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے۔ یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے اور وہ ہے مضبوط بلدیاتی نظام۔ پاکستان میں آئین نے مقامی حکومتوں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، مگر عملی طور پر بلدیاتی ادارے اکثر صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر نظر آتے ہیں۔ اگر اختیارات، وسائل اور ذمے داریاں نچلی سطح تک منتقل کردی جائیں تو بہت سے ایسے مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکتے ہیں جن کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سڑک کس جگہ بننی ہے، گلی کی صفائی کیسے ہونی ہے، سیوریج کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، مقامی پارک کہاں بننا چاہیے، پینے کے پانی کی فراہمی کیسے بہتر بنائی جائے اور بنیادی شہری سہولتوں کی نگرانی کون کرے، یہ تمام معاملات مقامی حکومتیں زیادہ بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام کی بحث بھی ضروری ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی امور کو مختلف سطحوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت قومی معاملات دیکھتی ہے، صوبائی یا ریاستی حکومتیں بڑے انتظامی اور پالیسی معاملات سنبھالتی ہیں جب کہ مقامی حکومتیں شہریوں کے روزمرہ مسائل حل کرتی ہیں۔ پاکستان بھی اگر اختیارات کی واضح تقسیم اور ادارہ جاتی ذمے داریوں کا مؤثر نظام قائم کرلے تو حکمرانی میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی ضرورت کو مکمل طور پر رد کردیا جائے۔ اگر کسی خطے کی آبادی، جغرافیہ، انتظامی مشکلات اور عوامی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی ہوں کہ وہاں الگ انتظامی صوبائی یونٹ قائم کیا جائے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس عمل میں چند بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
سب سے پہلے عوام کی حقیقی رائے معلوم کی جائے۔ دوسرا فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی اور معاشی بنیادوں پر ہو۔ تیسرا نئے صوبے کی مالی استعداد کا جائزہ لیا جائے۔ چوتھا یہ دیکھا جائے کہ نئے صوبے کے قیام سے عوام کو واقعی بہتر سہولتیں ملیں گی یا صرف سیاسی اور انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بعد ان کے دارالحکومت، ہائی کورٹس، اسمبلیاں، سیکریٹریٹس، سرکاری محکمے اور دیگر ادارے قائم کرنے کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے۔ اگر اس عمل کی مناسب منصوبہ بندی نہ کی جائے تو ایک طرف انتظامی مسائل حل ہونے کے بجائے نئی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور دوسری جانب قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زبان، ثقافت اور شناخت کے معاملات کو بھی انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کا حسین امتزاج ہے۔ ہماری علاقائی شناختیں ہماری قومی شناخت سے متصادم نہیں بلکہ اس کا حصہ ہیں۔ نئے صوبوں کی تشکیل اگر نفرت، تعصب یا لسانی تقسیم کی بنیاد پر ہوگی تو یہ قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر انتظامی سہولت، عوامی خدمت اور متوازن ترقی اس کا بنیادی مقصد ہو تو نئے انتظامی یونٹس قومی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
سندھ کے حوالے سے نئے صوبے کی بحث خاص طور پر حساس ہے۔ سندھ کی تاریخ، ثقافت، زبان اور شناخت صدیوں پر محیط ہے۔ اس لیے سندھ کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی تجویز محض انتظامی فارمولے کے طور پر نہیں دیکھی جاسکتی۔ یہاں عوامی جذبات، تاریخی وابستگی اور سیاسی حساسیت بھی موجود ہے۔ ایسے معاملے میں کسی بھی فیصلے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے، عوامی مشاورت اور آئینی طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم صوبوں کو کمزور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کو مضبوط کریں، اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کریں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں۔ اگر کسی ضلع کا شہری اپنے بنیادی مسئلے کے لیے کئی سو کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہے تو مسئلہ صرف صوبے کے بڑے ہونے کا نہیں بلکہ انتظامی نظام کے کمزور ہونے کا بھی ہے۔
پاکستان کو آج ایسی حکمرانی کی ضرورت ہے جو شہری کے دروازے تک پہنچے۔ ایک ایسا نظام جہاں سرکاری دفتر عوام کو تلاش کرے، عوام سرکاری دفتر کو نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، ماہرینِ انتظامیہ، معاشی ماہرین، دانشوروں اور عوام کے درمیان سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ اس بحث کو انتخابی نعروں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے نکال کر قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی نئے صوبے کے قیام سے قبل ایک جامع انتظامی و معاشی کمیشن قائم کیا جائے جو آبادی، رقبے، وسائل، محصولات، انفرا اسٹرکچر، پانی، تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت اور انتظامی اخراجات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے۔ اس کمیشن کی سفارشات عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ فیصلہ شفاف بنیادوں پر ہوسکے۔
پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے ہمیں ہر اس انتظامی اصلاح کا خیرمقدم کرنا چاہیے جو عوام کی زندگی آسان بنائے۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نئے صوبے منزل نہیں، بہتر حکمرانی کا ایک ممکنہ ذریعہ ہیں۔ اصل منزل ایک ایسا پاکستان ہے جہاں کراچی سے خیبر، گوادر سے گلگت اور تھر سے لاہور تک ہر شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، بجلی، سڑک، انصاف اور تحفظ کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔
اگر نئے صوبے یہ مقصد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ اگر مضبوط بلدیاتی نظام یہ کام زیادہ مؤثر انداز میں کرسکتا ہے تو اسے فوری بااختیار بنانا چاہیے اور اگر دونوں اصلاحات ضروری ہوں تو دونوں کو ایک جامع حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
آخرکار پاکستان کو نقشے پر نئی لکیروں سے زیادہ نئی سوچ، مضبوط اداروں اور اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، لیکن عوام کو ان کے بنیادی حقوق ضرور ملنے چاہئیں۔ اختیارات مرکز سے صوبوں اور صوبوں سے اضلاع و بلدیاتی اداروں تک منتقل ہونے چاہئیں۔ سیاست کا مرکز اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔
پاکستان کا مستقبل اسی وقت روشن ہوگا جب حکمرانی کا نظام عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرے گا۔ نئے صوبوں کی بحث کا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو بہتر حکمرانی کیسے دی جاسکتی ہے۔ اسی سوال کا غیر جانب دارانہ، آئینی اور عوامی مفاد پر مبنی جواب ہی پاکستان کو ایک مضبوط اور خوش حال مستقبل کی طرف لے جاسکتا ہے۔