بلال ظفر سولنگی
ایک آدمی تھا… نہ بہت بڑا بزنس مین، نہ کسی امیر گھرانے کا وارث۔ بس ایک عام سا انسان، جس کے کندھوں پر خواب بھی تھے اور ذمے داریاں بھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر صبح ایک ہی سوال جاگتا تھا: “اپنے اوپر سے قرض کا بار کیسے اتاروں گا؟”
وہ دن رات محنت کرتا تھا۔ کبھی 18 گھنٹے، کبھی 20 گھنٹے۔ جب لوگ نیند میں ہوتے، وہ کام میں ہوتا۔ جب لوگ ہنس رہے ہوتے، وہ حساب کتاب کررہا ہوتا۔ اس کی زندگی میں آرام نام کی چیز کہیں گم ہوچکی تھی۔ لیکن عجیب بات یہ تھی، جتنا وہ محنت کرتا، اُتنا ہی لگتا جیسے حالات اور سخت ہورہے ہیں۔ آمدن بڑھنے کے بجائے خرچ بڑھ رہے تھے۔ ایک قرض ختم ہوتا تو دوسرا دروازہ کھٹکھٹا دیتا۔ وہ سوچتا: “آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہورہا ہے؟”
رات کے اندھیرے میں جب وہ تھک کر بستر پر لیٹتا، تو دماغ پھر بھی جاگ رہا ہوتا۔ کبھی دل میں خیال آتا کہ شاید میں بدنصیب ہوں، شاید میری تقدیر ہی بند ہے۔ کبھی وہ سوچتا کہ شاید واقعی کوئی ایسی چیز ہے جو میرے راستے روک رہی ہے۔ لیکن اصل جنگ باہر نہیں تھی، اصل جنگ اس کے اندر تھی۔ اس کے اندر ایک انسان تھا جو ہار ماننا نہیں چاہتا تھا اور ایک دل تھا جو ہر روز تھوڑا تھوڑا ٹوٹ رہا تھا۔
ایک دن وہ بہت زیادہ ٹوٹ گیا۔ وہ بیٹھا ہوا تھا، سامنے بلوں کا ڈھیر تھا، قرض کی پرچیاں تھیں اور سر میں بھاری پن تھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ پہلی بار خاموشی سے رو دیا۔ نہ کسی کے سامنے، نہ کسی کو دکھانے کے لیے… بس اپنے آپ سے ہار کر۔ اسی لمحے اس کے دل میں ایک آواز آئی:
“کیا واقعی تم ختم ہوگئے ہو؟ یا صرف تھک گئے ہو؟”
یہ سوال اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ وہ سوچنے لگا… میں نے کبھی ہار مانی ہے یا صرف تھک کر رُکنے لگا ہوں؟
اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ اس نے اپنی پوری زندگی صرف دو چیزوں پر لگا دی تھی: زیادہ کام اور زیادہ فکر۔ مگر اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ سمت بھی درست ہے یا نہیں۔
اگلے دن اس نے پہلی بار کچھ مختلف کیا۔ اس نے صرف زیادہ کام نہیں کیا… اس نے اپنا حساب لکھا۔ قرض، خرچ، آمدن… سب کچھ ایک کاغذ پر۔ اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ ایک اندھیرے کمرے میں نہیں، بلکہ ایک ایسی الجھن میں تھا جس کا حل موجود تھا، بس وہ نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف بھاگے گا نہیں… سوچے گا بھی۔ دن گزرتے گئے۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے اخراجات کم کیے۔ کچھ لوگوں سے بات کرکے وقت لیا۔ کچھ نئے طریقے سیکھے۔ کچھ چھوٹے مگر بہتر کام شروع کیے۔ لیکن سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ اس نے اپنے دل کو دوبارہ زندہ کرنا شروع کیا۔
وہ ہر روز کچھ وقت خاموش بیٹھتا۔ کبھی آسمان دیکھتا، کبھی دعا کرتا، کبھی صرف سانس لیتا اور خود کو یاد دلاتا: “میں ابھی ختم نہیں ہوا۔”
آہستہ آہستہ حالات بدلنے لگے۔ بہت تیزی سے نہیں… مگر مسلسل۔ قرض کم ہونا شروع ہوا۔ دماغ کا دباؤ ہلکا ہونے لگا۔ زندگی میں تھوڑی سی روشنی واپس آنے لگی۔ ایک دن وہی آدمی، جس کی آنکھوں میں کبھی تھکن اور آنسو تھے، اب سکون سے بیٹھا تھا۔ حالات مکمل ٹھیک نہیں ہوئے تھے، مگر وہ خود بدل چکا تھا۔
اسے سمجھ آ گئی تھی کہ زندگی میں سب سے بڑا مسئلہ حالات نہیں ہوتے، بلکہ وہ سوچ ہوتی ہے جس میں ہم خود کو قید کرلیتے ہیں۔
وہ جان گیا تھا کہ بعض اوقات انسان کو تباہی نہیں توڑتی، بلکہ مسلسل تناؤ توڑ دیتا ہے۔ اور یہ بھی سیکھ گیا تھا کہ ہر اندھیری رات کا مطلب یہ نہیں کہ صبح نہیں آئے گی… اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ صبح ابھی تھوڑی دور ہے۔
آج وہ شخص اگر کسی دوسرے کو دیکھتا ہے جو اسی درد سے گزر رہا ہو، تو وہ صرف ایک بات کہتا ہے: “اگر تم چل رہے ہو، تو تم ختم نہیں ہوئے۔ بس ابھی راستہ مشکل ہے۔” اور حقیقت یہی ہے…
زندگی کبھی کبھی انسان کو وہاں لے جاتی ہے جہاں وہ سمجھتا ہے کہ سب ختم ہوگیا ہے، لیکن وہی جگہ اکثر نئی شروعات کا دروازہ ہوتی ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ انسان رک نہ جائے۔ کیونکہ جو چلتا رہتا ہے… وہی ایک دن اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں پیچھے مڑ کر وہ صرف یہ کہتا ہے: “میں ٹوٹا ضرور مگر رُکا نہیں تھا۔”