دانیال جیلانی
معرکۂ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان مانومنٹ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریب محض ایک سرکاری اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے اجتماعی شعور، اتحاد اور عزم کی بھرپور عکاسی تھی۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت، غیر ملکی سفیروں، سیاسی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی موجودگی نے اس بات کو واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی دفاع، استحکام اور خودمختاری کے معاملے میں ایک متحد اور پُرعزم ریاست ہے۔ تقریب کا آغاز قومی ترانے اور پاک افواج کے شاندار مارچ پاسٹ سے ہوا، جس نے ماحول کو قومی وقار اور فخر کے جذبات سے بھر دیا۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے اداروں، اس کی قیادت اور اس کے عوام کے باہمی ربط میں ہوتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں معرکۂ حق کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی جانب سے کی گئی جارحیت کا جواب پاکستان نے صبر، حکمت اور مضبوط دفاعی حکمت عملی کے ساتھ دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سچائی کو دبایا نہیں جاسکتا اور قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو اتحاد اور عزم کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ وزیراعظم نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بری، بحری اور فضائی افواج نے ہر محاذ پر مربوط انداز میں ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اپنی خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ مثبت اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں قومی اتحاد اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو پاکستان کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زندہ اور مضبوط قوم ہے۔ صدر نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں ملک کے دفاع کی مضبوط ڈھال قرار دیا۔ ان کا یہ مؤقف کہ پاکستان کا استحکام قومی وحدت میں ہے، اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی ترقی کا راستہ صرف اتحاد اور ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ تقریب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے معرکۂ حق کو صرف ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور اجتماعی اتحاد کسی بھی چیلنج کو شکست دے سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور جدید دور کی جنگیں صرف روایتی نہیں بلکہ کثیر الجہتی نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ سفارتی اور اطلاعاتی محاذ پر بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہی قوم کی اصل طاقت ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور عوامی قیادت نے یکجا ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ فیلڈ مارشل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر لمحہ تیار ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی موجودگی نے تینوں مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا واضح پیغام دیا۔ یہ اتحاد ہی پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ معرکۂ حق کی سالگرہ صرف ماضی کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھاتا۔ ملک کی قیادت نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع، علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس پورے تناظر میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی قوم ہے۔ جب عوام، افواج اور ریاستی ادارے ایک صف میں کھڑے ہوں تو کوئی بھی چیلنج ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا۔ معرکۂ حق اسی قومی یکجہتی کی ایک علامت بن چکا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کا دن ہے بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے عزم، استقامت اور اتحاد کا پیغام بھی ہے۔ پاکستان آج بھی اپنے اصولی مؤقف، مضبوط دفاع اور ذمے دار ریاستی کردار کے ساتھ دنیا کے سامنے موجود ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔