اپنا گھر اسکیم، حکومت کا عظیم قدم

مہروز احمد

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے “اپنا گھر اسکیم” کا اجرا بلاشبہ ایک اہم اور بروقت اقدام ہے، جو نہ صرف عام آدمی کے دیرینہ خواب اپنے گھرکو حقیقت کے قریب لانے کی کوشش ہے، بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ اور مہنگائی نے رہائش کو ایک مشکل ترین مسئلہ بنادیا ہے، وہاں ایسی اسکیمیں نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ تاہم، اس اقدام کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ اس کے شفاف اور مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ پاکستان میں ہاؤسنگ کا بحران ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد ایسے ہیں جو یا تو کرائے کے گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یا غیر معیاری اور غیر محفوظ رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت واقعی ایک کروڑ روپے تک آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی طرح یہ منصوبہ بھی کاغذی حد تک محدود تو نہیں رہ جائے گا؟ وزیراعظم کی جانب سے پہلے مرحلے میں 50 ہزار گھروں کے لیے قرض اور 321 ارب روپے کی فنانسنگ کا اعلان یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ مزید برآں، چار سال میں 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف بھی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفافیت کی ضرورت ہے۔ اس لیے اصل امتحان اس منصوبے کے نفاذ میں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ہاؤسنگ اسکیموں اور قرض پروگراموں میں بدعنوانی، سیاسی مداخلت اور غیر شفافیت جیسے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر “اپنا گھر اسکیم” کو ان خامیوں سے بچانا ہے تو اس کے لیے سخت نگرانی، واضح اہلیت کے معیار اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے درخواستوں اور قرضوں کی تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ وہ خود ہر ماہ اس منصوبے کی نگرانی کریں گے، ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اس کو عملی شکل دینا زیادہ اہم ہے۔
اس اسکیم کا ایک اور اہم پہلو اس کا معاشی اثر ہے۔ تعمیراتی شعبہ کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ سیمنٹ، اسٹیل، الیکٹرک آلات، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی سرگرمی بڑھتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو اس سے معیشت میں ایک مثبت لہر پیدا ہوسکتی ہے، جو مجموعی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم، یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے: کیا عام آدمی واقعی اس قرض کو واپس کرنے کی استطاعت رکھتا ہے؟ مہنگائی کی موجودہ صورت حال، بے روزگاری اور کم آمدن والے طبقے کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت کو قرض کی شرائط انتہائی نرم رکھنی ہوں گی۔ سود کی شرح، ادائیگی کی مدت اور ماہانہ قسطیں ایسی ہونی چاہئیں کہ وہ عام آدمی کے لیے قابل برداشت ہوں، ورنہ یہ اسکیم بھی صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔
علاوہ ازیں، اس منصوبے میں شامل بینکوں کا کردار بھی نہایت اہم ہوگا۔ اگر بینک پیچیدہ طریقہ کار، غیر ضروری کاغذی کارروائی یا سخت شرائط عائد کریں گے تو اس سے عام شہریوں کی رسائی محدود ہوجائے گی۔ وزیراعظم کی جانب سے بینکوں کو کارکردگی کی بنیاد پر سراہنے اور ایوارڈز دینے کا اعلان ایک اچھی ترغیب ہے، لیکن اس کے ساتھ انہیں عوام دوست رویہ اپنانے کا پابند بھی بنایا جانا چاہیے۔ ایک اور اہم نکتہ علاقائی مساوات کا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اسکیم چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک پھیلائی گئی ہے۔ یہ ایک مثبت بات ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اور چھوٹے صوبوں یا دور دراز علاقوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے شہروں کو ترجیح دی جاتی ہے جب کہ پسماندہ علاقے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے ساتھ شہری منصوبہ بندی (اربن پلاننگ) پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر بغیر منصوبہ بندی کے بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر کی گئی تو اس سے انفرا اسٹرکچر پر دباؤ بڑھے گا، ٹریفک، پانی، بجلی اور سیوریج جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہاؤسنگ منصوبوں کو جدید شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کے تحت تیار کیا جائے، تاکہ رہائش کے ساتھ معیاری زندگی بھی فراہم کی جاسکے۔ آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ “اپنا گھر اسکیم” ایک امید کی کرن ضرور ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ، شفافیت اور عوامی رسائی پر ہے۔ اگر حکومت واقعی عام آدمی کو چھت فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس منصوبے کو قومی فلاحی پروگرام کے طور پر چلانا ہوگا۔ اگر یہ اسکیم کامیاب ہوجاتی ہے تو نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو اپنی چھت میسر آئے گی بلکہ یہ ملکی معیشت کو بھی ایک مضبوط سہارا فراہم کرے گی۔