کراچی: نئی تحقیق کے مطابق جو بچے اپنی ابتدائی عمر میں مسلسل ناقص یا کم نیند لیتے ہیں، ان میں نوعمری (ٹین ایج) کے دوران ڈپریشن ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نیند کے بہتر معمولات قائم کرنے میں فعال کردار ادا کریں، کیونکہ یہ سادہ سا قدم مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نیند ایک ایسا عنصر ہے جسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق بچپن میں نیند کی خرابیوں کو درست کرنا اس سے کہیں آسان ہے، جتنا بعد کی عمر میں پیچیدہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا علاج کرنا۔
تحقیق میں ماہرین نے 15 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ بچے مشہور طویل المدتی تحقیقی منصوبے چلڈرن آف دی نائنٹیز میں شامل تھے۔
محققین نے بچوں کی رات کی نیند کے دورانیے کو مختلف عمروں میں باقاعدگی سے ریکارڈ کیا، جن میں 6 ماہ، 18 ماہ، 30 ماہ اور پھر ساڑھے 3 سال، 4 سے 5 سال، 5 سے 6 سال اور 6 سے 7 سال کی عمر شامل تھی۔