حسان احمد
شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔ اس کا نام زینب بی بی تھا۔ وہ بہت غریب تھی۔ اس کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ شوہر کئی سال پہلے وفات پاچکا تھا اور اولاد بھی دنیا کے مختلف شہروں میں جابسنے کے بعد اس سے بے خبر ہوچکی تھی۔ زینب بی بی ایک چھوٹے سے کچے مکان میں تنہا زندگی گزار رہی تھی۔ محلے کے لوگ اسے جانتے تو تھے، مگر مصروفیات کے باعث کوئی زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا۔ کبھی کوئی سلام کرلیتا، کبھی کوئی حال پوچھ لیتا، مگر اس کے بعد ہر شخص اپنی دنیا میں کھو جاتا۔
اسی محلے میں حارث نامی نوجوان رہتا تھا۔ وہ ایک عام سا لڑکا تھا۔ نہ بہت امیر، نہ بہت غریب۔ ایک چھوٹی سی بیکری میں ملازمت کرتا تھا۔ روزانہ صبح سویرے کام پر جاتا اور شام کو واپس آتا۔ اس کی آمدن محدود تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔ ایک سرد شام حارث کام سے واپس آرہا تھا کہ اس نے زینب بی بی کو اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھا دیکھا۔ ان کے چہرے پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ حارث نے قریب جا کر پوچھا: "امّاں خیریت ہے؟” زینب بی بی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بیٹا، دو دن سے گھر میں آٹا نہیں ہے۔ سوچ رہی تھی کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔”
حارث کے پاس اس وقت صرف چند سو روپے بچے تھے جو اسے پورا ہفتہ گزارنے کے لیے درکار تھے۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، کچھ لمحے سوچا اور پھر سارے پیسے زینب بی بی کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ "امّاں، پہلے کھانا لے آئیے۔ اللہ کوئی اور راستہ بنادے گا۔”زینب بی بی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ "اللہ تمہیں کبھی محتاج نہ کرے، بیٹا۔”
حارث خاموشی سے گھر چلا گیا۔ اس رات اس نے خود سادہ سا کھانا کھایا، مگر اس کے دل میں عجیب سا سکون تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ کسی بھوکے کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی خوشی دنیا کی ہر دولت سے بڑھ کر ہے۔ اگلے دن اس نے دیکھا کہ زینب بی بی کے گھر میں راشن موجود ہے۔ وہ خوش تھیں۔ حارث نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
محلے میں ایک شخص رہتا تھا، جس کا نام سلیم تھا۔ وہ ایک کامیاب تاجر تھا۔ بڑی گاڑی، بڑا گھر اور بہت سا پیسہ تھا۔ اس نے اتفاقاً حارث کو زینب بی بی کی مدد کرتے دیکھ لیا تھا۔ اس منظر نے اس کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا کر دی۔ وہ سوچنے لگا: "میرے پاس لاکھوں روپے ہیں، مگر میں نے کبھی اس عورت کی خبر نہیں لی جبکہ ایک معمولی تنخواہ لینے والا لڑکا اپنی ضرورت قربان کر کے اس کی مدد کر رہا ہے۔” اس رات سلیم سو نہ سکا۔ اگلی صبح وہ زینب بی بی کے گھر گیا۔ ان کے لیے راشن، دوائیں اور گرم کپڑے لے کر آیا۔ زینب بی بی حیران رہ گئیں۔
کچھ ہی دنوں میں محلے کے دوسرے لوگوں کو بھی اس بات کا علم ہوگیا۔ کسی نے دوائیوں کی ذمے داری لے لی، کسی نے بجلی کا بل بھرنا شروع کر دیا، کسی نے گھر کی مرمت کروا دی۔ وہ عورت جو کل تک تنہا تھی، اب پورا محلہ اس کا خاندان بن چکا تھا۔ چند ماہ بعد زینب بی بی شدید بیمار ہوگئیں۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ پورا محلہ ان کی تیمارداری کے لیے موجود تھا۔
ایک دن انہوں نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور دھیمی آواز میں بولیں: "بیٹا، تمہیں معلوم ہے تم نے مجھے کیا دیا تھا؟” حارث نے مسکرا کر کہا: "امّاں، میں نے تو صرف چند روپے دیے تھے۔” زینب بی بی نے سر ہلایا۔ "نہیں بیٹا، تم نے مجھے امید دی تھی۔ تم نے مجھے یہ احساس دلایا تھا کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔” یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"دنیا میں سب سے بڑی نیکی صرف پیسہ دینا نہیں ہوتی، کسی کو یہ احساس دلانا بھی نیکی ہے کہ وہ اہم ہے، اس کی زندگی کی قیمت ہے اور اس کا کوئی اپنا موجود ہے۔” کچھ دن بعد زینب بی بی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے جنازے میں پورا محلہ شریک تھا۔ لوگ رو رہے تھے۔ ہر شخص کے دل میں ایک عجیب سا احساس تھا۔ جنازے کے بعد سلیم نے حارث کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "تم نے ہمیں انسانیت کا سبق سکھایا ہے۔” حارث نے جواب دیا:
"میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں نے صرف ایک بھوکے انسان کی مدد کی تھی۔” سلیم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "کبھی کبھی ایک روٹی کی قیمت صرف روٹی نہیں ہوتی۔ وہ کسی کی عزت، کسی کی امید اور کسی کی زندگی بھی بن جاتی ہے۔”
اس واقعے کے بعد اس محلے میں ایک روایت قائم ہوگئی۔ لوگ ہر ماہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ ضرورت مندوں کے لیے نکالتے۔ بیماروں کی خبر گیری کی جاتی، یتیم بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا جاتا اور بزرگوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا جاتا۔
چند سال بعد وہ محلہ پورے شہر میں اپنی یکجہتی اور انسان دوستی کی وجہ سے مشہور ہوگیا۔ لوگ دور دور سے آتے اور پوچھتے: "آخر اس تبدیلی کی شروعات کیسے ہوئی؟” محلے والے مسکرا کر کہتے: "ایک نوجوان نے ایک دن اپنی ضرورت قربان کرکے ایک بھوکی ماں کو روٹی خریدنے کے لیے چند روپے دیے تھے۔” حقیقت یہی ہے کہ معاشرے بڑی تقریروں سے نہیں بدلتے، بلکہ چھوٹے چھوٹے نیک اعمال سے بدلتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک مدد کا ہاتھ، ایک ہمدردانہ جملہ، ایک بھوکے کو کھانا، ایک یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ — یہی وہ اعمال ہیں جو دلوں کو جوڑتے ہیں اور قوموں کو عظیم بناتے ہیں۔ جب انسان دوسروں کے لیے جینا سیکھ لیتا ہے تو اس کی اپنی زندگی بھی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ اور جب ایک فرد بدلتا ہے تو اس کے ساتھ ایک خاندان بدلتا ہے، پھر ایک محلہ، پھر ایک شہر اور آخرکار پورا معاشرہ۔ شاید دنیا کو آج بھی کسی بڑے معجزے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے دل کی ضرورت ہے جو کسی اجنبی کے درد کو اپنا درد سمجھ سکے۔ یہی وہ نیکی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک بہتر معاشرے کی طرف لے جاتا ہے۔