پاکستان کی ثالثی میں عالمی امن کیلئے بڑی بیٹھک

دانیال جیلانی

پاکستان امن کا داعی ہے اور امن کے لیے اس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے جاری ایران امریکا جنگ سے ساری دُنیا متاثر نظر آرہی تھی۔ پاکستان نے دو ہفتے کی جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے سر بندھتا ہے۔ پاکستان نے اپنی موثر سفارت کاری سے دُنیا بھر میں اپنا وقار بلند کیا ہے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہونے جارہے ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اور کوششوں کی بدولت پندرہ روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے، جس نے کشیدہ صورت حال کو وقتی طور پر کم کیا اور دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے میں مدد دی۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے وفود کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے تعمیری مذاکرات کیے جاسکیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کے دوران اپنا کردار مثبت اور مؤثر انداز میں ادا کیا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف عالمی بحرانوں میں ثالثی اور صلح کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے، لیکن آج کی صورت حال اپنی نوعیت میں نہایت نازک اور حساس ہے۔ وزیرِاعظم کی قیادت میں مذاکرات نہ صرف پاکستان کی سفارتی مہارت کا مظہر ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ملک عالمی برادری میں ایک ذمے دار اور مؤثر ریاست کے طور پر اپنا مقام برقرار رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو “مکمل اور شاندار فتح” قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کے لیے سو فیصد کامیابی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس جنگ بندی کے تحت ایران کے یورینیم ذخائر پر مؤثر کنٹرول حاصل کیا جائے گا اور خطے میں بحری آمدورفت کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے چین کی ثالثی اور تعاون کو بھی سراہا۔ خطے میں کشیدگی کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات میں شریک ہونے کا وعدہ کیا ہے، جس سے عالمی اقتصادی اور تجارتی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے تاہم واضح کیا کہ مذاکرات میں فریقین کی نیتوں پر مکمل اعتماد قائم کرنا ابھی باقی ہے اور کوئی بھی غیر ذمے دارانہ قدم سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کا یہ عمل عالمی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی موجودگی مذاکرات کی سنجیدگی اور ملک کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان صرف میزبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک فعال ثالث اور امن کے علمبردار کے طور پر اس عمل میں شامل ہے۔ ان مذاکرات کی اہمیت صرف سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی تیل کی مارکیٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بہتر بنانے کے لیے موجود رہے گا اور مختلف قسم کی سپلائز فراہم کرے گا تاکہ خطے میں صورت حال مستحکم رہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اہم فوائد کی حامل ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ چند دہائیوں میں خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ رہی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوجاتے ہیں تو یہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات میں بہتری کا سبب بنیں گے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ پہلی دس نکاتی تجویز کو مسترد کردیا اور اب دوسری دس نکاتی تجویز پر بات چیت جاری ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے اور کسی بھی غیر ذمے دارانہ فیصلے کے خطرات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے اور یہ ہر فریق کے لیے سبق ہے کہ اعتماد اور شفافیت کو مقدم رکھا جائے۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے “سنہری دور” میں داخل ہوسکتا ہے اور یہ معاہدہ بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔ ایران اب تعمیر نو کے عمل کا آغاز کرسکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدن ملک کی ترقی میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدہ نہ صرف امن بلکہ اقتصادی ترقی کے مواقع بھی فراہم کررہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی اور مذاکرات میں سرگرم کردار عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کررہا ہے۔ وزیرِاعظم اور ان کی ٹیم نے نہایت دانش مندی اور تحمل کے ساتھ امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ اس عمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمے دار اور مؤثر ملک کے طور پر اپنی حیثیت قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ مذاکرات اس بات کی عکاسی بھی کرتے ہیں کہ امن کا حصول ممکن ہے اگر تمام فریقین بروقت، سمجھ داری اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پاکستان کی ثالثی اور مہارت نہ صرف موجودہ بحران میں بلکہ آنے والے دنوں میں بھی مثبت پیش رفت کے امکانات بڑھا رہی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات ایک تاریخی موقع ہیں۔ یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ عالمی امن، اقتصادی استحکام اور معاشی ترقی کے نئے مواقع بھی فراہم کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی، وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شرکت اس بات کی ضمانت ہے کہ مذاکرات سنجیدہ اور نتیجہ خیز ہوں گے۔ اگر تمام فریقین اپنے وعدوں اور ذمے داریوں کو سمجھ داری کے ساتھ نبھائیں تو یہ معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن، ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

global peaceIran US WarPakistan’s mediation