سجدے سے شروع ہونے والا سفر

فہیم سلیم

"فجر کی اذان ہو رہی ہے…” ماں نے آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ "حمزہ بیٹا… اٹھ جاؤ، اللہ تمہیں بلارہا ہے۔”
حمزہ نے کروٹ بدلی، آنکھیں مَلیں اور ایک لمحے کے لیے دل نے کہا، "ابھی پانچ منٹ اور…” مگر اگلے ہی لمحے وہ بستر سے اٹھ بیٹھا۔ اس نے وضو کیا، مسجد کی طرف چل پڑا۔ گلیاں سنسان تھیں، ہوا ٹھنڈی تھی اور آسمان پر ستارے ابھی باقی تھے۔ مسجد میں صرف چند بوڑھے نمازی موجود تھے۔
نماز ختم ہوئی تو امام صاحب نے صرف ایک جملہ کہا۔ "جو شخص اپنے رب کی پہلی پکار پر حاضر ہوجائے، دنیا ایک دن اس کی پکار پر حاضر ہوجاتی ہے۔” یہ جملہ حمزہ کے دل میں اتر گیا۔ وہ نہ کسی امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، نہ اس کے پاس سفارش تھی، نہ کوئی کاروبار۔ والد ایک چھوٹی سی دکان پر ملازم تھے، والدہ گھروں میں سلائی کرتی تھیں۔ کئی راتیں ایسی گزرتیں جب گھر میں صرف دال پکتی، مگر ماں ہمیشہ کہتی: "رزق کم ہوسکتا ہے، لیکن اللہ پر یقین کبھی کم نہیں ہونا چاہیے۔”
حمزہ نے ایک فیصلہ کیا۔ "میں چاہے دنیا کی ہر چیز میں کمزور رہ جاؤں، مگر نماز میں کبھی کمزور نہیں پڑوں گا۔” پھر اس نے اپنی زندگی بدل دی۔ فجر سے عشاء تک پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرنا اس کی عادت بن گئی۔ امتحان ہو، بارش ہو، سخت گرمی ہو یا بیماری، وہ مسجد پہنچ جاتا۔ وقت گزرتا گیا۔ کالج میں داخلہ ملا، لیکن مالی حالات اتنے خراب تھے کہ فیس جمع کرانا بھی مشکل تھا۔ ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر مسجد کے کونے میں بیٹھ گیا۔ اس نے ہاتھ اٹھائے اور صرف اتنا کہا: "یااللہ! میرے پاس کوئی وسیلہ نہیں… میرے لیے تُو ہی کافی ہے۔” چند دن بعد کالج کی طرف سے اسے میرٹ پر اسکالرشپ مل گئی۔
وہ حیران تھا۔ کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ اس نے درخواست دی ہے۔ وہ سجدے میں گر پڑا۔ "یا اللہ! تُو واقعی سنتا ہے۔” زندگی آسان نہیں ہوئی، مگر اللہ نے راستے کھولنے شروع کردیے۔ جہاں لوگ بند دروازے دیکھتے تھے، وہاں اسے نئی امید مل جاتی۔ جہاں دوسرے ہمت ہار دیتے، وہ دو رکعت نفل پڑھ لیتا۔ جہاں لوگ شکایت کرتے، وہ دعا کرلیتا۔ تعلیم مکمل ہوئی تو نوکری کی تلاش شروع ہوئی۔ درجنوں انٹرویوز دیے۔ ہر جگہ جواب ایک ہی تھا۔ "ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔” وہ گھر آ کر روتا ضرور تھا، مگر فجر کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔ ایک دن والد نے کہا: "بیٹا! اگر تھک گئے ہو تو کچھ دن آرام کرلو۔”
حمزہ نے والد کے ہاتھ چوم کر جواب دیا: "ابا… میں دنیا سے نہیں تھکا، میں صرف اپنے رب کے سامنے جھکنا جانتا ہوں۔” چند ہفتوں بعد ایک بڑی کمپنی سے کال آئی۔ انٹرویو ہوا۔ منتخب ہوگیا۔ تنخواہ اس کے تصور سے کہیں زیادہ تھی۔ پہلی تنخواہ ملی تو سب سے پہلے ماں کے قدموں میں رکھ دی۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ انہوں نے صرف اتنا کہا: "بیٹا… یہ تنخواہ نہیں، تمہارے سجدوں کا پھل ہے۔”
سال گزرتے گئے۔ حمزہ ترقی کرتا گیا۔ گھر لیا۔ گاڑی خریدی۔ والدین کو عمرہ کرایا۔ ضرورت مند بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانا شروع کیا۔ لیکن ایک چیز کبھی نہیں بدلی۔ فجر کی پہلی صف۔ لوگ حیران ہوتے۔ "اتنے بڑے عہدے پر ہو، پھر بھی ہر نماز مسجد میں؟”
وہ مسکرا کر کہتا: "جس رب نے مجھے زمین سے اٹھایا، اس کے دروازے پر جانا کیسے چھوڑ دوں؟” پھر ایک دن آزمائش آئی۔ کمپنی شدید مالی بحران کا شکار ہوگئی۔ کئی بڑے افسر ملازمت سے نکال دیے گئے۔ سب خوف زدہ تھے۔ حمزہ بھی انسان تھا۔ اسے بھی ڈر لگا۔ مگر اس نے پھر وہی کیا جو ہمیشہ کرتا تھا۔ وضو کیا۔ دو رکعت نفل پڑھے۔ اور کہا: "یااللہ! اگر یہ دروازہ بند ہورہا ہے تو یقیناً تو میرے لیے اس سے بہتر دروازہ کھولے گا۔”
چند ہی دن بعد ایک بین الاقوامی ادارے نے اسے پہلے سے کئی گنا بہتر پیشکش دے دی۔ اس رات وہ دیر تک سجدے میں روتا رہا۔ وہ جان گیا تھا کہ رزق کمپنی نہیں دیتی، رزق دینے والا اللہ ہے۔ کئی سال بعد ایک نوجوان اس کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا: "سر… آپ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز کیا ہے؟” حمزہ نے اپنی مہنگی گھڑی اتاری۔ موبائل میز پر رکھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ پھر آہستہ سے کہا: "میری کامیابی نہ اس گھڑی میں ہے، نہ اس عہدے میں، نہ اس بینک بیلنس میں۔ میری کامیابی اس دن شروع ہوئی تھی جس روز میں نے فجر کی اذان پر اٹھنا شروع کیا تھا۔”
نوجوان خاموش ہوگیا۔ حمزہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے مزید کہا: "میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے… جو بندہ اللہ کے لیے اپنا بستر چھوڑ دیتا ہے، اللہ ایک دن اس کے لیے تقدیر بدل دیتا ہے۔”
دوستو! کامیابی صرف بڑی گاڑی، عالی شان گھر یا بھاری بینک بیلنس کا نام نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کا دل اپنے رب سے جڑا رہے۔ دولت ختم ہوسکتی ہے، عہدے چھن سکتے ہیں، شہرت ماند پڑسکتی ہے، مگر ایک سچا سجدہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔ نماز صرف فرض عبادت نہیں، یہ انسان کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کو جوڑنے، بکھرے ہوئے دل کو سنبھالنے اور مایوس روح میں نئی جان ڈالنے کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ جو شخص اپنے دن کی ابتدا اللہ کے حضور جھک کر کرتا ہے، وہ زندگی کی سخت ترین آزمائشوں میں بھی تنہا نہیں رہتا۔ ہوسکتا ہے آج آپ کی دعائیں ابھی قبول ہوتی نظر نہ آرہی ہوں، حالات آپ کے خلاف ہوں، راستے بند دکھائی دیتے ہوں، لیکن اگر آپ کا ماتھا سجدے میں جھکتا ہے تو یقین رکھیے، آسمان پر آپ کے لیے فیصلے ابھی بھی لکھے جارہے ہیں۔ شاید آپ کی کامیابی بھی کسی دفتر، کسی کاروبار یا کسی بڑے موقع سے نہیں… بلکہ اگلی فجر کی اذان سے شروع ہونے والی ہو۔