وقاص بیگ
شہر کے مصروف علاقے میں ایک شخص رہتا تھا، جس کا نام فرید تھا۔ بظاہر وہ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ملنسار نظر آتا تھا، مگر حقیقت اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ فرید کا کاروبار دھوکے، جھوٹ اور فریب پر قائم تھا۔ وہ لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا، ان کے خواب بیچتا اور ان کی جمع پونجی ہتھیا لیتا۔ کسی کو کاروبار میں منافع کے خواب دکھاتا، کسی کو نوکری دلانے کا وعدہ کرتا اور کسی سے ہمدردی کا ڈرامہ کرکے پیسے بٹور لیتا۔ اس کے لیے انسان صرف سیڑھیاں تھے جنہیں استعمال کرکے وہ اوپر چڑھنا چاہتا تھا۔ شروع میں قسمت اس پر مہربان رہی۔ اس کا گھر بڑا ہوگیا، گاڑی بدل گئی، بینک بیلنس بڑھ گیا۔ لوگ اسے کامیاب کہتے تھے، لیکن ایک حقیقت ایسی تھی جو ہر رات اس کے بستر کے ساتھ جاگتی تھی۔ تنہائی۔
وہ جتنا امیر ہوتا گیا، اتنا ہی اکیلا ہوتا گیا۔ اس کی بیوی اکثر کہتی: "فرید! انسان دولت سے نہیں، اعتماد سے بڑا بنتا ہے۔” لیکن فرید ہنس کر جواب دیتا: "دنیا میں صرف پیسے کی عزت ہے۔” وقت گزرتا گیا۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اس کے دفتر آیا۔ اس کی آنکھوں میں امید تھی۔ "بیٹا، میری ساری جمع پونجی یہی ہے۔ اگر تمہارا منصوبہ کامیاب ہوگیا تو میری بیٹی کی شادی ہوجائے گی۔” فرید جانتا تھا کہ منصوبہ جھوٹا ہے مگر اس نے پیسے لے لیے۔ بوڑھا شخص دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔ کچھ مہینوں بعد یہ منصوبہ ناکام قرار دے دیا گیا اور فرید نے ہمیشہ کی طرح اپنے ہاتھ جھاڑ لیے۔ مگر اس دن کے بعد اسے سکون نہ ملا۔ ہر رات اسے بوڑھے شخص کی آنکھیں یاد آتیں۔ مگر ضمیر کی آواز کو اس نے پھر دولت کے شور میں دبا دیا۔
پھر ایک دن زندگی نے پلٹا کھایا۔ اس کا اکلوتا بیٹا حمزہ، جس پر وہ جان چھڑکتا تھا، بیرونِ ملک تعلیم کے لیے گیا۔ فرید نے اس کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ مگر چند ماہ بعد ایک فون کال آئی۔ "آپ کے بیٹے کے ساتھ بڑا فراڈ ہوگیا ہے۔” حمزہ کی تمام جمع شدہ رقم ایک جعل ساز نے ہتھیا لی تھی۔ ذہنی دباؤ نے اسے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا تھا۔ فرید فوراً وہاں پہنچا۔ اسپتال کے بستر پر لیٹے اپنے بیٹے کو دیکھ کر پہلی بار اس کا دل لرز گیا۔ حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: "ابو… لوگ اتنے ظالم کیوں ہوتے ہیں؟” یہ الفاظ فرید کے سینے میں تیر بن کر اتر گئے۔
اسے اچانک یاد آیا… کتنے لوگوں نے شاید یہی سوال اس کے بارے میں سوچا ہوگا۔ کتنے باپ اس کی وجہ سے روئے ہوں گے۔ کتنی مائیں پریشان ہوئی ہوں گی۔ کتنے نوجوانوں کے خواب اس نے روند ڈالے ہوں گے۔ فرید بیٹے کو لے کر وطن واپس آگیا اور حمزہ کا علاج مُلک کے ایک اچھے اسپتال میں کرانے لگا۔ حمزہ کو اس دھوکے سے اتنی تکلیف پہنچی تھی کہ چند دن بعد اُس نے خودکشی کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گیا، لیکن اس واقعے نے فرید کی دنیا ہلادی۔ اس رات وہ اسپتال کی مسجد میں بیٹھا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے خود کو بے بس محسوس کیا۔ وہ رو رہا تھا۔ شدید رو رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر ایک بوڑھے نمازی پر پڑی۔ وہ قریب آیا اور بولا: "بیٹا، انسان دوسروں کے آنسوؤں پر محل بناتا ہے تو ایک دن انہی آنسوؤں میں ڈوب جاتا ہے۔”
فرید چونک گیا۔ یہ الفاظ کسی تیر کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔ ساری رات اُسے نیند نہیں آئی۔ صبح ہوتے ہی پہلی بار اس نے اپنے دفتر کے دروازے بند کیے اور پرانی فائلیں نکال کر بیٹھ گیا۔ ہر فائل کسی نہ کسی دھوکے کی کہانی تھی۔ ہر نام کے پیچھے کسی خاندان کا درد چھپا تھا۔ وہ ایک ایک فائل دیکھتا اور روتا جاتا۔ اگلے چند مہینوں میں فرید نے ایک ایسا کام کیا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنی جائیدادیں بیچنا شروع کردیں۔ گاڑیاں فروخت کردیں۔ پلازے بیچ دیے۔ لوگ حیران تھے۔ وہ ایک ایک شخص کو تلاش کرتا جس کے ساتھ اس نے ظلم کیا تھا۔ کسی کے دروازے پر جا کر معافی مانگتا۔ کسی کے پیسے واپس کرتا۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ کر روتا۔ اکثر لوگ اسے پہچان کر غصے سے بھر جاتے۔ کئی لوگوں نے اسے برا بھلا کہا۔ کئی نے دروازہ بند کردیا۔ مگر وہ خاموشی سے سنتا رہتا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان کا غصہ جائز ہے۔
ایک دن وہ اسی بوڑھے شخص کے گھر پہنچا جس کی بیٹی کی شادی کے لیے اس نے پیسے لیے تھے۔ دروازہ ایک کمزور عورت نے کھولا۔ پتا چلا کہ بوڑھا شخص برسوں پہلے صدمے سے انتقال کرچکا تھا۔ فرید کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس نے روتے ہوئے ساری رقم کئی گنا زیادہ واپس کی۔ مگر اس کے دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ کیونکہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن کی تلافی دولت سے نہیں ہوسکتی۔
سال گزر گئے۔ فرید اب پہلے والا شخص نہیں رہا تھا۔ وہ غریب بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھاتا، بیواؤں کی مدد کرتا اور نوجوانوں کو ایمان داری کا درس دیتا۔ ایک دن ایک نوجوان نے اس سے پوچھا: "آپ لوگوں کی اتنی خدمت کیوں کرتے ہیں؟”
فرید کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ آہستہ سے بولا: "کیونکہ میں جانتا ہوں دھوکے کا درد کیا ہوتا ہے۔ میں نے دوسروں کو رلایا ہے، اب باقی زندگی ان کے آنسو پونچھنے میں گزارنا چاہتا ہوں۔” وقت کے ساتھ لوگ اس کی تبدیلی کے گواہ بنتے گئے۔
وہ شخص جو کبھی دھوکے باز کے نام سے مشہور تھا، اب ایک نیک انسان کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ لیکن فرید کے دل میں ایک زخم آخر تک موجود رہا۔ ہر رات سونے سے پہلے وہ اپنے رب کے سامنے ہاتھ اٹھاتا اور کہتا: "یااللہ! جن لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف پہنچی، اگر وہ مجھے معاف نہ بھی کریں تو مجھے اتنی توفیق دے کہ میں ان کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکوں۔”
فرید فرشتہ نہیں تھا… اس نے غلطیاں کیں، بہت بڑی غلطیاں… مگر اس کی عظمت یہ تھی کہ اس نے اپنی غلطیوں کو پہچان لیا اور خود کو بدل لیا۔ زندگی کا سب سے بڑا معجزہ یہ نہیں کہ انسان کبھی گناہ نہ کرے… بلکہ یہ ہے کہ جب سچائی اس کے دل پر دستک دے تو وہ اپنی انا کو توڑ کر لوٹ آئے۔ اور بعض اوقات… ایک سچا آنسو برسوں کے جھوٹ سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔