اپنی کہانی خود لکھیں

فہیم سلیم

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں چھت پر گر رہی تھیں اور کمرے کے کونے میں بیٹھا حمزہ اپنی پرانی ڈائری کے ورق الٹ رہا تھا۔ ہر صفحہ ایک ادھوری کہانی تھا… ہر لفظ ایک ٹوٹے خواب کی گواہی دے رہا تھا۔
حمزہ ہمیشہ سے ایک بڑا آدمی بننا چاہتا تھا۔ دولت والا نہیں… بلکہ ایسا انسان جس پر اس کی ماں فخر کرے، جس کا نام عزت سے لیا جائے۔ مگر زندگی نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جو اکثر خواب دیکھنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے، امتحان پہ امتحان۔
اس کے والد ایک چھوٹے سے مزدور تھے، جو دن بھر اینٹیں اٹھاتے اور شام کو تھکے ہارے گھر آتے۔ ایک دن وہ بھی آیا جب وہ لوٹے ہی نہیں۔ ایک حادثہ… اور سب ختم۔ گھر کی چھت تو وہی رہی، مگر سہارا چھن گیا۔
حمزہ اُس دن سے بدل گیا تھا۔ وہ جو کبھی اسکول میں اول آتا تھا، اب کتابیں کھول کر بھی کچھ سمجھ نہیں پاتا تھا۔ ذمے داریوں کا بوجھ اس کے ننھے کندھوں پر آن پڑا تھا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا تو دل اندر سے ٹوٹ جاتا، مگر خود کو مضبوط دکھاتا۔ "امی، آپ فکر نہ کریں… میں سب ٹھیک کر دوں گا۔”
یہ جملہ وہ روز کہتا، مگر اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ کیسے۔ دن میں وہ ایک ورکشاپ میں کام کرتا، جہاں اس کے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ رات کو وہ تھکی ہوئی آنکھوں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتا، مگر نیند اسے شکست دے دیتی۔ کئی بار اس نے سوچا کہ سب چھوڑ دے… خواب بھی، پڑھائی بھی، سب کچھ۔
ایک رات، جب وہ شدید تھکن کے بعد زمین پر لیٹا ہوا تھا، اس کی ماں آہستہ سے اس کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا:
"بیٹا، تھک گئے ہو نا؟” حمزہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس نے مسکرا کر کہا، "نہیں امی، بس تھوڑا سا…”
ماں نے اس کے ہاتھ پکڑے، وہ ہاتھ جو اب نرم نہیں رہے تھے، بلکہ محنت کی سختی سے بھر چکے تھے۔ "بیٹا، یاد رکھنا… اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا۔ تم بہت مضبوط ہو۔ تم ہارنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔” یہ الفاظ جیسے اس کے دل میں اتر گئے۔
اُس رات حمزہ نے فیصلہ کیا کہ وہ نہیں ہارے گا۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک نیا اصول بنایا: "روز تھوڑا سا آگے بڑھنا ہے، چاہے جتنا بھی مشکل ہو۔”
وہ صبح پہلے سے زیادہ جلدی اٹھنے لگا۔ ورکشاپ میں بھی دل لگا کر کام کرتا اور رات کو چاہے نیند آنکھوں پر حاوی ہو، وہ کتاب کھول کر بیٹھ جاتا۔ کئی بار اس کی آنکھیں بند ہوجاتیں، مگر وہ خود کو جھنجھوڑ کر اٹھاتا۔ سال گزرتے گئے۔
لوگ ہنستے تھے، کہتے تھے: "یہ لڑکا کیا کر لے گا؟”
مگر حمزہ خاموش رہا۔ اس نے جواب دینا چھوڑ دیا تھا، اب وہ صرف عمل پر یقین رکھتا تھا۔
ایک دن، اس کے اسکول کے پرانے استاد نے اسے دیکھا۔ وہ چونک گئے۔
"حمزہ؟ تم یہاں کام کر رہے ہو؟” حمزہ نے سر جھکا کر کہا، "جی سر، حالات ایسے ہوگئے…”
استاد نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہی چمک، وہی خواب، جو ابھی تک زندہ تھا۔
"تم دوبارہ پڑھائی شروع کرو۔ باقی میں دیکھ لوں گا۔” وہ لمحہ حمزہ کی زندگی کا موڑ بن گیا۔
اس نے دوبارہ تعلیم شروع کی۔ دن میں کام، رات میں پڑھائی مگر اب اس کے پاس ایک امید تھی، ایک راستہ تھا۔ اس نے دن رات ایک کر دیے۔ اور پھر وہ دن بھی آیا… نتائج کا دن۔
حمزہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اپنا رول نمبر تلاش کیا۔ اور پھر… وہ رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ پورے ضلع میں اول آیا تھا۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا… اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ یہ وہی آنسو تھے جو برسوں سے اس کے دل میں جمع تھے، درد کے، محنت کے اور آج… خوشی کے۔ وہ دوڑتا ہوا گھر پہنچا۔ "امی!!!”
ماں کچن سے باہر آئیں، پریشان ہو کر پوچھا، "کیا ہوا؟”
حمزہ نے کاغذ ان کے ہاتھ میں دیا۔ ماں نے جیسے ہی دیکھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "میرا بیٹا… میرا بیٹا کامیاب ہوگیا…”
انہوں نے اسے گلے لگالیا۔ حمزہ نے آہستہ سے کہا، "امی… میں نے کہا تھا نا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
برسوں بعد، وہی حمزہ ایک بڑا افسر بنا۔ لوگ اس کا نام عزت سے لینے لگے۔ وہ جہاں بھی جاتا، لوگ اس کی مثال دیتے۔ مگر وہ کبھی نہیں بدلا۔
وہ آج بھی اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر وہی سکون محسوس کرتا، جو بچپن میں کرتا تھا۔
ایک دن، کسی نے اس سے پوچھا: "آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟” حمزہ مسکرایا… اور آہستہ سے کہا: "میں کبھی ہارا ہی نہیں… میں نے بس تھک کر رکنا چھوڑ دیا تھا۔”
کہانی ختم نہیں ہوئی تھی… کیونکہ اصل کہانی تو ہر اُس انسان کی ہے، جو ابھی بھی لڑ رہا ہے، جو ابھی بھی گرا ہوا ہے، مگر اُٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
یاد رکھیں… اندھیری رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، صبح ضرور ہوتی ہے اور جو لوگ ہمت نہیں ہارتے… وہی آخرکار اپنی کہانی خود لکھتے ہیں۔