غلام مصطفیٰ
امریکا ایران کی جنگ کے باعث لگ بھگ ساری دُنیا متاثر ہوئی ہے۔ خطے کے ممالک پر اس کے ازحد منفی اثرات پڑے ہیں۔ پاکستان بھی زد میں آیا ہے۔ یہاں مہنگائی آسمان پر جاپہنچی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین حدوں کو چھُورہی ہیں۔ عوام کے لیے روح اور جسم کا رشتہ اُستوار رکھنا چنداں آسان نہیں۔ پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے اور اس حوالے سے اُس کے کردار کو ساری دُنیا سراہ رہی ہے۔ امن اس وقت اشد ضروری ہے۔ کیا امریکا اور ایران امن کو ایک اور موقع دے سکیں گے؟ یہ سوال پوری شدت کے ساتھ ہر ذہن میں اُٹھ رہا ہے۔
امریکا، ایران اور خطے کی موجودہ کشیدہ صورت حال عالمی سیاست کے نہایت حساس اور نازک مرحلے کی عکاسی کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف جغرافیائی تنازعات اور جنگی خطرات سے دوچار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی ایک بار پھر عالمی امن کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی میں توسیع کے اعلان نے ایک نئی سفارتی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ براہِ راست پاکستانی قیادت کی درخواست اور رابطوں کے نتیجے میں کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی قیادت نے امریکا پر زور دیا کہ ایران کے خلاف فوری عسکری کارروائی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جاسکتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ مذاکرات کو موقع دیا جائے۔ یہ بات پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کی توثیق کرتی ہے جس میں ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارت کاری کو جنگ پر ترجیح دی گئی ہے۔ پاکستان کی یہ کوشش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ محض علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کے طور پر عالمی امن کے لیے فعال کردار ادا کررہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مسلسل سفارتی اور عسکری سطح پر مشاورت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس بحران کو محض تماشائی بن کر نہیں دیکھ رہا بلکہ عملی طور پر امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔ دونوں رہنما بین الاقوامی اور علاقائی قیادتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جاسکے۔ اس صورت حال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ بندی کو مستقل امن میں کیسے بدلا جائے۔ محض عارضی جنگ بندی کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتی۔ ایران کی جانب سے امریکی اعلان کو مسترد کیے جانے سے یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے کہ اعتماد کا فقدان اب بھی موجود ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ محض بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور ضمانتیں ضروری ہیں۔ یہ بات اس امر کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں امن کے لیے صرف عسکری دباؤ نہیں بلکہ سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کا کردار اس موقع پر نہایت اہمیت اختیار کرجاتا ہے، پاکستان ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں پاکستان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور رابطے کے فروغ میں مدد دینے کے لیے کوشاں ہے۔ خطے کی جغرافیائی حقیقتیں بھی اس بات کی متقاضی ہیں کہ کسی بھی قسم کی جنگ نہ صرف متاثرہ ممالک بلکہ پورے عالمی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ توانائی کے راستے، تجارتی گزرگاہیں اور سمندری حدود اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوسکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑے گا۔ اسی لیے عالمی برادری بھی اس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کی کوششوں کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی ٹیم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری سطح پر حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ایک متوازن اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی مسلسل مصروفیات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان کسی بھی بحران کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، سیاست اور عالمی تعلقات تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسے میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف کہ تمام تنازعات کا حل مذاکرات ہیں، ایک حقیقت پسندانہ اور پائیدار نقطہ نظر ہے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں عالمی امن کی امید پیدا کرتی ہیں۔ اگر فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کو موقع دیں تو یقیناً خطہ ایک بڑے بحران سے بچ سکتا ہے۔ عالمی امن کا مستقبل اسی بات پر منحصر ہے کہ طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جائے اور یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان اس وقت پوری دنیا کو دے رہا ہے۔