نوجوان نسل کے تیزی سے بڑھاپے کی جانب بڑھتے قدم، اہم انکشاف

کراچی: دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان نسل گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ تیزی سے عمر رسیدہ ہورہی ہے، جو کینسر کے بڑھتے خطرے کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔
جرنل نیچر میڈیسن میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق 1965 سے 1974 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر 1950 سے 1954 کے درمیان پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی۔ اسی طرح 1990 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد میں بھی حیاتیاتی بڑھاپا 1965 سے 1969 کے درمیان پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھا گیا۔
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ین کاؤ کے مطابق بعض نوجوانوں کے جسم میں خلیاتی اور سالماتی سطح پر عمر بڑھنے کے آثار معمول سے پہلے ظاہر ہورہے ہیں اور یہی تبدیلیاں کم عمری میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز سے منسلک ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کینسر کو روایتی طور پر بڑھاپے کی بیماری سمجھا جاتا ہے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نوجوانوں میں اس کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
برٹش میڈیکل جرنل کی رپورٹ کے مطابق 1990 کے بعد دنیا بھر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کی نئی تشخیص کے کیسز میں 79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بچوں میں بھی کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یورپی کینسر انفارمیشن سسٹم کے مطابق 2022 کے دوران یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں قریباً 13 ہزار 800 بچوں اور نوجوانوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔