جنگ کی آگ یا امن کی راہ؟

عبدالعزیز بلوچ

دنیا کے مختلف خطے گزشتہ کئی برسوں سے جنگ، کشیدگی اور طاقت کے استعمال کی سیاست کا شکار ہیں، مگر مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال ہمیشہ عالمی امن، معیشت اور سفارتی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جب طویل سفارتی کوششوں، علاقائی رابطوں اور بین الاقوامی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تو دنیا بھر میں اس پیش رفت کو امید کی ایک نئی کرن سمجھا گیا۔ لیکن افسوس کہ جنگ بندی کے چند ہی دن بعد ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات، فضائی حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات نے ایک بار پھر خطے کو بے یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ جنگ بندی کسی بھی تنازع کا اختتام نہیں بلکہ مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف گولیاں روکنا نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے۔ اگر جنگ بندی کے کچھ ایام بعد فریقین ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کردیں یا ہر واقعے کا جواب طاقت سے دیا جائے تو امن کی وہ نازک امید بھی دم توڑ سکتی ہے جسے بڑی محنت سے زندہ کیا گیا تھا۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران نے بحری جہاز پر ڈرون حملہ کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جب کہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکی حملوں کو اشتعال انگیز قرار دے رہا ہے۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا کو الزام تراشی سے زیادہ تحمل، بردباری اور سفارتی دانش کی ضرورت ہے۔ ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات، بین الاقوامی نگرانی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے حقیقت سامنے لانا زیادہ مناسب راستہ ہے، کیونکہ عسکری جواب اکثر تنازع کو مزید پیچیدہ بنادیتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ صرف چند ممالک کا خطہ نہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی اور بین الاقوامی معیشت کا ایک اہم مرکز ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا توانائی کے بحران، مہنگائی، تجارتی رکاوٹوں اور معاشی عدم استحکام کا سامنا کرسکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ گزشتہ کئی برسوں میں ایران اور امریکا کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے، مگر حالیہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب خطہ مزید تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے مختلف ممالک، سفارتی اداروں اور ثالثوں نے مسلسل کوششیں کیں۔ پاکستان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ ایسے میں اگر فریقین جلد بازی یا جذباتی فیصلوں سے کام لیں گے تو نہ صرف یہ تمام سفارتی کاوشیں ضائع ہوجائیں گی بلکہ آئندہ کسی بھی امن کوشش پر اعتماد قائم کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ طاقت وقتی برتری تو دلا سکتی ہے لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات، برداشت اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ دنیا نے کئی بڑے تنازعات کو بالآخر سفارت کاری کے ذریعے حل ہوتے دیکھا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو میز پر بیٹھ کر حل کیا جائے، نہ کہ میدانِ جنگ میں۔
عالمی برادری کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اس نازک مرحلے پر غیر جانبدار کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی کو مؤثر بنائیں، فریقین کے تحفظات سنیں اور ایسے کسی بھی واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائیں جو معاہدے کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہو۔ شفافیت اور اعتماد ہی ایسے تنازعات کو مزید بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں بااثر ممالک ہیں اور ان کے فیصلے خطے کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے دونوں قیادتوں کو جذبات کے بجائے تدبر، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جنگ بندی کو کمزوری نہیں بلکہ امن کے لیے ایک سنجیدہ موقع سمجھنا ہوگا۔ اگر ہر الزام کا جواب میزائل اور ہر واقعے کا جواب فضائی حملے سے دیا جائے گا تو مذاکرات کی گنجائش ختم ہوتی چلی جائے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین حالیہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے براہِ راست رابطے بحال کریں، ایک دوسرے کے تحفظات سفارتی ذرائع سے دُور کریں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو معاہدے کو سبوتاژ کرسکتے ہوں۔ دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ خطے کے عوام امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں، نہ کہ مسلسل خوف، بے یقینی اور تباہی۔ امن کا معاہدہ بڑی تگ و دو، مسلسل سفارتی کوششوں اور مشکل مذاکرات کے بعد وجود میں آیا ہے۔ اس لیے اس نازک موقع کو ضائع ہونے سے بچانا فریقین کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ صرف بداعتمادی میں اضافہ کرے گا جبکہ صبر، تدبر اور بردباری دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جائے، طاقت کے بجائے عقل و حکمت سے فیصلے کیے جائیں اور خطے سمیت پوری دنیا کے بہتر مستقبل کے لیے امن کو ایک حقیقی موقع دیا جائے۔