واشنگٹن/ تہران: ایک دوسرے کے خلاف امریکا اور ایران نے عسکری کارروائیاں روکنے پر اتفاق کرلیا ہے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اہم مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال تمام فوجی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور تجارتی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے تکنیکی مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق شقوں کی مختلف تشریحات کے باعث حالیہ دنوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کا یقین دلایا۔
امریکی حکام کے مطابق دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی شریک ہوں گے جب کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی ہم آہنگی کے لیے براہ راست رابطہ (ہاٹ لائن) قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، تاہم یہ نظام تاحال فعال نہیں ہوسکا۔
وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر فوری کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔