امانت، دیانت داری اور اسلامی تعلیمات

محمد راحیل وارثی

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاق، معاملات اور معاشرتی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی بُنیاد جِن اعلیٰ اخلاقی اقدار پر رکھی گئی ہے، ان میں امانت اور دیانت داری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ دونوں اوصاف کسی بھی فرد کے کردار کو سنوارنے اور معاشرے کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ امانت سے مُراد وہ ہَر چیز ہے جو کسی انسان کے سُپرد کی جائے، خواہ وہ مال ہو، ذمے داری ہو، راز ہو، اختیار ہو یا کوئی عہدہ۔ امانت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے پورے اخلاص، ایمان داری اور ذمے داری کے ساتھ ادا کیا جائے جب کہ دیانت داری انسان کے باطنی کردار کی عکاس ہوتی ہے، یعنی ہر حال میں سچائی، انصاف اور اللہ تعالیٰ کے خوف کو ملحوظِ خاطر رکھنا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔” (سورۃ النساء: 58)
یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امانت ادا کرنا محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک شرعی حُکم ہے۔ جو شخص اس میں خیانت کرتا ہے، وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو بعثت سے پہلے بھی الصادق اور الامین کے القاب سے پکارا جاتا تھا۔ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کے سخت مخالف ہونے کے باوجود اپنی قیمتی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھوایا کرتے تھے۔ ہجرت کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اس لیے مکہ میں چھوڑا کہ وہ لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچادیں۔ یہ واقعہ امانت کی ادائیگی کی عظیم مثال ہے۔
اسلام میں امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ صرف مال یا چیزیں ہی نہیں بلکہ حکومتی عہدے، ملازمت کی ذمے داریاں، اولاد، استاد کا علم اور حتیٰ کہ انسان کا وقت، سب امانت کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو شخص اپنے عہدے یا اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے، رشوت لیتا یا ناانصافی کرتا ہے، وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح جو والدین اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں، وہ بھی ایک عظیم امانت ضائع کررہے ہوتے ہیں۔
دیانت داری کا تعلق انسان کے ضمیر سے ہے۔ دیانت دار انسان وہ ہے جو تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ اللہ کے خوف سے غلط کاموں کو کرنے سے رک جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں امانت نہیں، اس کا ایمان کامل نہیں۔” (مسند احمد)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ایمان اور امانت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دیانت داری کے بغیر ایمان کا دعویٰ ادھورا ہے۔ تجارت اور کاروبار میں دیانت داری کو اسلام میں بہت بُلند مقام دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔” (ترمذی)
اس کے برعکس جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، ملاوٹ کرتے یا جھوٹے وعدے کرتے ہیں، ان کے لیے قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔ ایسی بددیانتی صرف دنیا میں بدنامی نہیں بلکہ آخرت میں بھی سخت حساب کا سبب بنے گی۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار امانت اور دیانت داری پر ہوتا ہے۔ جب اداروں میں ایمان داری ہو، عدالتوں میں انصاف ہو اور حکمران اپنے فرائض کو امانت سمجھ کر ادا کریں تو معاشرہ امن اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، لیکن جب خیانت، رشوت اور بددیانتی عام ہوجائے تو معاشرتی نظام تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔
امانت اور دیانت داری کا سب سے بڑا فائدہ اعتماد ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں تو رشتے مضبوط ہوتے ہیں، کاروبار پھلتا پھولتا ہے اور معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔ ایک دیانت دار انسان اگرچہ وقتی طور پر نقصان میں نظر آئے، مگر انجام کار کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ آج ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اپنی ملازمت، کاروبار، گھریلو زندگی اور معاشرتی رویوں میں امانت اور دیانت داری کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم سہولت یا فائدے کے لیے خیانت کا راستہ تو اختیار نہیں کررہے؟ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ان اسلامی اقدار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں امانت دار اور دیانت دار بنائے، ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔

IntegrityislamTrustworthiness