عبدالعزیز بلوچ
ایک بوڑھا آدمی روز شام کو شہر کے پرانے ریلوے اسٹیشن کے باہر آکر بیٹھ جاتا تھا۔ سردیوں کی دھند ہو، گرمی کی تپش یا بارش کی بوندیں… وہ کبھی ناغہ نہیں کرتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک پرانا سا تھیلا ہوتا، جس میں کچھ سوکھے پھول، ایک پانی کی بوتل اور ایک بوسیدہ تصویر رکھی ہوتی۔ لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے۔ کچھ اس پر ترس کھاتے، کچھ مذاق اُڑاتے مگر کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ہر روز وہاں کیوں آتا ہے۔ اس بوڑھے کا نام سلیم تھا۔
کبھی وہ بھی ایک خوشحال انسان ہوا کرتا تھا۔ اس کے پاس چھوٹا سا گھر تھا، محبت کرنے والی بیوی تھی اور ایک بیٹا… حسن۔
حسن اس کی پوری دنیا تھا۔ سلیم مزدوری کرتا، دن بھر اینٹیں اٹھاتا، مگر رات کو گھر آتے ہی ساری تھکن اُس وقت ختم ہوجاتی جب چھوٹا حسن دوڑ کر اس کے سینے سے لگتا اور کہتا: “ابو! ایک دن میں بڑا آدمی بنوں گا… آپ کو کام نہیں کرنے دوں گا۔”
سلیم ہنس دیتا، مگر دل ہی دل میں دعا کرتا کہ اللہ اس کے بیٹے کے نصیب روشن کرے۔ وقت گزرتا گیا۔ غربت تھی، مگر محبت بہت تھی۔ کئی کئی راتیں ایسی آتیں جب گھر میں صرف ایک وقت کا کھانا ہوتا۔ سلیم خود بھوکا سو جاتا مگر حسن کے لیے دودھ ضرور لے کر آتا۔ بیوی اکثر کہتی: “اپنے لیے بھی کچھ سوچ لیا کرو سلیم…” مگر وہ مسکرا کر جواب دیتا: “میری زندگی تو حسن ہے۔”
پھر ایک دن سلیم کی بیوی بیمار پڑ گئی۔ بیماری بڑھتی گئی، مگر علاج کے پیسے نہیں تھے۔ سرکاری اسپتالوں کی لائنوں میں کھڑے کھڑے سلیم کے جوتے گھس گئے، مگر قسمت نہ پگھلی۔ ایک رات اُس کی بیوی نے سلیم کا ہاتھ پکڑا اور دھیمی آواز میں کہا: “میرے بعد حسن کو کبھی اکیلا مت چھوڑنا…” اور پھر اُس کی سانس ٹوٹ گئی۔
اس دن پہلی بار لوگوں نے سلیم کو بچوں کی طرح روتے دیکھا تھا۔ مگر زندگی رکی نہیں۔ اب سلیم ماں بھی تھا، باپ بھی۔ وہ صبح فجر سے پہلے نکلتا، رات گئے واپس آتا، مگر حسن کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا۔ خود پھٹے کپڑے پہنتا مگر بیٹے کو اچھے اسکول میں پڑھاتا۔ سال گزرتے گئے۔ حسن واقعی بہت ذہین نکلا۔ اس نے اسکالرشپ حاصل کی، شہر کی بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ پورے محلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سلیم ہر کسی سے کہتا پھرتا: “میرا بیٹا افسر بنے گا!” مگر بڑے شہروں کی چمک اکثر لوگوں کو بدل دیتی ہے۔
حسن آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ پہلے روز فون کرتا تھا، پھر ہفتے میں ایک بار… پھر مہینوں خاموشی رہنے لگی۔ سلیم ہر کال پر یہی پوچھتا: “بیٹا، کھانا وقت پر کھا لیا کرو…” اور دوسری طرف سے صرف جلدی جلدی جواب آتا: “جی ابو، میں مصروف ہوں…”
پھر ایک دن حسن نے نوکری حاصل کرلی۔ اچھی تنخواہ، بڑا دفتر، نئے دوست… نئی دنیا۔
سلیم خوشی سے نہال ہوگیا۔ اُس نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی۔ اُس رات وہ اپنی مرحوم بیوی کی قبر پر گیا اور روتے ہوئے بولا: “دیکھو… ہمارا بیٹا کامیاب ہوگیا…” مگر شاید کامیابی کے ساتھ کچھ رشتے پیچھے رہ گئے تھے۔
کچھ عرصے بعد حسن نے شہر میں شادی کرلی۔ سلیم کو صرف فون پر اطلاع دی گئی۔ “ابو، حالات ایسے تھے… آپ کو بلانے کا وقت نہیں ملا…” یہ سن کر سلیم کئی منٹ خاموش رہا۔ پھر صرف اتنا بولا: “خوش رہو بیٹا…”
اس رات اُس نے پہلی بار اپنے خالی گھر کو بہت غور سے دیکھا تھا۔ دیواریں بھی جیسے اُداس تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ حسن اب شاذونادر ہی گاؤں آتا۔ جب بھی آتا، جلدی میں ہوتا۔ ایک دن اُس نے صاف لفظوں میں کہا: “ابو، آپ یہ پرانا محلہ چھوڑ دیں… لوگ عجیب ہیں… اور پلیز میرے آفس مت آیا کریں…”
سلیم کے ہاتھ سے چائے کا کپ کانپ گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اُس کا بیٹا اب اُس سے شرمانے لگا ہے۔ مگر باپ عجیب ہوتے ہیں۔ وہ اولاد کی نفرت میں بھی محبت ڈھونڈ لیتے ہیں۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ حسن کی گاڑی کو حادثہ ہوگیا ہے۔
سلیم ننگے پاؤں شہر کی طرف بھاگا۔ اسپتال پہنچا تو حسن آخری سانسیں لے رہا تھا۔ پورے کمرے میں مشینوں کی آوازیں تھیں۔ حسن نے کمزور ہاتھ سے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا… اور برسوں بعد پہلی بار رویا۔
“ابو… مجھے معاف کردیں… میں بہت برا بیٹا ہوں…”
سلیم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ “ایسا مت کہو بیٹا… باپ کبھی اولاد سے ناراض نہیں ہوتا…” حسن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“ابو… میں نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا… آپ نے میرے لیے پوری زندگی قربان کردی… اور میں نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ اب میں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔”
حسن جتنے دن اسپتال میں رہا، سلیم نے جی جان سے اُس کی خدمت کی۔ کچھ ہی ہفتوں میں حسن صحت یاب ہوگیا۔
اس حادثے کے بعد حسن جان چکا تھا کہ وہ غلط تھا۔ وہ باپ کو اپنے ساتھ شہر لے آیا اور اُس کے ساتھ وقت گزارتا۔ حسن اُسی طرح باپ کی خدمت میں پیش پیش رہتا، جس طرح وہ اُس کے ساتھ بچپن سے کرتا آیا تھا۔
دنیا میں سب سے مظلوم رشتہ شاید ماں باپ کا ہوتا ہے۔ وہ ساری زندگی اولاد کے لیے جیتے ہیں، اپنی خواہشیں مار دیتے ہیں، اپنی جوانی قربان کردیتے ہیں… مگر بدلے میں صرف تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی عزت اور تھوڑی سی محبت مانگتے ہیں۔ اور جب اولاد وہ بھی نہیں دیتی… تو وہ خاموشی سے اندر ہی اندر مرنے لگتے ہیں۔
اگر آپ کے ماں باپ زندہ ہیں… تو خدا کے لیے آج ہی اُن کے پاس بیٹھ جائیں۔
ان کے ہاتھ چوم لیں۔ ان سے دو باتیں محبت سے کرلیں۔ کیونکہ ایک دن ایسا آئے گا جب آپ کے پاس وقت ہوگا… مگر وہ نہیں ہوں گے۔