موبائل بابا۔۔۔

وقاص بیگ

شہر کے پرانے بازار میں ایک عجیب آدمی رہتا تھا۔ نام تو اس کا بشیر احمد تھا، لیکن پورا شہر اسے "موبائل بابا” کہتا تھا۔
وجہ؟
اس کے ہاتھ میں چوبیس گھنٹے موبائل رہتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ پہلے اپنے بچوں کو نہیں، بلکہ فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک کو سلام کرتا تھا۔ بیوی اکثر کہتی، "اللہ کا واسطہ ہے، کبھی مجھے بھی ایسے دیکھ لیا کریں جیسے موبائل کو دیکھتے ہیں۔” بشیر فوراً جواب دیتا، "تم تو حقیقت ہو… موبائل میں پوری دنیا ہے۔”
بیوی ہنستی ہوئی کہتی، "ہاں، دنیا تو ہے… بس عقل نہیں۔”
بشیر کا ایک عجیب شوق تھا۔ ہر چیز میں ایکسپرٹ بن جانا۔ اگر محلے میں کسی کو بخار ہو جاتا تو ڈاکٹر سے پہلے بشیر پہنچتا۔ "یہ بخار نہیں، جسم میں گرمی چڑھ گئی ہے۔ ایک دیسی نسخہ ہے…”
اگر کسی کی گاڑی خراب ہوجاتی… "میں یوٹیوب پر پانچ ویڈیوز دیکھ چکا ہوں، بونٹ کھولو۔”
نتیجہ؟
گاڑی مزید خراب۔ ایک دن محلے والے جمع تھے۔ حاجی کریم بولے، "بشیر! تم ہر چیز میں رائے کیوں دیتے ہو؟”
بشیر نے سینہ پُھلاتے ہوئے کہا، "بھائی! علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔”
حاجی صاحب بولے، "اور جہالت؟” سب زور سے ہنس پڑے۔
اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب بشیر نے فیصلہ کیا کہ اب وہ "موٹیویشنل اسپیکر” بنے گا۔ اس نے روزانہ فیس بک پر لمبی لمبی پوسٹیں لکھنی شروع کردیں۔ "زندگی میں کبھی ہار مت مانو۔” یہ وہ شخص لکھ رہا تھا جس نے زندگی میں چار کاروبار شروع کیے اور چاروں بند ہوگئے تھے۔
ایک دن اس نے ویڈیو بنائی۔ "دوستو! صبح چار بجے اٹھیں… ٹھنڈے پانی سے نہائیں… دوڑ لگائیں… پھر کام کریں…”
ویڈیو ختم ہوئی۔ اسی روز محلے والوں نے اسے سہ پہر کو سوتے ہوئے پکڑ لیا۔
لوگ کمنٹس کرنے لگے۔ "بابا! خود بھی کبھی صبح چار بجے اٹھے ہیں؟” اس نے جواب دیا، "میں دوسروں کو راستہ دکھاتا ہوں، خود چلنا ضروری نہیں۔”
پھر اس نے آن لائن کاروبار شروع کیا۔ نام رکھا… "مفت مشورہ سینٹر” سلوگن تھا… "ہر مسئلے کا حل… صرف ایک ان باکس دور۔”
پہلے ہی دن سو سے زیادہ میسج آگئے۔ کسی نے پوچھا، "بیوی ناراض ہے، کیا کروں؟”
جواب آیا، "خاموش رہو۔”
اس نے خاموشی اختیار کی۔ بیوی نے سمجھا شوہر کو غرور آگیا ہے۔ تین دن بعد وہ میکے چلی گئی۔
دوسرے نے پوچھا، "سر! نوکری چھوڑ دوں؟” بشیر نے فوراً لکھا، "رسک لو…
بڑے خواب دیکھو۔” اس نے نوکری چھوڑ دی۔ دو مہینے بعد وہی بندہ بشیر کے پاس آیا۔ "سر! اب کھاؤں کیا؟” بشیر بولا، "اللہ بڑا کارساز ہے۔”
ایک دن تو کمال ہی ہوگیا۔ محلے کے رحیم نامی شخص نے مذاق کرنے کا سوچا۔ انہوں نے جعلی اکاؤنٹ بنایا اور میسج کیا۔
"سر! میری دو بیویاں ہیں… دونوں ایک دوسرے سے لڑتی ہیں… کیا کروں؟”
بشیر نے پورا مضمون لکھ مارا۔ "برابری کریں… محبت دیں… وقت تقسیم کریں…”
اگلے دن رحیم نے اسکرین شاٹ پورے محلے میں لگادی۔ نیچے لکھا تھا…
"مشورہ دینے والے بابا کی اپنی ایک بیوی تین دن سے ان سے بات نہیں کررہی۔”
بازار میں جہاں بھی بشیر جاتا… لوگ پوچھتے، "دو بیویوں کا کیا بنا؟”
اب بشیر کی شہرت کم ہونے لگی۔ ویوز گرنے لگے۔ لائکس ختم۔ تب اس نے نئی ترکیب نکالی۔ روز ایک جذباتی پوسٹ۔ "آج بہت دل دکھا ہے…” لوگ پوچھتے،
"کیا ہوا؟”
وہ جواب دیتا، "وقت آنے پر بتاؤں گا۔” پھر کچھ نہ بتاتا۔
محلے کے نوجوانوں نے اس کا نام رکھ دیا… "قسطوں والا انسان”
ایک شام محلے میں بجلی چلی گئی۔ سب لوگ گلی میں چارپائیاں ڈال کر بیٹھ گئے۔ برسوں بعد لوگ موبائل سے نکل کر ایک دوسرے سے بات کررہے تھے۔ کوئی ہنس رہا تھا۔ کوئی پرانی یادیں سنارہا تھا۔ کوئی آم کھارہا تھا۔ بشیر بھی مجبوراً باہر آ گیا۔
پہلے پانچ منٹ اسے بے چینی ہوئی۔ بار بار جیب سے موبائل نکالتا۔ نیٹ نہیں تھا۔ پھر پہلی بار اس نے غور کیا۔ اس کا اپنا بیٹا سامنے بیٹھا تھا۔ بیٹی ہنس رہی تھی۔ بیوی سب کو چائے دے رہی تھی۔ پڑوسی بغیر کسی مطلب کے باتیں کررہے تھے۔ کئی برس بعد اس نے اتنا قہقہہ لگایا کہ خود حیران رہ گیا۔
اسی دوران رحیم بولا، "بشیر، آج کوئی ویڈیو نہیں بنائی؟” وہ مسکرایا۔
"آج اصل زندگی چل رہی ہے… ویڈیو بعد میں بنا لوں گا۔”
اگلے دن انٹرنیٹ واپس آیا۔ سب کو یقین تھا کہ بشیر پھر لمبی چوڑی نصیحتیں شروع کر دے گا۔ لیکن اس نے صرف ایک لائن لکھی۔
"کل چھ گھنٹے موبائل بند رہا… اور پہلی بار احساس ہوا کہ میرے گھر میں بھی بہت اچھے لوگ رہتے ہیں۔” یہ پوسٹ وائرل ہوگئی۔ ہزاروں شیئرز۔ لاکھوں ویوز۔ مگر اس بار کسی نے اس کا مذاق نہیں اڑایا۔
لوگوں نے کمنٹس کیے: "یہ بات دل کو لگی۔”
"ہم بھی یہی غلطی کررہے ہیں۔”
"اصل زندگی واقعی اسکرین کے باہر ہے۔”
کچھ دن بعد ایک نوجوان اس کے پاس آیا۔ "بابا! وائرل ہونے کا راز بتائیں۔”
بشیر مسکرایا اور بولا، "پہلے میں لوگوں کو وہ باتیں بتاتا تھا جو مجھے خود نہیں آتی تھیں، اس لیے لوگ ہنستے تھے۔ اب میں صرف وہ بات لکھتا ہوں جو خود سیکھتا ہوں، اس لیے لوگ سنتے ہیں۔” پھر اس نے چائے کا گھونٹ لیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، "بیٹا… اس ملک میں مفت مشورہ دینے والے بہت ہیں، مگر اپنی غلطی مان لینے والے بہت کم۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سب ہنس پڑے کیونکہ رحیم نے فوراً کہا، "اور بشیر! اگر کبھی دوبارہ دو بیویوں کے مشورے دینے لگو… تو پہلے ایک ہی کو راضی کرلینا!”
پورا بازار قہقہوں سے گونج اٹھا اور بشیر بھی اس ہنسی میں شامل تھا، کیونکہ اس دن اسے سمجھ آگیا تھا کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی دوسروں کو بدلنا نہیں، خود کو بدلنا ہے۔
آج کے دور میں ہر شخص مشورہ دینے میں ماہر ہے، مگر اپنی زندگی سنوارنے میں کمزور۔ سوشل میڈیا پر دانش مند دکھائی دینا آسان ہے، مگر حقیقی دانائی اپنی غلطی تسلیم کرنے، اپنے گھر والوں کو وقت دینے اور عمل سے مثال قائم کرنے میں ہے۔ جو انسان خود کو بدل لیتا ہے، وہ بغیر شور مچائے دوسروں کے دل بھی بدل دیتا ہے۔