شہدا قوم کا فخر، قربانیوں کو متنازع بنانا قبول نہیں: خالد مقبول کا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق حالیہ بیان پر گہری تشویش اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی بقا اور سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں پر کسی قسم کی سیاست برداشت نہیں کی جاسکتی۔
اپنے ایک خصوصی بیان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ: "پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک کٹھن جنگ سے گزر رہا ہے جہاں ہمارے جوان اور شہری روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں شہدا کی قربانیوں یا ان کے مرتبے کو متنازع بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وطنِ عزیز کے دفاع اور امن کے لیے دی جانے والی ان عظیم قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی اور خاص طور پر ملک کی سیاسی قیادت پر فرض ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، گزشتہ روز جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے شہدا اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آیا تھا، جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ: سیاسی اختلافات اور پالیسیوں پر تنقید ہر جماعت کا جمہوری حق ہے، لیکن شہدا کے خون اور ان کے اہل خانہ کے جذبات کو سیاسی بحث کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاست دان سے الفاظ کے انتخاب میں انتہائی احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔
ایسے بیانات سے نہ صرف شہدا کے لواحقین کے دل دُکھی ہوتے ہیں بلکہ دشمن عناصر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر نے تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملکی استحکام اور یکجہتی کے لیے ایسا بیانیہ اپنائیں جو قوم کو متحد کرے، نہ کہ معاشرے میں تقسیم اور تلخی کا باعث بنے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بیان کی وضاحت کریں تاکہ پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔