بھلائی کبھی نہیں مرتی

بلال ظفر سولنگی

بارش کی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرہ نمبر 307 میں بیٹھا 45 سالہ حارث اپنی زندگی کی سب سے بڑی خاموشی سن رہا تھا۔ سامنے ڈاکٹر کی آواز اب بھی گونج رہی تھی۔ "آپ کو کینسر ہے… اور بیماری آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔”
یہ ایک ایسا جملہ تھا جس نے اس کی 24 سالہ کامیاب کاروباری زندگی، بینک بیلنس، لگژری گاڑیوں، بڑے بنگلوں اور دنیا بھر کے دوروں کو ایک لمحے میں بے معنی بنا دیا۔ حارث کراچی کے بڑے تاجروں میں شمار ہوتا تھا۔ لوگ اسے کامیاب کہتے تھے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس نے دولت کمانے کی دوڑ میں سب کچھ کھو دیا تھا۔ بوڑھی ماں برسوں پہلے دنیا سے چلی گئی، آخری دنوں میں وہ اس کے پاس نہ تھا۔ بیوی کئی سال پہلے طلاق لے کر جاچکی تھی کیونکہ حارث کے پاس ہر چیز کے لیے وقت تھا، سوائے اپنے گھر والوں کے۔ اس کا اکلوتا بیٹا علی بھی اس سے نفرت کرنے لگا تھا۔ اس رات پہلی بار حارث نے اپنے خالی محل جیسے گھر میں داخل ہو کر محسوس کیا کہ دیواریں بھی تنہائی کی آواز دیتی ہیں۔ وہ سیدھا اپنے اسٹڈی روم میں گیا، ایک سفید کاغذ نکالا اور لکھنا شروع کیا۔
"اگر یہ خط میرے مرنے کے بعد کسی کے ہاتھ لگے، تو اسے پڑھنے والا میری ایک آخری خواہش پوری کرے…”
یہ لکھ کر وہ رک گیا۔ اس نے قلم میز پر رکھا اور سوچنے لگا کہ آخر اس کی خواہش ہے کیا؟ پوری زندگی اس نے صرف اپنے لیے جیا تھا۔ کسی غریب کا ہاتھ نہیں تھاما، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا، کسی بھوکے کو کھانا نہیں کھلایا۔ اچانک اسے اپنا بچپن یاد آیا۔
اس کا باپ ایک معمولی اسکول ٹیچر تھا۔ ایک دن حارث نے باپ سے پوچھا تھا، "ابو، آپ کے پاس تو پیسے نہیں ہوتے، پھر بھی ہر مہینے کسی نہ کسی کی مدد کیوں کرتے ہیں؟” باپ مسکرایا تھا۔ "بیٹا، قبر میں دولت نہیں، دعائیں ساتھ جاتی ہیں۔” حارث نے اس وقت اس بات پر ہنس دیا تھا۔ آج وہی جملہ اس کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوگیا۔
اگلی صبح اس نے اپنے تمام کاروباری ساتھیوں کو بلا لیا۔ سب یہی سمجھے کہ شاید کمپنی کے نئے منصوبے پر بات ہوگی۔ مگر حارث نے خاموشی سے ایک فائل ان کے سامنے رکھ دی۔ "میں اپنی آدھی جائیداد ایک ٹرسٹ کے نام کررہا ہوں۔ اس سے یتیم بچوں کی تعلیم، بیواؤں کی کفالت اور غریب مریضوں کا علاج ہوگا۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ایک پارٹنر نے حیرت سے پوچھا، "آپ پاگل تو نہیں ہوگئے؟” حارث نے پہلی بار سکون سے جواب دیا۔ "نہیں… شاید آج پہلی بار ہوش میں آیا ہوں۔”
اس فیصلے کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا، "یہ دکھاوا ہے۔” کچھ نے کہا، "مرنے کا ڈر انسان سے سب کچھ کروا دیتا ہے۔” لیکن حارث نے کسی کی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ روزانہ مختلف اسپتالوں میں جانے لگا۔ وہ خاموشی سے مریضوں کے بل ادا کرتا، کسی یتیم خانے میں راشن پہنچا دیتا، کسی طالب علم کی فیس جمع کرادیتا۔ اس نے شرط رکھی کہ کسی کو اس کا نام نہ بتایا جائے۔ مہینے گزرتے گئے۔ ایک دن وہ ایک سرکاری اسپتال میں داخل ہوا۔ وہاں ایک نوجوان اپنی ماں کے علاج کے لیے رو رہا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا تھا، "آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے چاہئیں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔” نوجوان زمین پر بیٹھا رو رہا تھا۔ حارث نے اس کو تسلی دی اور خاموشی سے کیشیئر کے پاس جا کر پوری رقم جمع کرادی۔ واپس مڑنے لگا تو نوجوان اس کے قدموں میں گر گیا۔ "سر… آپ کون ہیں؟” حارث نے صرف اتنا کہا۔ "میں بھی کبھی کسی کا بیٹا تھا…” اور چلا گیا۔
اس رات وہ بہت رویا۔ شاید برسوں بعد۔ پہلی بار اس کے آنسو دولت کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے بہے تھے۔ چند ہفتے بعد بیماری نے شدت اختیار کرلی۔ ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا۔ "زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ…” حارث نے اپنے بیٹے علی کو فون کیا۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔ "بیٹا… اگر ہو سکے تو ایک بار ملنے آ جانا۔” فون بند ہو گیا۔
تین دن بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔ سامنے علی کھڑا تھا۔ کئی سال بعد باپ بیٹے کی نظریں ملیں۔ دونوں خاموش تھے۔ حارث نے کانپتے ہاتھوں سے ایک ڈائری علی کے حوالے کی۔ "اس میں میری پوری زندگی لکھی ہے… میری کامیابیاں نہیں، میری غلطیاں۔ اگر تم کبھی باپ بنو تو یہ غلطیاں مت دہرانا۔” علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "ابو… مجھے آپ سے نفرت تھی۔”
حارث نے مسکرا کر کہا۔ "مجھے بھی خود سے نفرت تھی، بیٹا۔” دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر دیر تک روتے رہے۔ یہ برسوں کی دوریاں تھیں جو آنسوؤں میں بہہ رہی تھیں۔
ایک ہفتے بعد حارث اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی وصیت کے مطابق جنازے میں کوئی خصوصی پروٹوکول نہیں تھا۔ صرف ایک سادہ کفن۔ مگر جنازے میں ایک عجیب منظر تھا۔ ہزاروں لوگ موجود تھے۔ وہ لوگ جنہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ایک بوڑھی عورت رو رہی تھی۔ "میرے شوہر کے علاج کے پیسے اسی نے دیے تھے۔” ایک نوجوان کہہ رہا تھا۔ "میں آج انجینئر ہوں، میری فیس اسی نے ادا کی تھی۔” ایک یتیم بچی اپنے ہاتھ میں پھول لیے کھڑی تھی۔ "اگر یہ انکل نہ ہوتے تو میں کبھی اسکول نہ جا پاتی۔”
علی حیران تھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے باپ نے مرنے سے پہلے جینا سیکھ لیا تھا۔ جنازے کے بعد وکیل نے وہ خط سب کے سامنے پڑھا جو حارث نے اپنی زندگی کی آخری رات لکھا تھا۔ خط میں صرف چند سطریں تھیں۔
"میں نے پوری زندگی دولت کمائی، مگر سکون نہیں خریدا۔ میں نے بڑے گھر بنائے، مگر ان میں محبت نہ بسا سکا۔ میں نے بہت لوگوں سے ہاتھ ملائے، مگر بہت کم دل جیتے۔ اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو ایک بات یاد رکھنا… زندگی اس دن کامیاب نہیں ہوتی جب تمہارے بینک اکاؤنٹ میں آخری صفر بڑھ جاتا ہے، بلکہ اس دن کامیاب ہوتی ہے جب کسی مجبور کی دعا میں تمہارا نام آ جائے۔ اپنے ماں باپ کو وقت دو، اپنے بچوں کو محبت دو، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو، کسی بھوکے کو کھانا کھلاؤ، کسی روتے ہوئے انسان کو ہنسا دو۔ یقین کرو، قبر میں تمہارے ساتھ تمہاری گاڑی، بنگلہ اور دولت نہیں اترے گی، صرف تمہارے اعمال اتریں گے۔”
خط ختم ہوا تو پورا ہال خاموش تھا۔ کئی آنکھیں اشک بار تھیں۔ علی نے وہ ڈائری سینے سے لگالی۔ اسی دن اس نے اپنے باپ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے دروازے پر صرف ایک جملہ لکھا گیا، جو آنے والے ہر انسان کو رکنے پر مجبور کردیتا تھا۔ "زندگی کا سب سے امیر انسان وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ دولت ہو، بلکہ وہ ہے جس کے جانے کے بعد سب سے زیادہ دعائیں اس کے حصے میں آئیں۔”