اسد احمد
شہر کی ایک پس ماندہ بستی میں یتیم لڑکا حسان اپنی دادی کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کے والدین بچپن میں ہی دنیا سے چلے گئے تھے۔ دادی کی پیرانہ سالی اور حسان کی چھوٹی چھوٹی مصروفیات ایک ساتھ جکڑے ہوئے تھے، لیکن ان کے گھر میں محبت کی روشنی کبھی کم نہیں ہوئی تھی۔ دادی اور پوتے کی محبت مثالی تھی اور پورا محلہ اس کی تعریف کرتا تھا۔
رمضان کا مہینہ آیا تو حسان کی دادی نے روزے رکھنے کا معمول شروع کیا۔ حسان بھی اپنی دادی کی پیروی میں روزے رکھنے لگا۔ دادی اکثر اسے کہتیں: "بیٹا، یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرنا اللہ کے نزدیک سب سے بڑی عبادت ہے۔”
حسان کی زندگی میں یہ بات صرف سننے کا سبق نہیں تھی، بلکہ ہر دن اسے محسوس ہوتی۔ وہ گلی کے بچوں کے ساتھ کھیلتا، خود محروم ہونے کے باوجود ضرورت مند بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں جمع کرتا اور دادی کے ساتھ قرآن کی آیات پڑھتے ہوئے سکون پاتا۔ رمضان کے دوران ہی، گلی میں شہزاد بھائی نامی شخص کی آمد ہوئی۔ شہزاد بھائی متمول گھرانے کے فرد تھے اور رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے عطیات و صدقات اصل مستحقین تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لیے وہ اس جگہ پر آئے تھے۔ شہزاد بھائی گلی میں ہی تھے اور لوگوں کے گھروں کے دروازے پر جا کر اُن سے تفصیلات حاصل کررہے تھے کہ اس دوران افطار کا وقت آن پہنچا۔ حسان بھی اس وقت گھر افطار کے لیے جارہا تھا۔ اُس نے شہزاد بھائی کو یوں دیکھا تو اُنہیں اپنے گھر افطار کرنے کی پیشکش کی۔ حسان کی خلوص بھری پیشکش نے شہزاد بھائی کے دل کو چھو لیا۔ وہ اُس کے ساتھ افطار کرنے گھر آگئے۔
چھوٹے چھوٹے کپڑے کے دسترخوان پر روٹی، دال اور چند کھجوریں رکھی تھیں۔ وہ سب کچھ بہت سادہ تھا، لیکن حسان کی دادی کی دعائیں اور حسان کی مسکراہٹ نے اسے ایک قیمتی لمحے میں بدل دیا۔ شہزاد بھائی نے وہ لمحہ دیکھا اور ان کے دل میں فیصلہ ہوا۔ انہوں نے حسان اور دادی کے لیے اُسی وقت رمضان کے پورے مہینے کا کھانے کا انتظام کردیا اور حسان کے کہنے پر محلے کے دیگر یتیم بچوں کو بھی مدد فراہم کی۔
حسان کو یہ سب دیکھ کر ایک حیرت اور سکون کا احساس ہوا۔ وہ دادی کے قریب گیا اور کہا، "دادی، آپ صحیح کہتی تھیں۔ یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واقعی دل کو سکون دیتا ہے۔” دادی نے آنکھیں نم کرکے حسان کا سر سہلایا اور کہا، "بیٹا، اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔”
چند دن بعد، رمضان کی ایک رات، حسان نے خواب میں اپنے والدین کو دیکھا۔ وہ مسکرا رہے تھے اور حسان کو گلے لگا رہے تھے۔ خواب میں والد نے کہا:
"بیٹا، تم نے یتیموں کی خدمت اور نیکی کے راستے پر قدم بڑھایا، یہ اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہے۔” حسان نے جاگ کر دعا کی، "یا اللہ، مجھے ہمیشہ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق دے اور میرے دل کو رحم دلی اور محبت سے بھر دے۔”
اس رمضان، حسان نے نہ صرف اپنی زندگی میں روشنی محسوس کی بلکہ گلی کے دوسرے بچوں میں بھی مثبت بدلاؤ پایا۔ اُس نے اپنے ساتھی بچوں کو سبق دیا کہ چھوٹے اعمال، چھوٹی نیکی اور دوسروں کے لیے محبت بھرا دل، دنیا اور آخرت میں بڑی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ یوں، ایک چھوٹے سے یتیم لڑکے کی سادہ سی نیکی، رمضان کے مہینے میں، پورے محلے کے دلوں میں روشنی کی کرن بن گئی۔