پاکستان اور انڈس ہسپتال کیلئے عالمی اعزاز: ڈاکٹر عبدالباری کو آئزن ہاور فیلوشپس امپیکٹ ایوارڈ عطا

کراچی: انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے بانی، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان کو پاکستان میں لاکھوں افراد کو معیاری اور مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے صحت کے نیٹ ورک کی تعمیر اور قیادت کے اعتراف میں 2026 کے جیمز اینڈ کیرول ہووی آئزن ہاور فیلوشپس امپیکٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالباری خان 2004 میں پاکستان سے آئزن ہاور فیلومنتخب ہوئے تھے۔ انہیں آئزن ہاور فیلوشپس کے چوتھے سالانہ ہووی امپیکٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا، جو معاشرے میں مثبت اور دیرپا اثرات پیدا کرنے والے نمایاں آئزن ہاور فیلو کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالباری خان نے یہ اعزاز پاکستان کے عوام کے نام کیا ہے، جن کا اعتماد اور عزم انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے مشن کے لیے مسلسل تحریک کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس اعزاز کو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے مخیر عطیہ دہندگان، شراکت داروں اور حکومتی معاونین کے نام کیا، جن کے مسلسل تعاون نے اس سفر کو ممکن بنایا۔ انہوں نے بالخصوص ڈاکٹروں، نرسوں، طبی ماہرین، عملے اور ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے سفر کا حصہ رہے ہیں۔ ان کی ثابت قدمی، عزم اور انتھک خدمات نے ایک مشترکہ خواب کو ایسی تحریک میں تبدیل کیا، جو لاکھوں افراد کو عزت، وقار اور ہمدردی کے ساتھ طبی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔
صرف 19 سال قبل کراچی میں 150 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال سے شروع ہونے والا انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان کی قیادت میں ایک ملک گیر صحت کے نظام میں تبدیل ہوچکا ہے، جو سالانہ 60 لاکھ سے زائد مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔ آج اس نیٹ ورک میں 12 کثیرالجہتی ہسپتال، 4 علاقائی بلڈ سینٹرز، 3 جسمانی بحالی کے مراکز اور ملک بھر میں 100 سے زائد بنیادی صحت کے مراکز اور عوامی صحت کے منصوبے شامل ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک میں 67 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے جب کہ 2 لاکھ 14 ہزار سے زائد مریض ہسپتال میں داخل ہوئے۔ اس عرصے میں 29 لاکھ بیرونی مریضوں کے معائنے، 14 لاکھ ہنگامی طبی خدمات اور 16 ہزار سے زائد محفوظ زچگیوں کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کو ذہنی صحت کی خدمات فراہم کی گئیں جب کہ 63 لاکھ سے زائد افراد میں ملیریا کی اسکریننگ کی گئی۔
پاکستان کے دور دراز اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں تک صحت کی خدمات پہنچانے کے لیے ڈاکٹر عبدالباری خان اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے موبائل طبی یونٹس، فوری قائم کیے جانے والے کنٹینر کلینکس، کشتیوں کے ذریعے طبی مراکز اور ٹیلی ہیلتھ خدمات جیسے جدید طریقے متعارف کرائے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے دریائی علاقوں، سیلاب سے متاثرہ آبادیوں، صحرائی علاقوں، شہری کچی آبادیوں اور ان دیگر علاقوں کے لوگوں تک طبی سہولتیں پہنچائی جارہی ہیں جہاں روایتی صحت کے نظام کی رسائی محدود ہے۔
آئزن ہاور فیلوشپس کے صدر جارج ڈی لاما نے ڈاکٹر عبدالباری خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالباری خان نے اپنے ذاتی وژن کو ایک غیر معمولی ملک گیر نیٹ ورک میں تبدیل کیا ہے، جس نے بے شمار قیمتی جانیں بچانے اور ہر سال لاکھوں افراد کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سب سے زیادہ کمزور اور محروم آبادیوں کو عزت اور وقار کے ساتھ بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹر عبدالباری خان کی قیادت اور عزم آئزن ہاور فیلوشپس کے مشن کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالباری خان اور ان کے کام کا انتخاب 45 سے زائد منصوبوں پر مشتمل ایک انتہائی مسابقتی عمل کے بعد کیا گیا۔ انتخابی عمل میں آئزن ہاور فیلوشپس کے ٹرسٹیز، فیلو، بیرونی ماہرین اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک ممتاز پینل نے حصہ لیا۔
ڈاکٹر عبدالباری خان کی 2004 کی آئزن ہاور فیلوشپ نے انڈس ہسپتال کے مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ امریکا میں اپنے فیلوشپ پروگرام کے دوران انہوں نے صحت کے نظام کا مطالعہ کیا اور امراضِ قلب اور بچوں کے پیچیدہ آپریشنز میں مہارت رکھنے والے ہسپتالوں کا دورہ کیا۔ اس تجربے نے انہیں پائیدار صحت کے نظام کے مختلف ماڈلز سے روشناس کرایا اور دنیا بھر کے رہنماؤں کے ایسے وسیع نیٹ ورک سے جوڑا جس کے خیالات، تجربات اور روابط نے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی ترقی میں مسلسل رہنمائی فراہم کی۔
بطور ماہر امراضِ قلب، ڈاکٹر عبدالباری خان نے انڈس ہسپتال کے قیام سے کئی برس قبل ہی مستحق مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے عزم کا عملی مظاہرہ شروع کردیا تھا۔ طالب علمی اور ابتدائی طبی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران وہ پیشنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن سے وابستہ رہے اور اس کے تحت بلڈ بینک قائم کیا۔ 1996 میں ماہر امراضِ قلب کی حیثیت سے عملی خدمات کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مخیر افراد اور کمیونٹی رہنماؤں سے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع کیے، جن سے ڈاؤ میڈیکل کالج میں دل کے آپریشنز کا ایک یونٹ قائم کیا گیا، جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جاتا تھا۔
اس اعزاز کے تحت ڈاکٹر عبدالباری خان کو 10 ہزار امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی دی جائے گی، جسے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے کام کو مزید آگے بڑھانے اور پائیدار بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
آئزن ہاور فیلوشپس کے ٹرسٹی اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے سابق طویل عرصے تک نائب چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جم ہووی 11 نومبر کو فلاڈیلفیا میں منعقد ہونے والی 2026ء آئزن ہاور فیلوشپس امپیکٹ ایوارڈ تقریب اور پن تقریب کے دوران ڈاکٹر عبدالباری خان کو یہ اعزاز پیش کریں گے۔ یہ ایوارڈ جم ہووی اور ان کی اہلیہ کیرول ہووی کی جانب سے قائم کیا گیا ہے۔