بلوچستان کا امن، پاکستان کی طاقت

دانیال جیلانی

بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا اور تزویراتی لحاظ سے نہایت اہم صوبہ ہے۔ اس سرزمین کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا معاملہ محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی قومی سلامتی اور معاشی مستقبل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ایسے میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاستی کوششوں کا مرکزی محور ہے، ریاست کی سنجیدہ ترجیحات اور بلوچستان کے عوام سے وابستگی کا واضح اظہار ہے۔ بلوچستان کے موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح اور معاشی ترقی پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ ریاست اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی بھی علاقے میں پائیدار ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج سمیت سیکیورٹی فورسز ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی امن و استحکام کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری تندہی سے ادا کررہی ہیں۔ ان فرائض کی انجام دہی میں ہمارے جوانوں نے بے مثال حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے کوئٹہ گیریژن کے دورے کے دوران بلوچستان کی سیکیورٹی صورت حال اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ اس امر کی عکاس ہے کہ ریاستی ادارے صوبے کے امن کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ فیلڈ فارمیشنز کے کمانڈرز اور کمانڈنگ افسران سے ملاقات اور جاری اقدامات کا جائزہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی معاملات کو مسلسل نگرانی، منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کے ذریعے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون بھی اسی قومی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ بلوچستان کے دشوار گزار جغرافیے، وسیع رقبے اور پیچیدہ سیکیورٹی صورت حال کے باعث یہاں امن قائم رکھنا ایک غیر معمولی ذمے داری ہے۔ ایسے حالات میں سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے لیے ہر مشن صرف ایک سرکاری ذمے داری نہیں بلکہ وطن کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کا عہد ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اس عزم کی گواہی دیتی ہیں۔
تاہم ریاست کا وژن صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں، خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی ریاستی کوششوں میں مرکزی اہمیت دی جارہی ہے۔ محفوظ ماحول ہی وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے منصوبے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جب امن مستحکم ہوگا تو بلوچستان کے بے پناہ قدرتی اور معاشی وسائل ملکی ترقی میں زیادہ مؤثر انداز سے استعمال ہوسکیں گے۔ بلوچستان کے عوام نے بھی مشکل حالات میں پاکستان سے اپنی وابستگی اور وطن سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مسائل کو سننا، ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات میں بھرپور حصہ دیا جائے اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے تمام ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ امن صرف سیکیورٹی آپریشنز سے مستقل نہیں ہوتا۔ امن کے لیے انصاف، تعلیم، روزگار، صحت، بنیادی سہولتیں اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہیں۔ اس لیے بلوچستان میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا، تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا، صحت کی سہولتیں بہتر کرنا اور دوردراز علاقوں کو بنیادی ڈھانچے سے جوڑنا دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔پاک فوج نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں قوم کا ساتھ دیا ہے۔ قدرتی آفات ہوں، ہنگامی حالات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف معرکہ، مسلح افواج نے اپنی ذمے داریاں نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بلوچستان میں بھی سیکیورٹی فورسز کی خدمات صرف سرحدوں اور چیک پوسٹوں تک محدود نہیں بلکہ امن کے وسیع تر قومی مقصد سے وابستہ ہیں۔ ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا پوری قوم کی ذمے داری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے فوجی جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور بے لوث عزم کو سراہنا اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ قومی سلامتی کی ذمے داری ادا کرنے والوں کے حوصلے بلند رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اس قومی عہد کی تجدید ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
بلوچستان کا امن دراصل پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ ریاست، پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ کو باہمی تعاون سے ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہ ہو اور عام شہری بلاخوف اپنے کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی جاری رکھ سکے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کو صرف مسائل کے آئینے میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے مواقع کی سرزمین کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ ریاست اگر امن، ترقی، انصاف اور عوامی فلاح کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھاتی ہے تو بلوچستان نہ صرف مضبوط اور مستحکم ہوگا بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور بلوچستان کے عوام کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ریاست کی سنجیدہ کوششیں، پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور عوام کا تعاون مل کر ایک ایسے بلوچستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو پُرامن، خوش حال اور ترقی یافتہ ہو۔ یہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی ثمر اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔