منشیات: خاموش قاتل

بلال ظفر سولنگی

ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ آپ کا بیٹا یا بیٹی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے، مگر واپسی پر اس کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے منشیات کا زہر ہو۔ یہ صرف ایک خوف ناک تصور نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت بنتا جارہا ہے۔ منشیات اب صرف جرائم پیشہ افراد کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل کے مستقبل پر حملہ آور ہوچکی ہے۔
حال ہی میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک بھر میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی آئس، ہیروئن اور چرس برآمد کی اور خواتین سمیت 16 ملزمان کو گرفتار کیا۔ یہ کارروائیاں بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں، مگر ان کے ساتھ سامنے آنے والی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک ہے کہ منشیات فروش اب تعلیمی اداروں کے اطراف اپنے نیٹ ورک مضبوط کر چکے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو اپنا آسان ہدف سمجھتے ہیں، کیونکہ ایک نوجوان اگر اس لعنت کا شکار ہوجائے تو صرف ایک زندگی نہیں، بلکہ پورا خاندان تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔
منشیات فروش آج روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہے۔ کبھی کپڑوں میں، کبھی جیکٹس میں، کبھی جرابوں میں اور کبھی روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا میں منشیات چھپا کر بیرونِ ملک اسمگل کی جارہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم بین الاقوامی کاروبار بن چکا، جس کے پیچھے جدید منصوبہ بندی، مالی وسائل اور طاقتور نیٹ ورکس موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے صرف روایتی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس اور عالمی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔
سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ منشیات فروشوں کا اگلا ہدف ہمارے اسکول، کالج اور جامعات ہیں۔ چند لمحوں کی لذت، مفت نشہ یا دوستی کے نام پر نوجوانوں کو ایسی دلدل میں دھکیلا جاتا ہے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہوجاتی ہے۔ ابتدا ایک سگریٹ یا گولی سے ہوتی ہے، مگر انجام اکثر تباہی، جرائم، ذہنی بیماری، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور بعض اوقات موت کی صورت میں نکلتا ہے۔ والدین کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا۔ صرف بہترین تعلیمی ادارے میں داخلہ دلانا کافی نہیں، بلکہ بچوں کے دوستوں، سرگرمیوں، رویوں اور روزمرہ معمولات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی آئے، وہ گھر والوں سے دُور ہونے لگے، تعلیمی کارکردگی خراب ہو یا غیر معمولی اخراجات بڑھ جائیں تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسی طرح اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ نصابی تعلیم کے ساتھ طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا، مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور والدین سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارے صرف علم دینے کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی اور مستقبل کی حفاظت کے مراکز بھی ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔ علماء، سماجی رہنما، میڈیا، نوجوان تنظیمیں اور ہر باشعور شہری اس مہم کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھے، بروقت متعلقہ اداروں کو اطلاع دے اور نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دے تو اس ناسور پر قابو پانا آسان ہوسکتا ہے، حکومت کو بھی چاہیے کہ منشیات فروشوں کے خلاف صرف گرفتاریوں تک محدود نہ رہے بلکہ ان کے مالی وسائل، جائیدادوں، سہولت کاروں اور پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے سخت اور بلاامتیاز اقدامات کرے۔ ایسے مقدمات کے فوری فیصلے، مؤثر سزائیں اور جدید نگرانی کا نظام ہی اسمگلروں کے لیے حقیقی خوف پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کو بھی مضبوط بنانا ہوگا، تاکہ جو نوجوان اس دلدل میں پھنس چکے، انہیں نئی زندگی مل سکے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ اگر یہی نسل منشیات کی لپیٹ میں آگئی تو ترقی، خوش حالی اور قومی استحکام کے تمام خواب ادھورے رہ جائیں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف متحد ہوں۔ والدین اپنی اولاد پر نظر رکھیں، اساتذہ اپنا کردار ادا کریں، میڈیا آگاہی پیدا کرے، حکومت بلاامتیاز کارروائی کرے اور نوجوان خود بھی اس زہر سے دور رہنے کا عزم کریں۔
منشیات کی عادت وقتی سُرور ضرور دیتی، مگر ہمیشہ کے لیے زندگی چھین لیتی ہے۔ اگر ہم نے آج اس خطرے کا راستہ نہ روکا تو کل شاید بہت دیر ہوجائے۔ ایک محفوظ، صحت مند اور روشن پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو منشیات سے بچائیں، کیونکہ یہی نسل ہمارا مستقبل، ہماری امید اور ہماری اصل دولت ہے۔