ڈاکٹرز آنکھ کے راستے کھوپڑی تک پہنچنے والی لکڑی نکالنے میں کامیاب

ماسکو: روس میں ایک شخص کی آنکھ میں لکڑی کا ٹکڑا تین ماہ تک موجود رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہ ہوسکا۔
50 سالہ یوری (جو رِلسک نامی چھوٹے قصبے کا رہائشی ہے) 2024 میں اپنے باغ میں میپل کے درخت کی شاخیں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اسے بائیں آنکھ میں شدید درد محسوس ہوا۔ اس نے حفاظتی چشمہ نہیں پہنا ہوا تھا، اس لیے اسے اندازہ ہوا کہ شاید لکڑی کا کوئی ٹکڑا آنکھ سے ٹکرایا ہے۔
کچھ دیر بعد درد کم ہوگیا تو یوری نے اسے معمولی چوٹ سمجھ کر نظرانداز کردیا۔ وقت گزرتا گیا، مگر بائیں آنکھ میں کبھی کبھار درد اور بے آرامی محسوس ہوتی رہی۔ اس نے کئی ماہرِ امراض چشم سے علاج بھی کروایا، لیکن نہ علاج فائدہ مند ثابت ہوا اور نہ ہی ڈاکٹر تکلیف کی اصل وجہ معلوم کرسکے۔
قریباً تین ماہ قبل اس کی حالت مزید خراب ہوگئی، درد ناقابلِ برداشت ہونے لگا اور بائیں آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہونے لگی۔ گزشتہ ماہ یوری دھندلی نظر کے ساتھ کرسک ریجنل اسپتال پہنچا، جہاں ڈاکٹروں نے ایم آر آئی کیا۔
اسکین میں حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک لمبا سا لکڑی کا ٹکڑا اس کی آنکھ کے ساکٹ سے ہوتا ہوا کھوپڑی کے اندر تک پہنچ چکا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق سی ٹی اسکین سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل لکڑی کی ایک شاخ تھی، جو آنکھ کے راستے اندر داخل ہوکر سائنَس کو نقصان پہنچاچکی تھی اور کھوپڑی کی بنیاد تک پہنچ گئی تھی، جہاں دماغ کے اہم حصے موجود تھے۔
یوری کو جب حقیقت معلوم ہوئی تو اسے باغ میں لکڑی کاٹنے والا واقعہ یاد آیا۔ خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے بغیر کسی بیرونی چیرا لگائے ناک کے راستے 12 سینٹی میٹر لمبی لکڑی نکال دی۔
آپریشن کامیاب رہا اور یوری کی بینائی محفوظ رہی۔ وہ ابھی ادویہ استعمال کررہا ہے، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس کے مکمل صحت یاب ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات انتہائی نایاب ہوتے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب کسی شخص کے جسم میں کوئی بیرونی چیز طویل عرصے تک موجود رہی ہو۔