بلال ظفر سولنگی
قدرت کی دنیا حیرتوں سے بھری ہوئی ہے۔ زمین، پانی اور ہوا میں بسنے والی مخلوقات اتنی متنوع اور حیران کن ہیں کہ انسان ہر بار کسی نئے جانور کے بارے میں جان کر دنگ رہ جاتا ہے۔ کچھ جانور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہیں، کچھ اپنی طاقت کی وجہ سے، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی “غیر معمولی ساخت” کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ انہی میں ایک انتہائی عجیب و غریب جانور پلیٹیپس (Platypus) ہے، جسے دیکھ کر پہلی نظر میں کوئی بھی شخص یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ آخر یہ جانور ہے کیا؟
پلیٹیپس بنیادی طور پر آسٹریلیا اور تسمانیہ کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جانور ہے جس کی جسمانی ساخت قدرت کے “انوکھے تجربے” کا احساس دلاتی ہے۔ اس کی چونچ بطخ جیسی ہوتی ہے، دم بیور (beaver) کی طرح چپٹی اور چوڑی ہوتی ہے جب کہ اس کے پاؤں اوٹر (otter) جیسے جھلی دار ہوتے ہیں۔ یعنی اگر مختلف جانوروں کے حصے اکٹھے کرکے کسی ایک مخلوق کو بنایا جائے تو شاید وہ پلیٹیپس جیسا نظر آئے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ پلیٹیپس صرف عجیب شکل ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کی حیاتیاتی خصوصیات بھی بہت غیر معمولی ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر جانور یا تو انڈے دیتے ہیں یا بچے جنتے ہیں، لیکن پلیٹیپس ان چند نایاب جانوروں میں سے ہے جو انڈے دیتا ہے مگر اس کے باوجود یہ ایک ممالیہ (mammal) ہے، کیونکہ یہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتا ہے۔ یہ بات سائنس دانوں کے لیے بھی ایک زمانے تک معمہ بنی رہی کہ آخر اسے کس درجے میں رکھا جائے۔
پلیٹیپس کا جسم پانی کے اندر زندگی گزارنے کے لیے بہترین طور پر ڈھلا ہوا ہے۔ یہ زیادہ تر دریاؤں اور میٹھے پانی کی جھیلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پاؤں میں جھلی ہونے کی وجہ سے یہ پانی میں بہت تیزی سے تیر سکتا ہے۔ یہ اپنی آنکھیں، ناک اور کان بند کرکے پانی میں غوطہ لگاتا ہے اور قریباً 30 سے 40 سیکنڈ تک پانی کے اندر رہ کر شکار کرتا ہے۔
اس کی خوراک بنیادی طور پر چھوٹے آبی جاندار ہوتے ہیں جیسے کیڑے، لاروا اور چھوٹی مچھلیاں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پلیٹیپس اپنے شکار کو دیکھ کر نہیں بلکہ محسوس کرکے پکڑتا ہے۔ اس کی چونچ میں خاص قسم کے حساس خلیے ہوتے ہیں جو برقی سگنلز کو محسوس کرسکتے ہیں۔ یعنی پانی میں موجود چھوٹے جانداروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی کمزور برقی لہروں کو یہ جانور محسوس کرلیتا ہے اور اسی بنیاد پر شکار کرتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے قدرت کے سب سے منفرد شکاریوں میں شامل کرتی ہے۔
اگر ہم اس کی ساخت پر مزید غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پلیٹیپس کے نر (male) کے پچھلے پاؤں میں زہریلا کانٹا بھی ہوتا ہے۔ یہ زہر انسان کے لیے جان لیوا تو نہیں ہوتا مگر شدید درد پیدا کرسکتا ہے۔ جانوروں کی دنیا میں یہ ایک غیر معمولی خصوصیت ہے، کیونکہ زیادہ تر ممالیہ جانور زہریلے نہیں ہوتے۔ اس لیے پلیٹیپس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے مختلف جانوروں کی خصوصیات کو ایک جگہ جمع کرکے ایک نیا تجربہ کیا ہو۔
پلیٹیپس کی زندگی کا ایک اور دلچسپ پہلو اس کا تولیدی نظام ہے۔ مادہ پلیٹیپس انڈے دیتی ہے اور پھر ان انڈوں کو اپنے جسم کی گرمی سے سینتی ہے۔ کچھ دن بعد بچے انڈوں سے نکل آتے ہیں۔ ان بچوں کو ماں اپنے جسم سے نکلنے والا دودھ پلاتی ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پلیٹیپس کے پاس باقاعدہ نپلز (nipples) نہیں ہوتے۔ دودھ جلد کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور بچے اسے چاٹ لیتے ہیں۔
پلیٹیپس کو پہلی بار جب یورپی سائنس دانوں نے دریافت کیا تو انہوں نے اسے مذاق سمجھا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ کسی نے مختلف جانوروں کو جوڑ کر بنایا ہوا مصنوعی نمونہ ہے۔ کیونکہ اس کا وجود اتنا غیر معمولی تھا کہ اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ واقعی ایک قدرتی جانور ہے اور لاکھوں سال سے زمین پر موجود ہے۔
آج بھی پلیٹیپس کو قدرت کے ارتقائی نظام (evolution) کا ایک اہم ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ زندگی کس طرح مختلف انداز اختیار کرسکتی ہے اور قدرت کس طرح حیرت انگیز تخلیقات پیدا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے یہ انوکھا جانور اب خطرات کا سامنا کررہا ہے۔ آبی آلودگی، دریاؤں کی تباہی اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کی نسل متاثر ہورہی ہے۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ حیرت انگیز مخلوق مستقبل میں کم ہوسکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پلیٹیپس صرف ایک جانور نہیں بلکہ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز ہمارے اندازے اور سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ ہوسکتی ہے۔ یہ جانور ہمیں حیرت، تحقیق اور جستجو کی طرف بلاتا ہے تاکہ ہم قدرت کی دنیا کو مزید بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
پلیٹیپس واقعی اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کبھی کبھی ایسے تجربات بھی کرتی ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ “کیا واقعی ایسا بھی ممکن ہے؟”