پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں تشویش ناک اضافہ ہونے کا انکشاف

کراچی: پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ کم ہونے کا حکومتی دعویٰ گمراہ کن نکلا، پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مزید سنگین ہوگیا، 10 ماہ میں قرض 18 ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ری فنانسنگ اور ری سائیکلنگ سے گردشی قرضہ کم نہیں، بلکہ صرف تبدیل ہوا ہے۔
تھنک ٹینک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران نئے گردشی قرضے کی مالیت 18 ارب سے بڑھ کر 240 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومتی اداروں نے پاور سیکٹر کے مجموعی گردشی قرضوں کے حجم میں 23 فیصد کمی ظاہر کی ہے جب کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران نئے گردشی قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگے پاور پرچیز ایگریمنٹس، کمر توڑ کیپسٹی چارجز اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں پاور سیکٹر خسارے کی بنیادی وجہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فنانس ایڈجسٹمنٹ سے بجلی کے گردشی قرضوں کو وقتی طور پر دبایا جارہا ہے۔