دہشت گردی کا باب جلد بند ہوگا

دانیال جیلانی

ضلع بارکھان میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی مشترکہ اور بروقت کارروائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز کی ایک اہم کامیابی قرار دی جارہی ہے، تاہم اس آپریشن کے دوران میجر توصیف بھٹی سمیت پانچ جوانوں کی شہادت ایک انتہائی افسوس ناک اور بڑا سانحہ ہے، جس نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، کٹھن اور قربانیوں سے بھری جنگ لڑرہا ہے، جو اگرچہ بڑی حد تک کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ عناصر کسی منظم نیٹ ورک کے تحت سرگرم ہیں اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ٹال دیا گیا۔ اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو یہ دہشت گرد مزید نقصان پہنچاسکتے تھے اور عام شہریوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔
شہید میجر توصیف احمد بھٹی کا تعلق پاکپتن سے تھا جب کہ نائیک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی ایاز نے بھی فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ شہداء اس بات کی روشن مثال ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتیں۔ ان کی قربانیوں نے ایک بار پھر قوم کے اس عزم کو مضبوط کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ماضی میں ملک کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورک مضبوط تھے، لیکن پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں ان نیٹ ورکس کو بڑی حد تک ختم کیا گیا۔ آپریشنز کے ذریعے امن بحال کیا گیا اور ملک کے مختلف حصوں میں زندگی معمول پر آئی۔ تاہم بارکھان جیسے واقعات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور وقتاً فوقتاً دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق “عزمِ استحکام” کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا واضح عزم کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ فوج، انٹیلی جنس ادارے اور سول انتظامیہ کے درمیان تعاون مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے اور انہیں کسی بھی علاقے میں محفوظ پناہ نہ مل سکے۔ سیکیورٹی ادارے مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کررہے ہیں اور ان کی بدولت کئی بڑے خطرات کو پہلے ہی ناکام بنایا جاچکا ہے۔
بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی ہر کوشش کی سختی سے مخالفت کی جائے گی اور عالمی برادری کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ تاہم اصل اور دیرپا کامیابی داخلی استحکام، مضبوط ریاستی اداروں اور مؤثر انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے بڑے خطرے کو قریباً ختم کیا تھا اور ملک کو ایک نسبتاً پُرامن ماحول میں داخل کیا تھا۔ آج ایک بار پھر اسی عزم کو دہرانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ پاک فوج کی قربانیاں، افسران اور جوانوں کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، جس میں ہر طبقہ شامل ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کی قربانیوں کی بدولت ہی پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور ہر چیلنج کا مقابلہ اتحاد اور مضبوطی کے ساتھ کرے گا۔