وقاص بیگ
وہ نوجوان ہمیشہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا تھا۔ اس کی زبان تیز، لہجہ کاٹ دار اور رویہ ایسا تھا کہ جیسے دنیا کے سب لوگ اس سے کم تر ہوں۔ گھر میں والدین ہوں یا باہر بزرگ، کسی کی عزت کرنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کے نزدیک نرم گفتگو کمزوری تھی اور بدتمیزی اس کی طاقت۔
اس کے والد اکثر اسے سمجھاتے، “بیٹا، زبان میں نرمی رکھو، عزت دو گے تو عزت پاؤ گے۔” مگر وہ ہنس کر ٹال دیتا، “یہ سب پرانی باتیں ہیں ابو، آج کے دور میں سیدھا رہنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔”
وقت گزرتا گیا اور اس کی بدتمیزی عادت سے بڑھ کر اس کی پہچان بن گئی۔ وہ دوستوں کے سامنے بھی بڑوں کا مذاق اُڑاتا، اساتذہ سے الجھتا اور اپنے گھر والوں کو بھی خاطر میں نہ لاتا۔ اس کی ماں کی آنکھوں میں اکثر آنسو ہوتے، مگر وہ دیکھ کر بھی انجان بن جاتا۔ ایک دن اس کے والد نے نرمی سے کہا، “تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئے گی، مگر زندگی سکھائے گی… اور جب سکھائے گی، تو بہت سخت سکھائے گی۔” وہ پھر ہنس دیا۔
وقت نے کروٹ بدلی۔ گھر کے حالات بدلنے لگے۔ والد بیمار ہوگئے، ذمے داریاں اس کے کندھوں پر آ گئیں۔ وہی نوجوان جو کبھی کسی کی بات نہ سنتا تھا، اب زندگی کی سختیوں کے سامنے کھڑا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ سب سنبھال لے گا، مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ اس کے دو چھوٹے بھائی تھے، جنہیں وہ ہمیشہ ڈانٹتا، ذلیل کرتا اور نظرانداز کرتا رہا تھا۔ اب وہ بڑے ہو چکے تھے۔ وقت نے جیسے آئینہ اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔ ایک دن وہ کسی بات پر اپنے چھوٹے بھائی کو سمجھانے لگا تو بھائی نے تیز لہجے میں جواب دیا، “آپ ہمیں مت سکھائیں… ہمیں اچھی طرح یاد ہے آپ کیسے بات کرتے تھے!” وہ چونک گیا۔ یہ وہی لہجہ، وہی انداز تھا… جو کبھی اس کا اپنا ہوتا تھا۔ پہلے تو اسے غصہ آیا، مگر پھر یہ رویہ روز کا معمول بن گیا۔ اس کے بھائی اس کی بات کاٹتے، اس کی بے عزتی کرتے اور کبھی کبھی اسے نظرانداز کر دیتے جیسے وہ کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔
ایک دن تو حد ہوگئی۔ خاندان کے ایک اجتماع میں، جب وہ کچھ کہنے لگا، اس کے چھوٹے بھائی نے سب کے سامنے کہا، “آپ خاموش رہیں، آپ کی باتوں کی یہاں کوئی قدر نہیں۔” وہ لمحہ اس کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ سب کے سامنے وہ خاموش ہو گیا، مگر اندر سے ٹوٹ گیا۔
اس رات وہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا رہا۔ پہلی بار اس نے خود کو سوالوں کے گھیرے میں پایا۔ “کیا میں واقعی ایسا ہی تھا؟”
“کیا میں نے بھی لوگوں کو ایسے ہی تکلیف دی تھی؟”
یادوں کا دروازہ کھل گیا۔ ماں کی نم آنکھیں… باپ کی خاموش نصیحتیں… اساتذہ کی مایوسی… اور وہ ہر لمحہ جب اس نے کسی کی عزت کو روند دیا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ پہلی بار اپنے آپ سے ہار گیا تھا۔ اگلی صبح وہ اپنی ماں کے پاس گیا۔ ہچکچاتے ہوئے بولا، “امی… میں بہت برا تھا نا؟” ماں نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں محبت بھی تھی اور درد بھی۔ “تم بُرے نہیں تھے بیٹا… تم ناسمجھ تھے۔”
وہ ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ “امی، میں نے آپ کو بہت تکلیف دی… ابو کی بات نہ مانی… سب کے ساتھ غلط کیا…”
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، “بیٹا، احساس ہو جانا ہی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔” مگر زندگی اتنی آسانی سے معاف نہیں کرتی۔
اس نے اپنے بھائیوں سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اسے سننے کو تیار نہ تھے۔ وہی رویہ، وہی تلخی، وہی بے عزتی، جو کبھی وہ دوسروں کو دیتا تھا، آج وہ خود سہہ رہا تھا۔ اب اسے سمجھ آگیا تھا کہ مکافاتِ عمل کیا ہوتا ہے۔ یہ صرف سزا نہیں ہوتی… یہ وہ آئینہ ہوتا ہے جس میں انسان اپنا اصل چہرہ دیکھتا ہے۔
دن گزرتے گئے اور وہ بدلنے لگا۔ اس نے اپنی زبان نرم کرلی، لہجہ بدل لیا، رویہ درست کرلیا۔ اب وہ کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا۔ ہر ایک کی عزت کرتا، ہر ایک کی بات سنتا۔ مگر سب سے مشکل کام تھا اپنے ماضی کا بوجھ اٹھانا۔
ایک دن اس نے اپنے بھائیوں کو اکٹھا کیا اور کہا، “مجھے معلوم ہے میں نے تم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا… اگر تم مجھے معاف نہ کرو تو بھی میں سمجھ سکتا ہوں… مگر میں بدل چکا ہوں اور ساری زندگی تمہاری عزت کروں گا۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اس کے بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کے چہروں پر سختی تھی، مگر آنکھوں میں ہلکی سی نرمی بھی آچکی تھی۔ وقت لگا… مگر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔ وہ نوجوان اب وہ نہیں رہا تھا جو کبھی تھا۔ اب وہ جان چکا تھا کہ زبان کے زخم نظر نہیں آتے، مگر سب سے گہرے ہوتے ہیں۔ اب وہ سمجھ چکا تھا کہ عزت مانگنے سے نہیں، دینے سے ملتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر… وہ یہ سیکھ چکا تھا کہ زندگی کبھی کسی کو ویسے ہی نہیں چھوڑتی جیسا وہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔
مکافاتِ عمل دیر سے آتا ہے… مگر جب آتا ہے، تو انسان کو اندر سے بدل کر رکھ دیتا ہے۔