بچوں کا کیا قصور تھا؟

انجینئر بخت سید یوسف زئی
engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

یہ واقعہ محض ایک فرد یا ایک گھرانے کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اُس بگڑتے ہوئے چہرے کی عکاسی ہے، جسے ہم اکثر نظرانداز کردیتے ہیں۔ آج کے دور میں جب فتنوں نے ہر سمت سے انسان کو گھیر رکھا ہے، وہاں ایمان، اخلاق اور خاندانی نظام سب سے زیادہ آزمائش میں ہیں۔ یہ قصہ ایک ایسی عورت کا ہے جس نے اپنی خواہشات، غلط فیصلوں اور بے راہ روی کے باعث نہ صرف ایک گھر اجاڑا بلکہ دو معصوم بچوں کی پوری زندگی کو اندھیروں کے حوالے کردیا۔
کہانی کا آغاز اس عورت کے پہلے قدم سے ہوتا ہے جب اس نے اپنے شوہر کو اس کے والدین سے جدا کروایا۔ بظاہر یہ ایک معمولی گھریلو مسئلہ لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی وہ پہلا وار تھا جو ایک مضبوط خاندانی دیوار میں دراڑ ڈال گیا۔ والدین سے علیحدگی نہ صرف شوہر کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنی، بلکہ آہستہ آہستہ گھر کے سکون کو بھی نگل گئی۔ شوہر روزگار کے لیے باہر جانے پر مجبور تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچ پورا کرتا اور اپنی بیوی اور بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا مگر اس کی غیر موجودگی میں گھر کے اندر جو کھیل کھیلا جارہا تھا، اس سے وہ مکمل طور پر بے خبر تھا۔ بیوی نے اسی تنہائی کو موقع سمجھا اور ایک غیر مرد کو اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔
یہ تعلق محض دو افراد کے درمیان گناہ نہیں تھا بلکہ یہ پورے خاندان کی عزت، بچوں کے مستقبل اور معاشرتی اقدار پر حملہ تھا۔ رفتہ رفتہ یہ ناجائز تعلق مضبوط ہوتا گیا، یہاں تک کہ بیوی نے حیا اور شرم کو سرِعام نیلام کردیا۔ گھر جو سکون کی علامت ہوتا ہے، وہ گناہوں کا اڈا بن گیا۔
ایک دن شوہر غیر متوقع طور پر وقت سے پہلے گھر واپس آگیا۔ وہ شاید اپنے بچوں کو دیکھنے، بیوی سے بات کرنے یا کچھ دیر سکون حاصل کرنے آیا تھا مگر اس کے نصیب میں زندگی کا سب سے بھیانک منظر لکھا تھا۔ حقیقت اس کے سامنے عیاں ہوگئی اور وہ لمحہ اس کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ یہاں انسانیت لرز جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت نے اپنے یار کے ساتھ مل کر اپنے ہی شوہر کو سادہ لوحی سے قتل کردیا۔ ایک ایسا شخص جو اس کے لیے رزق کماتا رہا، اس کے بچوں کا باپ تھا، اس کی زندگی کو بے دردی سے ختم کردیا گیا۔ یہ جرم صرف قتل نہیں تھا بلکہ اعتماد، رشتے اور نکاح کی حرمت کا قتل تھا۔
قتل کے بعد بھی عورت کے رویے میں کسی قسم کا خوف یا ندامت نظر نہیں آئی۔ اس نے اپنے ساتھی کو رخصت کیا، چائے بنائی، سکون سے بیٹھ کر رات گزاری، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ گناہ جب دل پر چھا جائے تو انسان کا ضمیر مکمل طور پر مر جاتا ہے۔ اگلی صبح اس عورت نے پولیس کو اطلاع دی اور ایک جھوٹی کہانی گھڑ دی کہ اس کے شوہر نے گھریلو اخراجات اور غربت سے تنگ آکر خودکشی کرلی ہے۔ یہ جھوٹ بھی اس کی سفاکی کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ اس نے مرنے کے بعد بھی شوہر کی عزت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی۔
پولیس نے جب لاش کا معائنہ کیا تو جسم پر زخموں کے نشانات نے پوری کہانی بدل دی۔ تفتیش کا دائرہ پھیلا، سوالات بڑھتے گئے اور بالآخر عورت نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ سچ سامنے آگیا مگر اس سچ کے ساتھ کئی زندگیاں برباد ہوچکی تھیں۔ اس واقعے میں سب سے زیادہ متاثر وہ دو معصوم بچے ہیں، ایک گیارہ سال کی بیٹی اور آٹھ سال کا بیٹا۔ ان بچوں کا کیا قصور تھا؟ ان کے سروں سے باپ کا سایہ چھن گیا اور ماں جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی۔ ان کی پوری زندگی ایک ایسے جرم کی قیمت بن گئی، جس میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
یہ بچے اب معاشرے کے رحم و کرم پر ہیں۔ نہ جانے ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی، وہ کس کو ماں کہیں گے اور کس کو باپ۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ایک لمحے کی غلطی نسلوں کو برباد کر دیتی ہے۔ یہ بھی افسوس ناک حقیقت ہے کہ اس عورت کی دوست بھی اسی قسم کے حالات سے گزری ہوئی تھی۔ وہ شادی میں گئی اور وہاں ایک غیر مرد سے تعلق قائم ہوگیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب معاشرے میں بے پردگی، مخلوط تقریبات اور حدود کی پامالی عام ہوجائے تو فتنہ ایک گھر تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔
آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں فتنوں سے بچنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اسلام ہمیں اتفاق، صبر اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہوں تو شریعت نے اس کے حل کے واضح طریقے بتائے ہیں، نہ کہ خواہشات کے پیچھے چل کر تباہی کو دعوت دی جائے۔ اگر کوئی عورت واقعی شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے تو شریعت میں اس کے لیے شرعی عذر ہونا ضروری ہے۔ بغیر کسی مضبوط وجہ کے جدائی نہ صرف گناہ ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے اور اگر علیحدگی ہو بھی جائے تو پھر مکمل شریعت کے دائرے میں رہنا لازم ہے۔ بدقسمتی سے آج مشترکہ شادیوں، بے پردگی اور غیر ضروری اختلاط کو معمول بنالیا گیا ہے۔ یہی وہ راستے ہیں جہاں سے شیطان انسان کو آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں دھکیلتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ گھر کی بنیاد جذبات یا خواہشات پر نہیں بلکہ تقویٰ، اعتماد اور اللہ کے خوف پر ہونی چاہیے۔ جب اللہ کا خوف دل سے نکل جائے تو انسان کسی بھی حد تک گرسکتا ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ بچوں کی تربیت، گھریلو نظام کی مضبوطی اور دینی اقدار کی پاسداری وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ ورنہ ایسے واقعات ہماری آنکھیں کھولنے کے بجائے ہمیں مزید بے حس بنا دیں گے۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس سے سبق لیتے ہیں یا صرف ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فتنوں کے اس دور میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گھروں کو امن، حیا اور محبت کا گہوارہ بنائے اور ہمیں ایسے اعمال سے بچائے جو دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی کا سبب بنیں۔ (آمین)۔

“What was the children’s fault?”ChildsWife Murder HusbandWith Lover