عثمان خواجہ کا الوداعی سجدہ، ایک پیغام

انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

عثمان خواجہ کا آخری میچ محض ایک کرکٹ مقابلہ نہیں تھا بلکہ ایک عہد کے اختتام کی علامت بن گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس میں کھیل، کردار اور عقیدہ ایک ہی تصویر میں سمٹ آئے۔ جب وہ میدان میں اُترے تو فضا میں ایک خاموش سی سنجیدگی تھی، جیسے سب جانتے ہوں کہ یہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بننے والا لمحہ ہے۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے جس شاندار انداز میں عثمان خواجہ کو رخصت کیا، وہ کھیل کی اعلیٰ روایات کی خوبصورت مثال تھی۔ مخالف ٹیم ہونے کے باوجود احترام، وقار اور خلوص کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے یہ ثابت کیا کہ اصل کھیل دشمنی نہیں بلکہ عزت اور قدروں کا نام ہے۔
جب عثمان خواجہ میدان سے باہر جارہے تھے تو شائقین کی نظریں اُن پر جمی ہوئی تھیں۔ تالیاں بج رہی تھیں، چہرے مسکرا رہے تھے مگر آنکھوں میں ایک اداسی بھی صاف نظر آرہی تھی۔ یہ اداسی کسی شکست کی نہیں بلکہ ایک پسندیدہ کردار کے الوداع کی تھی۔
اسی لمحے عثمان خواجہ نے شکرانے کا سجدہ ادا کیا اور یہی وہ منظر تھا جس نے اس الوداع کو عام الوداع سے منفرد بنادیا۔ یہ عمل کسی اعلان یا بیان سے زیادہ طاقتور تھا، کیونکہ اس میں عاجزی، شکر اور رب سے تعلق کی جھلک صاف نظر آرہی تھی۔یہ سجدہ اس بات کا اعلان تھا کہ کامیابی کا اصل مرکز انسان خود نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو انسان کو کامیابی عطا کرتی ہے۔ میدان میں برسوں کی محنت کے بعد جھک جانا اس بات کی دلیل تھا کہ اصل عظمت عاجزی میں ہے۔
عثمان خواجہ کا کرکٹ سفر آسان نہیں تھا۔ مختلف مراحل، تنقید، دباؤ اور توقعات کے باوجود انہوں نے صبر اور استقامت کے ساتھ خود کو ثابت کیا۔ ان کی کارکردگی میں تسلسل اور رویّے میں ٹھہراؤ ہمیشہ نمایاں رہا۔
ٹیسٹ کرکٹ جیسے مشکل اور صبر آزما فارمیٹ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے جذباتی لمحہ ہوتا ہے۔ یہ وہ فارمیٹ ہے جو کھلاڑی کی اصل صلاحیت، برداشت اور ذہنی مضبوطی کو پرکھتا ہے اور عثمان خواجہ نے اس امتحان کو وقار کے ساتھ مکمل کیا۔
ان کا میدان سے جانا ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے کی ایک حد ہوتی ہے۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ انسان ہر مرحلے کو شکر اور وقار کے ساتھ مکمل کرے، نہ کہ ضد یا غرور کے ساتھ۔ عثمان خواجہ کا عمل اس حقیقت کی عملی تصویر تھا کہ خوشی ہو یا جدائی، انسان کو ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھنا چاہیے۔ یہی سوچ انسان کو متوازن رکھتی ہے اور اسے بکھرنے سے بچاتی ہے۔
آج کے دور میں، جب کھیل اکثر شہرت، نمائش اور انا کا شکار ہو جاتا ہے، ایسے مناظر امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ نوجوان نسل کو بتاتے ہیں کہ کامیابی اور ایمان ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ عمل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر نیت درست ہو تو پیشہ ورانہ بلندیوں کے ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ یہی توازن انسان کو حقیقی طور پر کامیاب بناتا ہے۔ عثمان خواجہ نے ثابت کیا کہ عالمی سطح پر کھیلتے ہوئے بھی اپنی دینی اور اخلاقی شناخت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ دباؤ، شہرت اور تنقید کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
ان کی رخصتی پر شائقین کی آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں دعائیں تھیں۔ یہ اس بات کی گواہی تھی کہ انہوں نے محض ایک کھلاڑی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کے طور پر لوگوں کے دل جیتے۔ یہ وہ مقام ہے جو صرف رنز، سنچریوں یا ریکارڈز سے حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جن کے کردار میں سچائی اور عمل میں عاجزی ہو۔ انگلینڈ کے تماشائیوں کا احترام اور کھڑے ہو کر تالیاں بجانا اس بات کا ثبوت تھا کہ اخلاق، محنت اور وقار سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ کھیل کا وہ خوبصورت پہلو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہنا بظاہر ایک کھیل کا اختتام تھا، مگر عثمان خواجہ کا یہ سجدہ ایک نئی گفتگو کا آغاز بن گیا۔ اس نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل کامیابی کس چیز کا نام ہے۔ یہ منظر بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی میدان میں جھنڈے گاڑنے سے زیادہ، عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرنے میں ہے۔ جب انسان اپنی محنت کو اپنی ذات کے بجائے رب کی عطا سمجھے تو اس کی شخصیت نکھر جاتی ہے۔ اصل عزت لوگوں کی وقتی تعریف سے نہیں بلکہ اس شعور سے ملتی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے۔ یہی شعور انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اس کے عمل کو بامقصد بناتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی کامیابیوں کو کس کھاتے میں ڈالتے ہیں اور ناکامیوں کے وقت کس در پر جھکتے ہیں۔ یہی سوال انسان کے کردار کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر ہم خوشی میں شکر اور غم میں صبر کو اپنا لیں تو ہماری زندگی نہ صرف متوازن ہو سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔ یہی رویّہ معاشروں کو مضبوط بناتا ہے۔
عثمان خواجہ کا کرکٹ میدان سے رخصتی کا یہ آخری منظر ہمیں سکھا گیا کہ اصل کامیابی خاموشی، عاجزی اور شکر میں پوشیدہ ہے، نہ کہ صرف شور اور شہرت میں۔ یہ الوداع ایک کھلاڑی کا اختتام نہیں بلکہ ایک کردار کی تکمیل تھا، جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں عاجزی، شکر اور وقار کو اپنائیں اور خوشی ہو یا غم، ہر حال میں اللہ کو یاد رکھیں۔ (آمین)۔

Australian cricketerCareer Last MatchMuslimPakistan OriginProstrationretirementUsman Khawaja