لندن: نئی تحقیق کے مطابق بریسٹ کینسر کی اسکریننگ میں آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) کے استعمال سے خطرناک اور آخری مراحل کے کینسر کے کیسز میں کمی آتی ہے۔
برطانیہ میں اندازے کے مطابق باقاعدہ اسکریننگ کے ذریعے ہر سال بریسٹ کینسر سے قریباً 1300 جانیں بچائی جاتی ہیں۔
بریسٹ کینسر ناؤ کے مطابق 1990 کی دہائی میں ہر سات میں سے ایک فرد اس بیماری سے جان کی بازی ہار جاتا تھا جب کہ آج یہ شرح ہر 20 میں سے ایک رہ گئی ہے۔
فی الحال ہر میموگرام اسکریننگ کے لیے دو ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے باوجود بعض اوقات کینسر کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔
تاہم، اگر اس عمل میں اے آئی کی مدد لی جائے تو صرف ایک ماہر کے ذریعے بھی یہ اسکریننگ محفوظ اور مؤثر طریقے سے کی جاسکتی ہے، بلکہ اس کی درستی مزید بہتر ہوسکتی ہے۔