محمد راحیل وارثی
تاریخ ہمیشہ تاج پہننے والوں کو یاد رکھتی ہے مگر زنجیریں پہننے والوں کو اکثر فراموش کردیتی ہے۔ انسانی تمدن کی الم ناک حقیقت یہ ہے کہ طاقت، رنگ اور نسل کے معیار نے صدیوں تک ذہانت اور عظمت کے پیمانے متعین کیے۔ ایسے ہی اندھیروں میں ایک نام چمکتا ہے تھامس فلر۔۔۔ ایک غلام، مگر فکر و فہم کا ایسا چراغ جو غلامی کی سیاہ رات میں بھی بُجھ نہ سکا۔
تھامس فلر اس عہد کا انسان تھا جب انسان کو انسان نہیں، جنس سمجھا جاتا تھا، جب افریقی نژاد ہونا جرم تھا اور غلام ہونا تقدیر۔ وہ پڑھا لکھا نہ تھا مگر اس کا ذہن کتابوں سے بے نیاز تھا۔ قدرت نے اس کے شعور میں اعداد و شمار کی وہ آگ روشن کر رکھی تھی، جسے نہ زنجیریں بُجھا سکیں اور نہ ہی تعصب و جہالت۔
18 ویں صدی کا امریکا غلامی کے نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ غلاموں کو محض جسم سمجھا جاتا تھا، ذہن نہیں۔ انہیں سکھایا نہیں جاتا تھا بلکہ حکم دیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں ذہانت ایک جرم بن جاتی تھی، کیونکہ سوال کرنے والا غلام، نظام کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔
تھامس فلر بھی اسی نظام کا قیدی تھا۔ وہ نہ پڑھ سکتا تھا، نہ لکھ سکتا تھا مگر اس کے ذہن میں اعداد اپنی مرضی سے ترتیب پاتے تھے۔ وہ وقت، دن، سال اور صدیوں کے حساب اس آسانی سے جوڑ دیتا تھا جیسے کوئی شاعر مصرعوں کو جوڑتا ہے۔ فلر کی سب سے بڑی حیرت انگیز صلاحیت اس کا ذہنی حساب تھا۔ وہ حساب جو عام انسان کاغذ پر بھی مشکل سے کرپاتا، فلر چند لمحوں میں زبانی مکمل کردیتا تھا۔
ایک دن چند تعلیم یافتہ لوگ اس کے پاس آئے، شاید تجسس اور شک میں۔ انہوں نے سوال کیا: ستر سال، سترہ دن اور بارہ گھنٹوں میں کتنے سیکنڈ ہوتے ہیں؟
یہ سوال محض ایک ریاضی کا سوال نہ تھا، بلکہ غلام کے ذہن کو آزمانے کی ایک کوشش تھی۔ فلر نے آنکھیں بند کیں، چند لمحے خاموش رہا اور پھر درست جواب دے دیا۔ جب سوال کرنے والوں نے خود حساب لگایا تو وہ غلط ثابت ہوئے۔ غلام درست تھا، آقا غلط نکلے تھے۔ آقائوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کا نظام لرز گیا، کیونکہ ایک ناخواندہ غلام نے پڑھے لکھوں کی عقل کو مات دے دی تھی۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ لمحے محفوظ نہیں رکھتی، وہ صرف سلطنتیں یاد رکھتی ہے۔ تھامس فلر کی ذہانت کو سراہا ضرور گیا مگر اسے آزادی نہ ملی۔ اس کے دماغ کی قیمت نہ لگی، اس کے علم کا کوئی اعتراف نہ ہوا۔ اسے تحقیر آمیز ناموں سے پکارا گیا، اس کی شناخت غلامی تک محدود رکھی گئی۔ وہ ایک چلتا پھرتا ثبوت تھا اس بات کا کہ علم نسل کا محتاج نہیں مگر سماج نے یہ سبق قبول کرنے سے انکار کردیا۔
تھامس فلر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ علم کہاں سے آتا ہے؟ کیا کتاب ہی واحد ذریعہ ہے؟ یا قدرت بعض انسانوں کو براہِ راست علم عطا کرتی ہے؟ فلر نہ کسی درس گاہ میں بیٹھا، نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے، مگر اس کا ذہن ایک مکمل ریاضیاتی نظام تھا۔ وہ اس بات کا اعلان تھا کہ ذہانت انسان کی فطرت میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کے حالات میں۔ اگر تھامس فلر آزاد ہوتا، اگر اسے تعلیم دی جاتی، اگر اس کے ذہن کو جکڑا نہ جاتا تو شاید ریاضی کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ شاید وہ صرف ایک مثال نہ بنتا، بلکہ ایک عہد بن جاتا۔ مگر غلامی نے اس کے امکانات چھین لیے۔ وہ زندہ رہا، مگر پورا نہ ہوسکا۔ وہ روشن تھا مگر روشنی پھیلانے سے روک دیا گیا۔
تھامس فلر کی زندگی ایک سوال ہے۔ انسان سے انسان کا سوال۔ یہ سوال کہ ہم نے کتنی ذہانتیں صرف اس لیے دفن کردیں کہ ان کا رنگ مختلف تھا؟ یہ سوال کہ اگر زنجیروں میں قید ایک غلام اتنا بڑا حساب دان ہوسکتا ہے تو آزاد ذہن کیا کچھ نہیں کرسکتا؟ تھامس فلر محض ایک غلام نہیں تھا۔ وہ تاریخ کا وہ صفحہ تھا جسے دیر سے پڑھا گیا مگر پڑھ لینے کے بعد بُھلایا نہیں جاسکتا۔
وہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عظمت اکثر وہاں جنم لیتی ہے جہاں ہم دیکھنے سے انکار کردیتے ہیں۔