عبدالعزیز بلوچ
احمد اور سہیل بچپن سے ہی گہرے دوست تھے۔ دونوں نے اکٹھے اسکول پڑھا، اکٹھے کالج کے دن گزارے اور کاروبار کے ابتدائی تجربے بھی ساتھ کیے۔ زندگی کی راہیں اکثر پیچیدہ ہوتی ہیں مگر وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ستون کی طرح موجود رہتے تھے۔ احمد نے شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا اور سہیل اس کے ساتھ شراکت دار بن گیا۔ ابتدائی دنوں میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر وقت کے ساتھ، چھوٹے چھوٹے فکری اختلافات اور مالی دباؤ نے دوستی پر اثر ڈالنا شروع کیا۔ احمد کی بیوی زینت نے اکثر سہیل سے مشورہ لینا شروع کردیا، کیونکہ وہ احمد کی مالی فیصلوں میں اس کی مدد نہیں کرسکتی تھی۔ سہیل، جو ہمیشہ ایمان دار اور دیانت دار رہا تھا، اس وقت ایک مشکل مقام پر پہنچ گیا۔
ایک دن احمد نے سہیل کو بتایا کہ اس کی ایک بڑی سرمایہ کاری میں نقصان ہوگیا اور اسے فوری طور پر نقد رقم کی ضرورت ہے۔ احمد نے سہیل پر اعتماد کیا اور سہیل نے اپنی جانب سے پوری مدد کرنے کی کوشش کی مگر سہیل کے دل میں ایک خیالی سوچ ابھرنے لگی: “اگر میں احمد کے پیچھے چھپ کر اس کے کچھ مالی راز استعمال کروں تو مجھے ذاتی فائدہ ہو سکتا ہے۔”
یہ سوچ لمحاتی تھی مگر دھوکہ دینے کا خیال ذہن میں آگیا تھا۔ سہیل جب بھی احمد کو دھوکا دینے کا سوچتا تو اُس کے قدم رُک جاتے، اُس کے ساتھ بچپن سے اب تک گزارے دن یاد آجاتے۔ اُس کے اعتماد اور دوستی کا مان ذہن میں گھومنے لگتا۔ وہ عجیب کشمکش میں تھا۔ اُسے عبادت کا خیال آیا۔ نماز ادا کی۔ قرآن شریف پڑھنے لگا۔ قرآن پاک پڑھتے ہوئے ایک آیت کا ترجمہ نظر سے گزرا۔ (ترجمہ): "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو جب تم جانتے ہو۔”
یہ آیت سہیل کے دل پر گہرے اثرات چھوڑ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ احمد کا اعتماد اس کے لیے ایک امانت ہے اور اس امانت کے ساتھ دھوکہ کرنا نہ صرف انسانی تعلقات کو تباہ کرے گا بلکہ اس کی آخرت کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔
اگلے دن سہیل نے فیصلہ کیا کہ وہ احمد کے نقصان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ بلکہ وہ اس کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے اپنا حصہ دینے کو تیار ہے، چاہے اس سے اس کی ذاتی مالی مشکلات بڑھ جائیں۔ سہیل نے احمد سے کھل کر بات کی، اپنے اندرونی جذبات اور خوف کو بیان کیا اور کہا:
"میں چاہتا ہوں کہ تم پر میرا اعتماد مضبوط رہے اور میں کبھی بھی تمہارے اعتماد کو توڑ نہیں سکتا۔ یہ امانت ہے اور میں اس کا ذمے دار رہوں گا۔”
احمد نے سہیل کو گلے لگا کر کہا: "یار، یہ دوستی صرف پیسے یا کاروبار کی بنیاد پر نہیں ہے۔ یہ دلوں کا رشتہ ہے۔ تم نے آج مجھے سکھایا ہے کہ اصل وفاداری کیا ہوتی ہے۔”
یہ واقعہ سہیل کے لیے زندگی بھر کا سبق بن گیا۔ وہ جان چکا تھا کہ دھوکہ دینا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر اعتماد کی قیمت اور تعلقات کی قدر وہ کبھی بھی واپس نہیں لے سکتا۔
کچھ ماہ بعد، سہیل کے یہ اعمال اس کے ذاتی کاروبار میں بھی پھل لانے لگے۔ لوگ اسے ایمان دار اور قابلِ اعتماد جاننے لگے اور اس کے ساتھ کاروباری تعلقات مضبوط ہوئے۔ احمد بھی سہیل کی اس دیانت داری کا احترام کرنے لگا اور دونوں کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی۔
سہیل نے دینی تعلیمات سے سیکھا کہ کسی کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا اور اس کے اعتماد کو نقصان نہ پہنچانا ایمان کی علامت ہے۔ کہانی کا اصل سبق یہ ہے کہ زندگی میں تعلقات، اعتماد اور دیانت داری سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ وقتی فائدے کے لیے دھوکہ دینا یا کسی کے اعتماد کو توڑنا انسان کو اندر سے کمزور کردیتا ہے اور روحانی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ہم اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں اور امانت دار رہیں تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ملتی ہے۔
سہیل نے زندگی بھر یہی اصول اپنایا: "کسی کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا، کسی کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہ پہنچانا۔” اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ سچائی، وفاداری اور دیانت داری کے راستے پر چلنے والا انسان ہر حال میں عزت اور برکت پاتا ہے۔