گِدھ ماحول کا محافظ

فہیم سلیم

اکثر لوگ گِدھ کو ایک بے کار، بدصورت اور مَنحوس پرندہ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ گِدھ قدرت کے نظام میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پرندہ نہ صرف ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیتا بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر گِدھ کو دنیا سے ختم کردیا جائے تو ماحولیاتی توازن شدید متاثر ہوسکتا ہے۔
گِدھ بُنیادی طور پر مُردار خور پرندہ ہے۔ یہ جانوروں یا پرندوں کی لاشیں کھاتا ہے، جو اگر زمین پر پڑی رہیں تو خطرناک جراثیم اور بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ گِدھ کا نظامِ ہاضمہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ ایسے جراثیم کو بھی ختم کردیتا ہے جو دوسرے جانوروں کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں، مثلاً اینتھریکس اور ریبیز جیسے وائرس۔ اس طرح گِدھ فطری طور پر ماحول کی صفائی کرتا اور انسانوں سمیت دیگر جانداروں کو بیماریوں سے بچاتا ہے۔
قدرت نے گِدھ کو خاص جسمانی ساخت عطا کی ہے جو اسے اس کام کے لیے موزوں بناتی ہے۔ اس کی تیز نظر دُور سے مُردار کو دَیکھ لیتی ہے، مَضبوط چونچ گوشت نوچنے میں مدد دیتی ہے اور چوڑے پر لاشوں کے اوپر منڈلانے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا معدہ انتہائی تیزابیت رکھتا ہے، جو نقصان دہ بیکٹیریا کو فوراً ختم کردیتا ہے۔ یہ سب خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ گِدھ کو کسی مقصد کے بغیر پیدا نہیں کیا گیا۔
بدقسمتی سے دنیا کے کئی حصوں میں گِدھوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ زہریلی دوائیں، خاص طور پر مویشیوں میں استعمال ہونے والی کچھ ادویہ ہیں، جو مُردار کے ذریعے گِدھ کے جسم میں داخل ہوکر اسے ہلاک کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور انسانوں کی منفی سوچ بھی اس کمی کا سبب بن رہی ہے۔ لوگ گِدھ کو بے فائدہ سمجھ کر اس کی حفاظت کو نظرانداز کردیتے ہیں۔
جہاں گِدھوں کی تعداد کم ہوئی ہے، وہاں اس کے منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض ممالک میں گِدھوں کے ختم ہونے کے بعد آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، کیونکہ مُردار کھانے والا کوئی اور موجود نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ریبیز جیسی خطرناک بیماری پھیلی، جس سے ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گِدھ کا وجود صرف فطرت ہی نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ قدرت کی ہر مَخلوق کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کی گئی ہے۔ کسی جاندار کو محض ظاہری شکل یا عادت کی بنیاد پر حقیر سمجھنا درست نہیں۔ گِدھ اگرچہ شکار نہیں کرتا اور مُردار کھاتا ہے مگر یہی اس کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ وہ وہ کام انجام دیتا ہے جسے کوئی اور نہیں کرسکتا۔
آج کے دور میں ماہرینِ ماحولیات گِدھ کو “قدرتی صفائی کرنے والا” (Nature’s Cleaner) کہتے ہیں۔ یہ پرندہ بغیر کسی خرچ کے، بغیر کسی مشین کے، ماحول کو صاف رکھتا ہے۔ اگر انسان کو یہی کام خود کرنا پڑے تو اس پر اربوں روپے خرچ ہوں اور پھر بھی وہ اتنی مؤثر صفائی نہ کرسکے جتنی گِدھ سرانجام دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ گِدھ کے بارے میں اپنی سوچ بدلیں، اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ زہریلی ادویہ کے استعمال پر پابندی، جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا اس سلسلے میں نہایت ضروری ہے۔ اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بتایا جائے کہ گِدھ بے کار نہیں بلکہ ہمارے ماحول کا محافظ ہے۔
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ گِدھ قُدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ خاموشی سے، بغیر کسی صلے کے، دنیا کی صفائی میں مصروف رہتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک صحت مند اور محفوظ دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں گِدھ جیسے جانداروں کی قدر کرنی ہوگی، کیونکہ فطرت کا ہر نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پورا نظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔

Guardian of the Environment.Vulture