انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
وادی تیراہ اس وقت شدید برف باری کے باعث ایک سنگین انسانی بحران کا منظر پیش کررہی ہے، جہاں زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ پہاڑی راستے بند، رابطے منقطع ہیں اور لوگ کئی دنوں سے دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں بلکہ لوگوں کے حوصلے بھی ٹوٹتے جارہے ہیں۔ سردی کی شدت اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی نے اس علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا ہے، جہاں ہر شخص خود کو بے بس محسوس کررہا ہے۔ برف کے پہاڑوں نے نہ صرف سڑکوں کو نگل لیا ہے بلکہ امید کے راستے بھی مسدود کردیے ہیں، کیونکہ نہ تو کسی قسم کی بروقت امداد پہنچ رہی ہے اور نہ ہی صورت حال بہتر ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور باہر نکلنا زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف بن چکا ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جن کے گھروں میں بیمار افراد موجود ہیں۔ مریض اسپتال نہیں پہنچ سکتے، بچے تعلیم سے محروم ہیں اور بزرگ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جو صرف اللہ کے سہارے بیٹھے ہیں۔
سب سے زیادہ دردناک پہلو یہ ہے کہ علاقے میں خوراک کی قلت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور گھروں میں موجود ذخائر قریباً ختم ہوچکے ہیں۔ آٹا، چاول، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء ناپید ہوچکی ہیں جب کہ دکانیں خالی پڑی ہیں اور سپلائی لائن مکمل طور پر منقطع ہے۔ کئی خاندان صرف ایک وقت کا کھانا کھانے پر مجبور ہیں اور بعض گھروں میں تو کئی دنوں سے چولہا نہیں جلا، جس سے بچوں اور خواتین کی صحت پر انتہائی منفی اثرات پڑرہے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ جو لوگ برف سے بچنے کے لیے علاقہ چھوڑنا چاہتے ہیں، ان کے پاس نہ گاڑیاں ہیں، نہ ایندھن اور نہ ہی محفوظ راستے۔ کئی خاندان کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں اور نہ ہی ضروری سامان، جس کی وجہ سے شدید سردی میں ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے خاص طور پر زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور انہیں کسی قسم کی فوری مدد دکھائی نہیں دے رہی۔
ان حالات میں سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ ایک تین سالہ معصوم بچے کی موت ہے، جو شدید سردی اور طبی سہولت نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک بچے کی موت نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا اعلان ہے، جس نے ایک بے گناہ زندگی کو بچانے کے لیے بروقت قدم نہیں اٹھایا۔ اس بچے کی موت ہر حساس دل کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ آخر ہم کب تک ایسے سانحات کو خاموشی سے قبول کرتے رہیں گے۔
یہ بچہ کسی سیاسی جماعت کا ووٹر نہیں تھا، نہ کسی طاقتور خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور نہ ہی اس کی آواز کسی ایوان تک پہنچ سکتی تھی۔ وہ صرف ایک عام پشتون خاندان کا فرد تھا، جس کی زندگی کی قیمت شاید ہمارے اجتماعی شعور میں کچھ بھی نہیں سمجھی گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک جان پورے معاشرے کے ضمیر سے بھی زیادہ قیمتی تھی، جسے ہم نے بے حسی سے کھودیا۔
وادی تیراہ کے لوگ ہمیشہ سے ریاست کے وفادار رہے ہیں، قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا سب کچھ لُٹایا ہے، مگر آج یہی لوگ سب سے زیادہ تنہا اور بے یارومددگار نظر آرہے ہیں۔ ان کے گھروں پر گولیاں چلیں، بازار اُجڑ گئے، مگر انہوں نے ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا۔ آج جب انہیں حقیقی مدد کی ضرورت ہے تو وہی ریاست انہیں فراموش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب خیبر پختون خوا کے عوام اس قدر مشکلات کا شکار ہیں تو ذمے دار ادارے کہاں ہیں؟ حکومت، انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور فلاحی ادارے آخر کیوں خاموش ہیں اور عملی اقدامات کیوں نظر نہیں آرہے؟ صرف بیانات اور وعدے زمینی حقائق نہیں بدل سکتے، بلکہ اس کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
میڈیا کی توجہ بھی اکثر بڑے شہروں تک محدود رہتی ہے، جہاں چھوٹی سی خبر بھی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے مگر دوردراز علاقوں کی خبریں صرف سوشل میڈیا تک ہی قید ہوکر رہ جاتی ہیں۔ وادی تیراہ کا المیہ بھی شاید چند دنوں میں فراموش کردیا جائے گا، جیسے ماضی میں کئی علاقوں کے سانحات بُھلا دیے گئے۔ یہ میڈیا کی ذمے داری ہے کہ وہ طاقتور کی نہیں بلکہ مظلوم کی آواز بنے۔
سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ نفرت کی سیاست کرنے والے لوگ، جو قوم، زبان اور صوبوں کے نام پر زہر پھیلاتے ہیں، ایسے مواقع پر مکمل خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کی زبانیں صرف نفرت کے وقت چلتی ہیں، مظلوموں کے لیے نہیں اور ان کے دل صرف مفادات کے لیے دھڑکتے ہیں انسانیت کے لیے نہیں۔ یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی اخلاقی کمزوری ہے۔
چاہے وہ کسی بھی صوبے یا شہر سے ہوں، جو لوگ مظلوموں کے درد پر خاموش رہتے ہیں، وہ بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ خاموشی بھی ایک جُرم ہے، خاص طور پر جب کسی معصوم کی جان جارہی ہو اور ہم صرف تماشائی بنے رہیں۔ تاریخ ہمیشہ بولنے والوں کو نہیں بلکہ خاموش رہنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔
یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے، یہ وقت ایک دوسرے پر الزام لگانے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ وادی تیراہ کے لوگ خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو زندہ رہنے کا حق ملے۔ یہ حق کوئی احسان نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے، چاہے وہ کسی بھی علاقے میں رہتے ہوں۔ اگر برف باری ایک قدرتی آفت ہے تو اس کے لیے منصوبہ بندی نہ کرنا انتظامی غفلت ہے، کیونکہ آفات کو روکا نہیں جاسکتا مگر ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ یہی مہذب ریاستوں کی پہچان ہوتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں برف باری معمول کی بات ہے، مگر وہاں سڑکیں چند گھنٹوں میں کھول دی جاتی ہیں، ایمرجنسی ٹیمیں متحرک ہوجاتی ہیں اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ وہاں ریاست شہری کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے جب کہ یہاں شہری کو ریاست کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
ہم یہاں ہر سال انہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں، مگر نہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ اصلاح کی۔ ہر سال نئے نعروں کے ساتھ آتے ہیں اور ہر سال نئے جنازے اٹھاتے ہیں، مگر پھر بھی ہمارے رویے تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ رویہ ہمیں ایک ایسے دائرے میں قید رکھے ہوئے ہے جہاں دکھ تو ہے مگر حل نہیں۔
وادی تیراہ کے لوگ اس وقت صرف دو چیزیں مانگ رہے ہیں: فوری امداد اور مستقل حل۔ عارضی ریلیف پیکیج مسئلے کا حل نہیں بلکہ صرف وقتی مرہم ہے جب کہ اصل زخم جوں کا توں رہتا ہے۔ مستقل حل کے بغیر ہر سال یہی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ دہرائی جاتی رہے گی۔
ان علاقوں میں مستقل بنیادوں پر سڑکیں، اسپتال، ایمبولینس سروس اور فوڈ سپلائی کا نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ریاست واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے دُوردراز علاقوں کو بھی ترقی کے دائرے میں لانا ہوگا۔ ورنہ ترقی صرف چند شہروں تک محدود رہے گی اور باقی ملک صرف مسائل کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مقامی سطح پر نوجوانوں کو تربیت دی جائے، تاکہ وہ قدرتی آفات میں ابتدائی امداد فراہم کرسکیں۔ ہر چیز کے لیے صرف مرکز کی طرف دیکھنا بھی کمزوری کی علامت ہے جب کہ مضبوط معاشرے وہ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں خود بھی کھڑے ہوسکیں۔ مقامی لوگوں کی شمولیت سے ہی حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔
علماء، اساتذہ، صحافی اور سماجی رہنماؤں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ان کی آواز عوام تک براہ راست پہنچتی ہے۔ صرف دعاؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی مظلوموں کا ساتھ دینا ہوگا، جیسے امدادی مہمات، عطیات اور حکام پر دباؤ ڈالنا۔ یہ سب مل کر ہی ایک مؤثر تحریک بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر چند پوسٹیں ڈال کر ضمیر کو مطمئن کر لینا کافی نہیں، کیونکہ اصل امتحان زمینی حقائق میں تبدیلی لانا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کتنے لوگوں تک واقعی مدد پہنچاسکتے ہیں اور کتنے بچوں کی زندگی بچاسکتے ہیں۔ اگر ہماری سرگرمی صرف الفاظ تک محدود رہی تو یہ بھی ایک قسم کی خود فریبی ہوگی۔
وادی تیراہ کا یہ المیہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے، جو ہمیں دکھا رہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم تقریروں میں بہت بڑے انسان ہیں، مگر عمل میں بہت چھوٹے، ہم جذبات میں بہت تیز ہیں مگر ذمے داری میں بہت کمزور۔ یہی تضاد ہمارے زوال کی اصل وجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ وادی تیراہ کے مظلوم عوام پر رحم فرمائے، ان کے دکھوں کو آسان کرے اور انہیں صبر کی طاقت عطا فرمائے اور جو لوگ اختیار میں ہونے کے باوجود خاموش ہیں، اللہ ان سے ضرور حساب لے گا، کیونکہ اختیار امانت ہے اور امانت میں خیانت سب سے بڑا گناہ ہے۔ مظلوم کی آہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
یہ وقت دعا کے ساتھ ساتھ عمل کا بھی ہے، کیونکہ اگر آج ہم نے وادی تیراہ کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل کسی اور وادی میں کسی اور معصوم کا جنازہ اٹھے گا۔ پھر ہم سوشل میڈیا پر چند آنسو بہا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیں گے، مگر حقیقت یہ ہوگی کہ ہم نے ایک اور زندگی کو خاموشی سے مرنے دیا ہوگا۔