اسد احمد
ایک چھوٹے سے گاؤں امن نگر میں، زندگی عام طریقے سے گزرتی تھی۔ لوگ محبت اور سکون کے ساتھ رہتے، اپنے کھیتوں میں کام کرتے، بچے کھیلتے اور بزرگ اپنی کہانیاں سناتے، لیکن کس کو پتا تھا کہ یہ امن محض کچھ عرصے کا مہمان ہے، اس کے بعد یہ مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ گاؤں میں ایک شخص آیا، جس کا نام زاہد تھا۔ زاہد کا دماغ عجیب، خطرناک اور بے رحم تھا۔ وہ خود کو سب سے ہوشیار اور طاقتور سمجھتا اور ہر کسی کو اپنے قدموں تلے روندنے کا شوق رکھتا تھا۔
شروع میں لوگ اسے نظرانداز کرتے رہے، مگر زاہد کے اندر کا جنون اس کی عقل پر غالب آگیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے حربوں اور جبر سے اس نے گاؤں پر قبضہ جمانا شروع کیا، آہستہ آہستہ گائوں میں خود کو مضبوط کرتا رہا اور ایک وقت گائوں کی سب سے زیادہ طاقت ور شخصیت بن گیا۔ اس کے پاس بدمعاشوں کا ٹولہ تھا، جو بھی اس کے راستے میں آتا، اسے مارا جاتا یا دھمکیاں دی جاتیں۔ زاہد کا غرور حد سے تجاوز کر گیا تھا اور وہ ہر روز گاؤں والوں کے لیے نئے عذاب لے کر آتا۔
زاہد لوگوں کے سامنے اچھا اور نیک بننے کی کوشش کرتا، لیکن اس کی بے رحمی صرف الفاظ تک محدود نہیں تھی۔ وہ لوگوں کے کھیتوں سے فصلیں چھین لیتا، جانور ہڑپ کرلیتا اور ان کے گھروں پر قبضہ کرکے انہیں بے بس کردیتا۔ غریبوں سے گھر واپس دینے کے بدلے منہ مانگے پیسے بٹورتا۔ عورتیں اور بچے اس کے ظلم کے سامنے بے بس رہ جاتے اور بزرگ بس خاموشی سے اپنی آنکھوں میں آنسو روک لیتے۔ گاؤں کے ہر فرد نے اپنے دل میں زاہد کے خلاف نفرت کی ایک دیوار بنالی تھی، لیکن کوئی اس کے سامنے کھڑا نہ ہوسکا۔
وقت گزرتا گیا اور زاہد کی طاقت اور ظلم بڑھتا گیا۔ اس نے گاؤں کے تالاب کا پانی بند کردیا، لوگوں کے کھانے کے ذخائر چھین لیے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لوگوں کو مرکزی چوک میں جمع کرکے ذلیل کیا۔ عورتیں روتی، بچے چیختے اور بزرگ اپنی بے بسی پر نوحہ کناں رہتے۔ گاؤں کا ہر لمحہ خوف اور اذیت میں گزرتا اور زاہد خود کو دیوتا سمجھتا۔
ایک دن تو اس نے ظلم کی انتہا ہی کرڈالی۔ ایک بیوہ خاتون کو بھرے گاؤں میں خوب ذلیل کیا اور اُسے بے گھر کرکے اُس کے گھر پر قابض ہوگیا۔ کسی نے بھی اُس بیوہ اور اُس کے بچوں کے لیے آواز بلند نہیں کی۔ اُس کے غنڈوں نے بیوہ کے خاتون سے بے پناہ بدتمیزی بھی کی۔
یہ واقعہ وقار اور اُس کے دوستوں کے دلوں پر گہری چھاپ چھوڑ گیا۔ وقار گائوں کا سُلجھا ہوا اور بہادر لڑکا تھا۔ اُس کے دوست بھی زاہد کے ظلم سے نالاں تھے۔ وقار کو اُس کی والدہ ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے سے روکے رکھتی تھیں۔ تاہم اس بار وقار اور اُس کے دوستوں نے زاہد کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے گاؤں کے کچھ بہادر لوگوں کو اکٹھا کیا۔ ظلم کی انتہا نے اُن کے دلوں میں غصے کی آگ بھڑکا دی تھی۔ وقار کی جانب سے منعقدہ ایک خفیہ اجلاس میں جمع ہوئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب بس ہوا، اب زاہد کے ظلم کا خاتمہ لازم ہے۔ وقار اور اُس کے دوستوں سمیت ہر کسی نے عزم کرلیا کہ مل کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے ہی ظلم ختم ہوگا۔
اگلی صبح، وقار اور اُس کے دوست، گاؤں کے لوگ چپکے سے اپنے اپنے ہتھیار و اوزار لے کر مرکزی چوک کی طرف بڑھے۔ زاہد جیسے ہی اپنی سواری میں میدان کی طرف نکلا، وہ حیران رہ گیا کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے تھے۔ اس نے دھمکیاں دیں، چلایا، مگر اس کے الفاظ اب اثر نہیں کررہے تھے۔ گاؤں کے لوگ اس کے خلاف متحد تھے۔
زاہد کی طاقت ختم ہونے لگی، اس کی دھمکیاں بے اثر ہوگئیں اور اس کا غرور ٹوٹنا شروع ہوگیا۔ گاؤں والے اس کے ارد گرد جمع تھے اور ہر شخص نے اس کے ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ وہ اب وہی پاگل اور جنونی شخص تھا جس نے کبھی گاؤں پر راج کیا تھا، مگر اب وہ سب کے سامنے بے بس اور تنہا تھا۔ زاہد کی آنکھوں میں خوف اور حیرت کے آثار واضح تھے اور وہ جان گیا تھا کہ اب اس کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔
گاؤں کے لوگوں نے اس کے قبضے سے اپنے کھیت، تالاب اور گھروں کو واپس لے لیا، اس کے پالے ہوئے غنڈوں کو خوب مارا۔ جو کچھ زاہد نے چھینا تھا، وہ سب واپس آیا۔ گاؤں کی زمین، پانی اور انسانیت دوبارہ اپنے مقام پر آ گئی۔ زاہد اب صرف ایک عبرت کا نشان بن کر رہ گیا اور اس کی کہانی نسلوں تک سنائی جانے لگی تاکہ ہر بچہ اور بزرگ یہ سیکھے کہ ظلم کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
زاہد کی طاقت ٹوٹ چکی تھی، اس کا غرور مٹ چکا تھا۔ دیہات کے لوگ اب آزاد تھے اور ہر دل میں یہ یقین تھا کہ ظلم کے خلاف ایک ہو کر لڑنا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو شخص اپنے غرور اور جنون میں دوسروں پر ظلم کرتا ہے، وہ آخرکار تنہا اور بے بس ہوجاتا ہے۔ زاہد کا انجام عبرت ناک تھا، وہ جس نے دوسروں کی زندگی تباہ کی، وہ آخرکار خود ہی تباہ ہو گیا۔ گاؤں امن نگر کے لوگ اب نہ صرف آزاد تھے بلکہ ایک نئی روشنی، اتحاد اور محبت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے لگے۔