مہروز احمد
یہ داستان عربی سے ماخوذ ہے، جسے اردو قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ یہ مزاحیہ اور دلچسپ ہونے کے ساتھ سبق آموز بھی ہے۔
محلے میں حاجی کرم دین اپنے نام سے زیادہ اپنی کنجوسی کی وجہ سے مشہور تھے۔ اللہ نے دولت دی تھی، کاروبار خوب چلتا تھا، بینک بیلنس بھی کم نہ تھا، مگر دل ایسا تنگ کہ جیسے سوئی کے ناکے میں بند ہو۔ شادی کے بعد لوگوں نے سوچا تھا کہ شاید اب طبیعت میں نرمی آ جائے گی مگر یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہو گئی۔ حاجی صاحب کو کھانوں میں صرف ایک ہی چیز پسند تھی: دال۔ نا گوشت، نا سبزی، نا پلاؤ، نا قورمہ۔
صبح دال، دوپہر دال، رات دال… بلکہ کبھی کبھی تو بچی ہوئی دال کو پانی ملا کر اگلے دن کی نئی دال بنادی جاتی۔ بیوی شروع شروع میں خاموش رہی۔ سوچا، شوہر ہے، وقت کے ساتھ بدل جائے گا۔ مگر مہینے گزرتے گئے، دال کے سوا کچھ نہ بدلا۔ رنگت زرد پڑنے لگی، جسم کمزور ہونے لگا اور آنکھوں میں وہ چمک باقی نہ رہی جو شادی کے ابتدائی دنوں میں تھی۔ جب کبھی ہمت کر کے کہتی: آج کچھ سبزی بنا لیں؟
تو جواب آتا: سبزی فضول ہے، پیسے کا ضیاع!
گوشت کا نام لیتی تو گویا قیامت آ جاتی۔
گوشت بیماریاں پھیلاتا ہے! دال میں ساری غذائیت ہے!
حاجی صاحب دال کے ایسے فوائد گنواتے کہ لگتا اگر دال بول سکتی تو خود بھی شرما جاتی۔
ایک دن بیوی اپنے میکے گئی۔ ماں نے چہرہ اُترا دیکھا تو چونک گئی، بھائیوں نے کمزوری محسوس کی۔ بہت پوچھنے پر آنسو بہا کر ساری داستان بیان کردی۔
بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر بڑے بھائی نے مسکرا کر کہا: فکر نہ کرو، اس دال کا علاج ہمارے پاس ہے۔
واپسی پر بہن کو ایک نیند کی گولی دی اور ہدایت کی کہ شوہر کے کھانے میں ملا دینا۔ اس رات حسبِ معمول دال بنی۔ حاجی صاحب نے مزے لے لے کر کھائی اور کچھ ہی دیر میں گہری نیند میں چلے گئے۔
ابھی رات کا سناٹا پھیلا ہی تھا کہ بیوی کے بھائی آگئے۔ حاجی صاحب کو کفن میں لپیٹا گیا، چارپائی اٹھاکر ایک اندھیرے کمرے میں رکھ دی گئی۔ ماحول ایسا کہ خود بہادر آدمی بھی کانپ جائے۔
کچھ دیر بعد حاجی صاحب کی آنکھ کھلی۔ خود کو سفید کپڑے میں لپٹا دیکھا تو سانس رک گئی۔ انا للہ… لگتا ہے میں مر گیا!
اسی لمحے دو سائے نمودار ہوئے۔ سخت آواز میں سوال ہوا: من ربک؟
کانپتی آواز میں جواب دیا: ربی اللہ۔ ما دینک؟ دین الاسلام۔ من نبیّک؟ محمد ﷺ۔ اب اچانک ایک عجیب سوال آیا: دنیا میں کیا کھاتے تھے؟ حاجی صاحب نے فخر سے کہا: میں تو صرف دال کھاتا تھا!
آواز گونجی: کیا اللہ نے صرف دال ہی دی تھی؟ کیا اس نے نہیں فرمایا کہ پاکیزہ رزق میں سے کھاؤ پیو؟ پھر تم نے تنگی کیوں کی؟ تم نے کفرانِ نعمت کیا ہے۔ رب تعالیِٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کی ہے۔ تم جہنم کے سزاوار ہو۔ یہ سنتے ہی حاجی صاحب کی خوف سے چیخیں نکل گئیں اور وہ بے ہوش ہوگئے۔
جب آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر پایا۔ بدن میں شدید درد تھا۔ سامنے بیوی کھڑی تھی۔
کانپتی آواز میں بولے: میں… میں زندہ ہوں؟
بیوی نے معصومیت سے کہا: جی، زندہ ہیں۔ ٹھہریے، میں دال گرم کرکے لاتی ہوں۔
یہ سنتے ہی حاجی صاحب ایسے اچھلے جیسے سانپ نے ڈس لیا ہو۔ نہیں! نہیں! دال نہیں!
پھر ہانپتے ہوئے بولے: دال کا عذاب بہت سخت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے دیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو۔ آج گوشت آئے گا، سبزی آئے گی، جو دل چاہے پکے گا!
اس دن کے بعد محلے میں صرف ایک ہی بات مشہور ہوئی: حاجی کرم دین بدل گئے ہیں۔
اب دال بھی بنتی تھی، مگر اکیلی نہیں اور بیوی کے چہرے پر پھر سے وہی زندگی لوٹ آئی تھی۔